سوشل میڈیا ۔۔ ایک لمحہ فکریہ!!!

0
11
شبیر گُل

پاکستان اللہ رب العزت کا بہترین عطیہ ہے جس پر مالک و خالق کے بہت احسانات اور انعامات ہیں۔ پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے جس کی بنیاد کلمہ طیبہ ہے۔ الحمد للہ ہم رب کائنات کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں اس ملک میں پیدا کیا جہاں لاکھوں نعمتیں اور اچھے لوگ بستے ہیں۔ بلاشبہ ہمیں روز اول سے اچھی لیڈرشپ اور صالح حکمران نصیب نہ ہو سکے اس کے باوجود چار موسم اور سونا اگلتی معدنیات سے مالا مال خطہ عطا کیا جہاں پہاڑ، کھیت کھلیان، قیمتی دھاتیں، قیمتی پتھر، تیل، گیس، سونا، چاندی اور تانبے کے زیر زمین بڑے ذخائر موجود ہیں جو پاکستان کی معیشت کو یورپ کے برابر کھڑا کر سکتے ہیں۔ لیکن ہماری بدنصیبی ہے کہ کرپٹ، بدکردار اور رنگیلے مزاج حکمران مسلط ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالی نے ہمیں جنت نظیر وادیاں عطا کی ہیں۔ ہمارا بہترین کلچر اور تہذیب و تمدن ہے جس کی بنیاد حیاء اور غیرت ہے۔
سوشل میڈیا اور ٹی وی جیسی ایجاد سے پہلے شرم و حیاء اور خاندانی روایات تھیں، اخلاقی قدریں اور حسن معاشرت تھا۔ خاندانی نظام اور تہذیبی معاشرت تھی اور شرم و حیاء کا عالم یہ تھا کہ والدین کو اکٹھے ایک چارپائی پر بیٹھے نہیں دیکھا۔ کبھی اپنی ماں، پھوپھی، دادی اور نانی کو بغیر گھونگٹ نہیں دیکھا۔ مگر آج پاکستانی ڈراموں اور فلموں میں جس بے ہودگی اور بے حیائی کو پروموٹ کیا جا رہا ہے وہ ہمارا کلچر نہیں ہے۔ یہ کلچر ان بے غیرتوں کا کلچر ہے جو اپنی کزنز میرج تصور کے تو خلاف ہیں مگر باپ، بھائی، بہن اور ماں سے تعلق کو گناہ نہیں سمجھتے اور جانوروں سے تعلق رکھتے ہیں۔ آج جس یورپی تہذیب اور معاشرے کی مثالیں دیتے یہ نہیں تھکتے، ان کی اخلاقی اقدار اور انسانیت جو ہم غزہ اور فلسطین میں دیکھ چکے ہیں۔ آج ان کے جھوٹے ہیومن رائٹس اور معاشرے کی اخلاقی اقدار کا بھرم ٹوٹ چکا ہے۔ ان کی تہذیب و تمدن کا طلسم ٹوٹ چکا ہے، اکثر کی بیویاں اپنے بچوں کو چھوڑ کر بوائے فرینڈز کے ساتھ نکل جاتی ہیں اور ایک ہی وقت میں کئی مردوں سے ڈیٹ کرتی ہیں جنہیں یہ نہیں پتہ کہ ان کے بچے کا باپ کون ہے۔ جنہوں نے ہم پر تہذیبی جنگیں مسلط کی تھیں ان کی اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا ہے اور جب جب زبردستی کسی معاشرے میں بے حیائی اور بے غیرتی کو پھیلانے کی کوشش کی جائے گی تو وہاں معاشرے کا امن برباد ہو جایا کرتا ہے۔
قارئین کرام! پردہ حیاء کا وہ مینارہ ہے جو عورت کی عزت و ناموس میں اضافہ کرتا ہے۔ پردہ بے حیائی، بے غیرتی اور لفنگے کلچر کے سامنے بند ہے۔ پردہ غیرت اور بے غیرتی کے درمیان فرق ہے اور عزت و ناموس کے درمیان دیوار ہے۔ آج چند ہیرامنڈی کی داشتائیں اور بازار حسن کے دلال ہمارے کلچر اور ہماری اخلاقی روایات کے حصے بخرے ادھیڑنے پر مامور ہیں جنہیں بیرونی فنڈنگ کی جا رہی ہے۔ چند لفنگے اینٹیاں میرا جسم میری مرضی کی مہم چلا رہے ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ یہ جسم آپ کا ہے آپ اسے کتوں کو ڈالیں یا جانوروں کو ڈالیں مگر ہماری معاشرت اور تہذیبی کلچر کو داغدار نہ کریں اور ہماری اخلاقی روایات کی دھجیاں نہ اڑائیں۔ مذہبی اور سیاسی جماعتیں اس پر بھی توجہ فرمائیں، خصوصاً درباری مولانا اور درباری پیر صاحبان۔
