جوش ملیح آبادی اور ڈاکٹر مقصود جعفری : ایک روحانی خواب!!!

0
11
ڈاکٹر مقصود جعفری
ڈاکٹر مقصود جعفری

شاعرِ ہفت زباں اور عالمی شہرت یافتہ دانشور ڈاکٹر مقصود جعفری کو ہم نے اپنے اسلام آباد کے گھر میں، ہمارے عظیم نانا اور بابا حضرتِ جوش ملیح آبادی سے نیازمندی کے لیے تشریف لاتے بارہا دیکھا، اور اس زمانے میں بھی دیکھا، جب آمرِ وقت جنرل ضیاء الحق کے دورِ ابتلا میں حضرتِ جوش کی فکر و شعور کو پابندِ سلاسل کیا جا رہا تھا۔ جوش صاحب کو ریڈیو اور ٹیلی ویڑن سے بلیک لسٹ کردیا گیا تھا۔ خفیہ ایجنسی کے اہلکار گھر کے باہر تعینات تھے، جو بابا کے پاس آنے والے احباب کے نام نوٹ کیا کرتے تھے۔ بابا کے قریبی حلقوں کے احباب نے گھر آنا بند کردیا تھا کہ کہیں ہم بھی زیرِ عتاب نہ آ جائیں۔ ایسے عاقبت نا اندیش لوگ دوست نہیں بلکہ ابن الوقت ہوتے ہیں۔ ایسے گھٹن زدہ ماحول میں جب ہمارے بابا تنہائی کا شکار ہو کر کہہ رہے تھے:
کس کو آتی ہے مسیحائی، کسے آواز دوں
بول! اے خونخوار تنہائی، کسے آواز دوں
اس پْر آشوب دور میں چند احباب ایسے بھی تھے جو کسی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے، بابا کی اجاڑ شاموں میں ان کی محافل میں باقاعدگی سے تشریف لایا کرتے تھے۔ ان میں ضیاء الحق کی کابینہ کے سابق وفاقی وزیر برائے دفاع میر علی احمد خان تالپور، حفیظ الرحمان اور پروفیسر ڈاکٹر مقصود جعفری صاحب ہر دوسرے تیسرے دن تشریف لایا کرتے تھے۔ ڈاکٹر مقصود جعفری نے مجھے ایک ملاقات میں بتایا کہ ایک دن میں جوش صاحب سے ملنے ان کے دولت کدے پر گیا، تو ایجنسی کے لوگ حسبِ معمول وہاں موجود تھے۔ ڈاکٹر صاحب کو دیکھ کر کہا کہ اچھا آپ بھی تشریف لاتے ہیں، ڈاکٹر صاحب نے بھی انہیں جواب دیا کہ جی ہاں میں بھی آتا ہوں، میرا نام بھی نوٹ کرلیں اور ضیاء الحق تک پہنچا دیں۔ ڈاکٹر مقصود جعفری بتاتے ہیں کہ ایک شام جب میں جوش صاحب سے ملنے گیا، تو وہ ٹیرس پر تخت پر براجمان تھے اور بہت خاموش و اداس تھے۔ کہتے ہیں کہ میں نے وہ سکوت توڑا اور پوچھا کہ حضور، کیوں خاموش ہیں؟ تو انہوں نے کہا، بہت غم ہے، بہت غم ہے۔ اور پھر میر تقی میر کے شعر کا یہ مصرعہ پڑھا:
جی کا جانا ٹھہر گیا ہے، صبح گیا، یا شام گیا
سن 1972 میں جب حضرت جوش کراچی سے اسلام آباد ایک مشاعرے کی صدارت کے لیے تشریف لائے، تو اس زمانے میں نوجوان شعراء کو بھی کلام سنانے کے لیے مدعو کیا گیا تھا، جن میں ڈاکٹر مقصود جعفری بھی شامل تھے۔ مشاعرے کے منتظمین نے مقصود جعفری صاحب سے کہا کہ جوش صاحب تشریف لا رہے ہیں، کچھ اشعار ان کے لیے بھی کہہ دیجئے گا۔ ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں کہ میں ریلوے انسٹیوٹ ہال کے لان میں ٹہلنے لگا، کچھ کہنے کے لیے موڈ بنا رہا تھا، تو ایک قطعہ کہہ دیا۔ ڈاکٹر صاحب بتاتے ہیں کہ ان دنوں جوش صاحب کی خود نوشت سوانح حیات یادوں کی برأت پر حکومت نے پابندی عائد کر رکھی تھی، تو اس حوالے سے جب میں نے قطعہ میں یادوں کی برات کا تذکرہ کیا، تو خوب داد ملی۔ وہ قطعہ یہ تھا:
