مڈٹرم الیکشن میں صرف سات دن باقی ہیں اور دونوں سیاسی جماعتوں، ڈیموکریٹ اور ری پبلکن کی انتخابی مہم اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ اپنے 53 سالہ قیام کے دوران ہم نے کبھی ایسا منظر نہیں دیکھا کہ 100 میں سے 35 نشستوں پر سینیٹ کا معرکہ گرم ہو اور ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز کی 26 نشستوں پر 3 نومبر کو مقابلہ ہونے جا رہا ہو۔ اگر صدر ٹرمپ اپنا توازن برقرار رکھتے اور نامناسب الفاظ کا استعمال نہ کرتے تو یہ شور و غوغا اس حد تک نہ بڑھتا اور نہ ہی پورے امریکہ کی ساکھ متاثر ہوتی۔ حال ہی میں انہوں نے مشی گن میں اپنی جماعت کے امیدوار کی حمایت کے دوران ایک نہایت بے تکا اور غیر مناسب بیان دیا۔ ان کے پاس عوام کو دینے یا بتانے کے لیے کچھ نہیں بچا، اسی لیے انہوں نے نامور فنکارہ نکی مناج کے بارے میں نامناسب الفاظ استعمال کیے اور انہیں اسٹیج پر آنے کی دعوت دی۔ اس ریلی میں ٹرمپ کے حامیوں نے تو خوشی کا اظہار کیا مگر لمحے بھر کے لیے ایسا محسوس ہوا جیسے ہم پاکستان میں ہوں اور مسلم لیگ ن کی مریم نواز خطاب کر رہی ہوں، حالانکہ انہوں نے بھی کبھی ایسے الفاظ استعمال نہیں کیے۔
اگلے ہی دن سابق صدر اوباما میشی گن میں سینیٹ کی مہم کے سلسلے میں اسٹیج پر آئے جہاں وہ مصری نژاد امیدوار عبدالالسید کی حمایت کر رہے تھے جو ری پبلکن کے مائیک راجرز کے مقابلے میں انتخاب لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں جو کچھ بھی کہا، آخر میں صدر ٹرمپ پر تنقید کے تیر چلا گئے۔ ٹرمپ کی جانب سے نکی مناج کی تعریف پر ان کا ردعمل امریکی عوام اور بین الاقوامی سیاست دانوں کی عزت و وقار کو بچانے کی ایک کوشش تھا۔ انہوں نے کہا کہ بطور قوم ہمیں اپنے اخلاقی معیار کو درست کرنے کی اشد ضرورت ہے اور یہ انتخابات امریکہ کی سمت درست کرنے کا بہترین ذریعہ بن سکتے ہیں۔
ٹرمپ کی یہ زبان سوشل میڈیا کی نئی نسل یعنی جین زی کی زبان تو ہو سکتی ہے لیکن 31 کروڑ امریکیوں کی نمائندگی نہیں کرتی۔ اس سے قبل بھی وہ اپنے ہر مخالف، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، کے لیے ایسی ہی گرتی ہوئی زبان استعمال کر چکے ہیں۔ سی این این کی صحافی کیٹلین کولنز کے لیے تضحیک آمیز جملے کسے گئے اور کانگریس وومن الہان عمر کے لیے انتہائی سخت الفاظ استعمال کیے گئے۔ ان کی تنقید کو محض شکایات قرار دیا گیا اور وہ ذاتیات پر اتر آئے۔ اس کے علاوہ الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز، ایانا پریسلی اور راشدہ طلیب کے لیے بھی اسی قسم کے الفاظ استعمال کیے گئے، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ کسی بھی ریپبلکن رہنما نے انہیں مشورہ دینے کی زحمت نہیں کی۔ ٹرمپ نے اپنے معیار کو اس حد تک گرا لیا ہے کہ انہیں جناب صدر کہتے ہوئے بھی شرم محسوس ہوتی ہے۔ گزشتہ 2 سال سے ان کی زبان سے جو لفاظی جاری ہے اس کا کوئی توڑ نہیں اور اگر یہی صورتِ حال رہی تو مزید 2 سال تک انہیں روکنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ یہاں کے تمام سیاست دان اور عہدیدار بالکل پاکستان کے نواز شریف اور عاصم منیر کے تحت کام کرنے والے جنرلوں اور عطاء تارڑ یا ثناء اللہ جیسے سیاست دانوں کی مانند نظر آتے ہیں۔
نیویارک میں گورنر کا انتخاب ہونے جا رہا ہے جہاں ٹرمپ کی پارٹی کے بلیک مین ناساؤ کاؤنٹی کے چیف ایگزیکٹو ہیں، جہاں ہم رہائش پذیر ہیں۔ اس حیثیت میں وہ عوام کے لیے بہت کچھ کر سکتے تھے لیکن وہ بجلی، گیس اور پانی کے بھاری بلوں کو روکنے میں ناکام رہے۔ یہاں پانی کی سپلائی کی 3 کمپنیاں ہیں اور تینوں کی بلنگ کی مدت اور طریقہ کار مختلف ہیں، جن کی وجہ سے فی گھر 50 ڈالر ماہانہ کا فرق آ جاتا ہے اور وہ اپنی من مانی کر رہی ہیں۔