میری حافظ قرآن آرمی چیف، وزیراعظم پاکستان اور ارباب اقتدار سے عرض ہے کہ یہ عہدے، یہ فیتے اور یہ ہٹو بچو مستقل نہیں ہیں۔ آپ نے اپنے منصب کا اور اپنے عہدے کا حساب دینا ہے۔ آج نہیں تو کل چھ فٹ کی قبر آپ کی منتظر ہے جہاں آپ کو اپنے کیے دھرے کا، اپنے عہدے اور منصب کا اور اپنے اعمال کا سامنا دینا ہوگا۔ کیا کبھی سوچا ہے کہ ہم رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا منہ دکھائیں گے؟ ہمارا المیہ ہے کہ ٹی وی اور میڈیا پر سیکولر لابی کا قبضہ ہے جو پیسے کے لالچ میں اپنے فرائض بھول چکے ہیں۔ جس طرح بے حیائی اور بے غیرتی کو پاکستانی ڈراموں میں دکھایا جا رہا ہے نہ یہ ہمارا کلچر ہے اور نہ ہی تہذیب۔ انگریزوں کے چند پالتو پردہ کے خلاف بکواس کرتے ہیں اور حجاب کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ قرآن کا مطالعہ کریں۔ اللہ رب العزت کے احکامات کا مذاق نہ اڑائیں اور اسلامی تہذیب و تمدن پر طعن و تشنیع نہ کریں۔ اگر انہیں ننگا ہونے کا اور بے حیائی پھیلانے کا زیادہ شوق ہے تو اپنی بچیوں کے کپڑے اتاریں یا انہیں ننگا کریں مگر اپنی بے غیرتی اپنے تک محدود رکھیں۔ ویسے بھی ماڈرن گھروندوں میں گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کا تصور رواج پا چکا ہے اور ایسے کنجر خانے نئے نئے ماڈرن بننے والوں کے گھروں میں بن رہے ہیں۔
صوفیہ ہاشمی لکھتی ہیں کہ
باپ نے بیٹی کا نام حرمت رکھا۔حرمت، مطلب عزت، احترام، تعظیم۔ ایک بہترین گھر، بہترین کھانا پینا، اکلوتی بیٹی، مطلب بیٹا نہیں ہے تو دونوں میاں بیوی مل کر بیٹی کی پرورش کرتے ہیں، بیوی اور بیٹی کو سختی سے پردے میں رہنے کا حکم ہے اور وہ باہر بازاروں میں گھوم پھر نہیں سکتی ہیں۔گھر میں کوئی غیر مرد داخل نہیں ہو سکتا۔ بیٹی کو پڑھنے کا شوق ہے لیکن باپ اسے آگے یونیورسٹی میں پڑھانا نہیں چاہتا۔ لیکن پھر تھوڑی چوں چراں کے بعد راضی ہو جاتا ہے اور شہر کی بہترین اور مہنگی یونیورسٹی جہاں لڑکے لڑکیاں ساتھ پڑھتے ہیں، وہاں بیٹی کا داخلہ کروا دیتا ہے۔
اب کوئی مجھے سمجھائے کہ اس سارے قصے میں باپ کہاں غلط ہے؟
کیوں اسے ایک منفی کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے، اس کا کنسرن صرف یہ ہے کہ جس بیٹی کا نام اس نے حرمت رکھا ہے وہ اپنے نام کی طرح عزت و احترام سے رہے۔ مجھے بس کوئی سمجھا دے کہ کیا باپ کی طرف سے جو حدود مقرر کی گئی ہیں، کیا وہ غلط ہیں۔ چلیں آگے چلتے ہیں۔ حرمت شرعی پردہ کرتی ہے، یونیورسٹی میں اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور مذاق مذاق میں ہی دو سہیلیاں بن جاتی ہیں جو دونوں آزاد خیال ہیں۔ ان میں سے ایک ایسی ہے کہ یونیورسٹی کے لڑکوں کو یوں دیکھتی ہے جیسے کوئی ترسا کٹا پانی کو دیکھتا ہے۔ دوسری وہ ہے جس کے پاس دو نمبری کی سب ٹرکس ہر وقت موجود ہوتی ہیں۔
حرمت جو کہ پڑھنے کا خواب لے کر یونیورسٹی آئی ہے، اس کی سہیلیاں پہلے تو اس کا شرعی پردہ ختم کروا دیتی ہیں یہ کہہ کر کہ اس ”تمبو ”میں تو کوئی تمہیں تلاش نہیں کر سکے گا۔
پھر اسے سکھاتی ہیں کہ لسٹ تیار کرو ایسی خوبیوں کی جو لڑکوں میں موجود ہوتی ہیں
اب آتے ہیں اصلی مدعے پر، ہمیں تو سمجھ آ رہی ہے کہ کیا غلط ہے کیا صحیح، لیکن ہم اپنی نوجوان نسل کو کیسے سمجھا پائیں گے جو یہ کہتی ہے کہ باپ سراسر غلط ہے۔ سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ اس ڈرامے سے آپ سبق کیا دینا چاہ رہے ہیں۔
پچھلے دنوں ایک پوڈکاسٹ نظروں سے گزری جس میں ثمینہ پیرزادہ اور ثانیہ سعید تھیں اور ثمینہ پیرزادہ کا سوال یہ تھا کہ آخر عورت اس گھرداری والی قید سے کب آزاد ہوگی؟ مطلب میری سمجھ سے باہر ہے کہ یہ یلغار کدھر سے آ رہی ہے؟ آخر اس طرح کے ڈرامے بنانے والوں اور اس طرح کے پوڈکاسٹ کرنے والوں کو فنڈنگ کون کر رہا ہے؟ غیر محسوس طریقے سے ہماری روایات، اقدار، ریت رواجوں اور اسلامی اقدار کو تباہ و برباد کیا جا رہا ہے اور ختم کیا جا رہا ہے لیکن کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے۔ غلط کو معاشرے میں ٹھیک جبکہ ٹھیک کو غلط ثابت کرنے پر باقاعدہ کام ہو رہا ہے اور انویسٹ کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر سیکولرز کا قبضہ ہو چکا ہے جن کا دور دور تک دین سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ سب کچھ پلاننگز کے ساتھ اور سوچی سمجھی سازش کے تحت ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا واحد سورس ہے جس کے ذریعے ہم اچھی روایات آنے والی نسلوں میں منتقل کر سکتے ہیں لیکن اسی سورس کو ہم نے غلط مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ نجانے اس ڈرامے کا اختتام کیا ہو یا آگے چل کر حرمت کی زندگی میں مزید کیا تبدیلیاں آئیں لیکن ابھی ایک ڈیویلپمنٹ ہو چکی ہے کہ وہ ایک غیر لڑکے جسے وہ جانتی بھی نہیں ہے، اسے کہہ چکی ہے کہ آپ مجھے اچھے لگتے ہیں اور ایسا اس نے اپنی سہیلیوں کے کہنے پر کیا ہے۔
یہ تو چلیں ڈرامہ ہے، اس سے کون کیا سیکھے گا وہ تو نظر آ رہا ہے لیکن اگر حقیقی زندگی میں دیکھیں تو آج کل والدین اپنے بچے بچیوں پر بہت بھروسہ کر کے انہیں یونیورسٹیوں میں بھیجتے ہیں اور بہت اچھا کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنے بچوں کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن کوئی ذی شعور ایسا ڈرامہ بھی بنائے کہ جس میں واضح پیغام موجود ہو کہ اگر آج کل کے بچوں کے والدین ان پر بھروسہ کرتے ہوئے انہیں اعلیٰ تعلیم کی غرض سے یونیورسٹیوں میں داخل کروا رہے ہیں تو بچوں کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے والدین کا مان، بھروسہ اور اعتماد قائم رکھیں اور کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے ان کے والدین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچے یا وہ ہرٹ ہوں۔ یونیورسٹی وہ مقام ہے کہ جہاں سے کامیابی چند قدم کے فاصلے پر آپ کی منتظر ہے، محبتوں اور دوستیوں کے چکروں میں پڑیں گے تو نہ منزل پر پہنچ سکیں گے اور نہ ہی اپنے بلند مقاصد کو حاصل کر سکیں گے۔ کتنے ہی ایسے واقعات ہیں کہ جب نوجوان لڑکے لڑکیاں فینٹسی میں پڑ جاتے ہیں تو ان کی تعلیم ادھوری رہ جاتی ہے اور پھر ساری زندگی کا پچھتاوا ان کا مقدر بن جاتا ہے۔ ڈرامے تو آپ کو اب کچھ نہیں سکھا پائیں گے لیکن ہم جیسے لوگ بولتے رہیں گے اور سمجھاتے رہیں گے، پھر نہ کہیے گا کہ ہم نے سمجھایا نہیں۔
قارئین کرام! ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم انفرادی طور پر کرپٹ اور بے ضمیر رہتے ہوئے معاشرے کو پاکیزہ معاشرہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ مسجد کی پہلی صف اور تکبر اولا کے ساتھ ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی، ہر سال عمرہ اور حج کی سعادت کے ساتھ رشوت اور لوٹ مار بھی جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ کمزور پر ظلم، بے انصافی اور طاقتور کو اندھا انصاف فراہم کرتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن جیسے دین فروش لٹیرے علماء کے لیکچر اور فرامین بھی سنتے ہیں، معاشرہ بے عمل دکاندار علماء کی وجہ سے بے حیائی کی طرف راغب ہے۔ ایسے علماء کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس نے علم دین اللہ تعالیٰ کی رضا کے علاوہ دنیاوی اور نفسانی اغراض کے لیے حاصل کیا، وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنا لیے۔ اللہ جل شانہ سورہ النور میں فرماتے ہیں کہ جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی اور فحاشی پھیلے، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے اور اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔ یاد رہنا چاہئے کہ بے حیائی پھیلانے والوں کا انجام عبرتناک ہے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہماری بیٹیوں کی عزت و حرمت کی حفاظت فرماے، معاشرے کو ننگی آنٹیوں اور فحاشی کے دلالوں سے محفوظ فرماے، وطن عزیز کو باحیاء ، صالح، باکردار اور ایماندار قیادت عطا فرماے اور ہماری تہذیب و تمدن کی حفاظت فرماے۔ آمین

 

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here