ڈوبے ہوئے مستی میں ہیں الفاظ و معانی
میخانہء ہستی پہ گھٹا چھائی ہوئی ہے
یہ بزمِ طرب ہے کہ کھنکتے ہوئے ساغر
جوش آئے کہ یادوں کی برأت آئی ہوئی ہے
ڈاکٹر مقصود جعفری صاحب بتاتے ہیں کہ جب میں نے یہ قطعہ پڑھا، تو ہال سے سامعین کی طرف سے واہ واہ کی آوازیں بلند ہوئیں۔ اس پر جوش صاحب میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ ہاں میاں، پھر سے سناؤ، اور پھر مجھے شاباش دی۔ ڈاکٹر مقصود جعفری صاحب کہتے ہیں کہ جب مشاعرہ ختم ہوا، تو ایک معروف صحافی اور ایک شاعر، جو آج کے دور میں بھی موجود ہیں، مجھ سے کہنے لگے کہ تم نے جوش صاحب پر قطعہ لکھ دیا، وہ تو ملحد ہیں اور آپ گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب بتاتے ہیں کہ میں جب گھر آیا اور رات ہوچکی تھی، تو مجھے گمان ہوا کہ شاید مجھ سے واقعی گناہ سرزد ہوگیا ہے، لہذا اسے ضائع کر دیتا ہوں۔ پھر سوچا کہ صبح کر دوں گا۔ اسی اثناء میں ان کی آنکھ لگ گئی اور خواب میں دیکھا کہ چار انتہائی خوبصورت نوجوان سونے کے تاروں سے کچھ لکھ رہے ہیں۔ تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کون لوگ ہیں اور یہ کیا لکھ رہے ہیں؟ تو ان نوجوانوں نے بتایا کہ ہم فرشتے ہیں اور ہمیں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ سونے کے تار سے ہم جوش ملیح آبادی کا تازہ کلام لکھ کر جنّت میں تقسیم کرتے ہیں، جب سے جوش نے امام حسین پر مرثیہ لکھا ہے وہ اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہوا ہے۔ میں نے صبح اپنے والدِ گرامی تحسین جعفری صاحب کو یہ خواب سنایا، تو انہوں نے کہا کہ جوش کا مرثیہ حسین اور انقلاب پڑھو، یہی مرثیہ لاجواب رثائی تخلیق ہے اور جوش کی بخشش کیلئے کافی ہے۔
ڈاکٹر مقصود جعفری صاحب نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں نے جو قطعہ جوش صاحب کے لیے پڑھا، مجھے اْس پر کوئی ندامت نہیں بلکہ باعثِ صد افتخار ہے۔ اس روحانی خواب کا ذکر ڈاکٹر مقصود جعفری صاحب نے اپنے اردو کالموں کی کتاب چراغِ افکار میں جوش کی باتیں کے عنوان سے ایک مضمون میں کیا ہے۔ میری کتاب جوش ملیح آبادی: ملیح آباد سے اسلام آباد تک میں بھی میں نے اس واقعہ کو قلم بند کیا ہے۔ ڈاکٹر مقصود جعفری نے مزید کہا کہ کیا جوش کی بخشش کے لیے یہ شعر کافی نہیں:
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here