نیکی ضرور کیجیے مگر بھلائی کی توقع مت رکھیے!!!

0
10

کچھ لوگ دوسروں کی زندگی آسان بناتے بناتے اپنی مشکلات کا ذکر کرنا بھول جاتے ہیں ان کے ہاتھ سب کے لیے اٹھتے ہیں، ان کا وقت سب کے کام آتا ہے، مگر جب وہ خود تھک جاتے ہیں تو ضروری نہیں کہ کوئی ان کی خاموشی میں چھپی مدد کی پکار سن سکے۔ گزشتہ دنوں ہسپتال کی راہداری میں ایک عمر رسیدہ خاتون کو دیکھا جن کے ہاتھ میں دواؤں کی پرچی تھی اور نگاہیں دروازے پر جمی تھیں۔ نرس نے پوچھا کہ آپ کے ساتھ کوئی نہیں آیا؟ تو انہوں نے دھیرے سے کہا کہ سب مصروف ہیں بیٹی، اور پھر چہرہ پھیر لیا۔ ان کے پاس دوا کے پیسے تو تھے، مگر وقت دینے والا کوئی نہ تھا۔ یہ خیال آیا کہ جنہوں نے دوسروں کے لیے اپنی مصروفیات چھوڑ دی ہوں، ان کا انتظار کتنا تکلیف دہ ہوتا ہوگا۔
19اکتوبر، نگہداشت اور معاونت کا عالمی دن، ہمیں مدد کے ضرورت مند انسانوں کے ساتھ ساتھ ان کے خدمت گزاروں کی زندگی پر بھی غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ نگہداشت کسی ایک جنس، رشتے یا پیشے تک محدود نہیں ہے بلکہ جہاں کوئی انسان دوسرے کی ضرورت کے لیے اپنا وقت، محنت اور توجہ دیتا ہے، وہیں خدمت کا رشتہ قائم ہوتا ہے۔ یہ خدمت کبھی ماں کی بے خواب آنکھوں میں دکھائی دیتی ہے اور کبھی باپ کی مسلسل محنت میں جھلکتی ہے۔ کبھی بیٹا بیمار والدین کو ہسپتال لے جاتا ہے اور کبھی بیٹی ان کی تیمارداری کرتی ہے۔ کبھی شوہر شریک حیات کا سہارا بنتا ہے اور کبھی بیوی اس کی دشواریاں بانٹتی ہے۔ بہن، بھائی، دوست اور پڑوسی بھی ایسے وقت میں نگہبان بن جاتے ہیں جب اپنائیت عملی ذمہ داری مانگتی ہے۔
اسی دائرے میں ڈاکٹر، نرسیں، تیماردار، گھریلو معاونین، امدادی کارکن، رضاکار اور وہ سب لوگ شامل ہیں جو بیماروں، بزرگوں، بچوں اور معذوری کے ساتھ زندگی گزارنے والے افراد کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ کسی کی خدمت خاندانی محبت سے جنم لیتی ہے اور کسی کی پیشہ ورانہ ذمہ داری سے، لیکن دونوں صورتوں میں خدمت کرنے والا انسان ہوتا ہے مشین نہیں۔ المیہ تب پیدا ہوتا ہے جب ہم کسی کی مستقل موجودگی کو اس کی مجبوری سمجھ لیتے ہیں اور جو ہمیشہ دستیاب رہے، اس سے مزید توقعات وابستہ کر لیتے ہیں۔ جب وہ تھکن بتاتا ہے تو ہم اسے فرض یاد دلاتے ہیں اور جب وہ وقفہ مانگتا ہے تو متبادل ڈھونڈنے کے بجائے اسی کو قائل کرنے لگتے ہیں، یوں اس کی اپنی ضروریات پیچھے رہ جاتی ہیں۔
اس رویے کو بدلنے کے لیے تعریف سے آگے بڑھنا ہوگا۔ خاندانوں کو نگہداشت کی ذمہ داریاں آپس میں بانٹنی چاہئیں، اداروں کو کارکنوں کے آرام اور احترام کا خیال رکھنا چاہیے، اور حکومتوں کو نگہداشت پانے والوں کے ساتھ ساتھ خدمت فراہم کرنے والوں کی معاونت کو بھی اہمیت دینی ہوگی۔ مدد مانگنا ناشکری نہیں ہے اور آرام کرنا ذمہ داری سے فرار نہیں ہے۔ اسلام ہمیں نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی تعلیم دیتا ہے، لہٰذا خدمت گزار کی تھکن کو سمجھنا اور اس کی ذمہ داری بانٹنا بھی اسی تعلیم کا عملی اظہار ہے۔ کبھی اس شخص سے بھی پوچھیے جو سب کے لیے دوڑتا ہے کہ تم کیسے ہو، کیونکہ جو ہاتھ دوسروں کو سہارا دیتے ہیں، انہیں بھی محبت سے تھامنے والے ہاتھوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here