ان کے مقابلے میں گورنر کی نشست کے لیے موجودہ گورنر کیتھی ہوکل میدان میں ہیں مگر ان کا ریکارڈ بھی کچھ کم خراب نہیں۔ نیویارک میں ٹول ٹیکس کی بھرپوچی ہے۔ پڑوسی ریاست نیوجرسی آنے جانے کے لیے لونگ آئی لینڈ اور کوئینز سے ایک طرفہ ٹول 35 ڈالر ہے جبکہ گاڑی کے ایندھن کے اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔ محض 30 میل کا فاصلہ طے کرنے میں بعض اوقات 3 گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ گورنر ہوکل نے گزشتہ سال سے 60 اسٹریٹ سے نیچے گاڑی لانے پر ٹریفک کے ازدہام کا ٹول بھی تقریباً 10 ڈالر کے قریب وصول کرنا شروع کر دیا ہے۔ اب ریڈ لائٹ کیمروں کی تنصیب میں بڑا اضافہ کیا گیا ہے اور ان کی تعداد 150 سے بڑھا کر 600 کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مین ہیٹن شہر میں رکاوٹوں کی وجہ سے جو برے حالات پیدا کیے گئے ہیں، ایسے حالات کسی بھی مہذب شہر میں دیکھنے کو نہیں ملتے، حالانکہ نیویارک کے چاروں اضلاع میں مقامی اور تیز رفتار ایکسپریس ٹرینیں 24 گھنٹے چلتی ہیں۔ چونکہ دونوں امیدوار ہی غیر تسلی بخش ہیں، اس لیے یہی کہا جا سکتا ہے کہ کیتھی ہوکل دوبارہ گورنر بن جائیں گی اور رہائشیوں کی جیبیں خالی ہوتی رہیں گی مگر حکمرانوں کو کوئی شرم نہیں آئے گی۔
اس الیکشن میں صدر ٹرمپ کی ناگفتہ بہ حرکات کی وجہ سے ری پبلکن پارٹی کی برتری ختم ہونے کا خدشہ ہے۔ اس وقت ان کے پاس 100 میں سے 53 نشستیں ہیں لیکن 3 نومبر کے بعد صورتِ حال برعکس ہو سکتی ہے۔ اسی طرح ہاؤس میں ری پبلکنز کے پاس 219 نشستیں ہیں جبکہ ڈیموکریٹس کے پاس 214 نشستیں ہیں، یعنی صدر ٹرمپ کو صرف 5 نشستوں کی فوقیت حاصل ہے۔ لیکن اس پر زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں، اگر ٹرمپ ہار بھی گئے تو وہ 20 جنوری تک نظام کو کافی نقصان پہنچا سکتے ہیں اور دسمبر 2028 تک ٹرمپ امریکہ کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ اندازہ کیجیے کہ فوج کے جنرل جارج نے ٹرمپ کو غدار تک کہہ دیا ہے۔ اس کے علاوہ مزید کیا لکھا جائے کہ ایک وہ زمانہ تھا جب صدر کا نام احترام سے لیا جاتا تھا، لیکن اب نیتن یاہو سے ان کے تعلقات نے اس مقولے کو سچ کر دکھایا ہے کہ ایک مچھلی پورے تالاب کو گندا کر دیتی ہے۔ اب یہ فیصلہ عوام پر ہے کہ وہ مچھلی کون ہے۔
یہ بھی بتاتے چلیں کہ اسرائیل میں بھی انتخابات 27 اکتوبر کو منعقد ہو رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ نیتن یاہو کو شکست ہوگی لیکن ہمارا اندازہ ہے کہ وہ جیت جائیں گے۔ امریکہ سے دوہری شہریت رکھنے والے یہودی بڑی تعداد میں اسرائیل جائیں گے اور چونکہ نیتن یاہو نے غزہ، لبنان اور شام کے کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے، اس لیے وہ اس حصے داری میں شریک ہوں گے۔ ممکن ہے کہ صدر ٹرمپ بھی وہاں موجود ہوں۔ ویسے بھی وہ اب امریکی رہنما کم ہی محسوس ہوتے ہیں۔ جون اوسوف نے درست کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کا بیانیہ جھوٹ پر مبنی ہے۔ دوسری جانب پاکستان سے برطانیہ میں تعلیم کی غرض سے جانے والے طلباء ، جن کی تعداد تقریباً 10 ہزار بتائی جاتی ہے، سیاسی پناہ حاصل کر رہے ہیں جس پر برطانوی حکومت شدید پریشان ہے۔
امریکہ کے بڑے شہر شکاگو میں، جہاں پاکستانیوں کی بڑی تعداد آباد ہے، شوکت خانم ہسپتال کے لیے 3 لاکھ 50 ہزار ڈالر کی عطیات کی اپیل کی گئی تھی۔ تاہم پاکستانیوں نے عمران خان کے نام پر کھلے دل سے حصہ لیا اور کل 7 لاکھ ڈالر کی رقم جمع کر دی۔ کیا اب بھی عاصم منیر اور ان کی قائم کردہ حکومت کو اس عوامی محبت سے انکار ہے؟ یہ لوگ ملک کے لیے مسائل کا سبب ہیں اور رہیں گے، جبکہ اسلام کی تعلیمات عام کرنے والے اپنا کام جاری رکھیں گے۔ اس سال ائمہ کرام نے ایک شاندار کنونشن منعقد کیا جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ امن، محبت اور رواداری کو فروغ دینا انتہائی ضروری ہے تاکہ مذہبی تعصب اور شدت پسندی کا خاتمہ کیا جا سکے۔













