مشرق وسطی میں نئی صف بندیاں: مکہ معاہدے میں ایران کی ممکنہ شمولیت!!!

0
5

مشرق وسطی میں نئی صف بندیاں: مکہ معاہدے میں ایران کی ممکنہ شمولیت!!!

جب ہم عالمی حالات پر نظر ڈالتے ہیں تو بالخصوص مشرق وسطی کی تیز تر بدلتی ہوئی صورتحال ہم تمام پاکستانیوں اور مسلمان تارکین وطن کے لیے گہری تشویش کا باعث بنتی ہے۔ حال ہی میں تہران میں ایک انتہائی اہم اور غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا جس میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے اعلی فوجی و سیاسی رہنما ایک ساتھ شامل ہوئے۔ اس تہران اجلاس کا بنیادی مقصد علاقے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کو کم کرنا اور یمن کے حوثی گروہ کے حملوں سے پیدا ہونیوالے بحران کا امن پسند حل تلاش کرنا ہے۔
سعودی عرب کی جانب سے وزیر دفاع اور ولی عہد کے بھائی، پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر، اور ترکی کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ کی ایک ساتھ تہران میں موجودگی عالمی سیاست میں ایک بڑا موڑ ظاہر کرتی ہے۔ یہ تہران سفر دراصل مکہ میں طے پانیوالے اس معاہدے کا نتیجہ ہے جس کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے یہ طے کیا تھا کہ کسی ایک ملک پر مسلح حملہ تمام اتحاد پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ حالیہ دنوں میں ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور دیگر حصوں پر حوثی ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد سعودی عرب کی معیشت اور شہری سفر شدید متاثر ہوئے ہیں۔ اس سے قبل ریاض نے حوثی حملوں سے نپٹنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے تہران کا رخ کیا تاکہ سفارتی راستوں سے معاملات حل کیے جا سکیں۔
تہران کے اس اہم اجلاس میں ایران کی قومی سلامتی کے اعلی حکام نے شرکت کی اور خطے کی سلامتی کو علاقائی ممالک کے ذریعے ہی برقرار رکھنے پر زور دیا۔ ایران کے نزدیک مشرق وسطی کے مسائل کی بنیادی وجہ بیرونی طاقتوں بالخصوص امریکہ اور اسرائیل کی مداخلت ہے۔ اسی دوران یمن کے حوثی گروہ کے مطالبات بھی سامنے آئے ہیں جن میں ناکہ بندی کا خاتمہ، تنخواہوں کی ادائیگی اور حملوں کا اختتام شامل ہے۔ تاہم امریکہ اور اسرائیل کی متوقع فوجی کارروائیوں کا خطرہ بھی بدستور موجود ہے، جس کے باعث خطے کا امن شدید داؤ پر لگا ہوا ہے۔
امریکہ میں مقیم پاکستانیوں اور مسلمان برادری کے لیے یہ تمام پیش رفت انتہائی حساس ہے۔ نیویارک میں رہتے ہوئے ہم محسوس کرتے ہیں کہ جب بھی مشرق وسطی میں امن کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو یہاں موجود تارکین وطن کی راتوں کی نیندیں حرام ہو جاتی ہیں۔ ہمارے کتنے ہی رشتہ دار اور دوست احباب سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک میں روزگار اور معاشی امور سے وابستہ ہیں، اور وہاں کسی بھی قسم کی جنگ یا بدامنی براہ راست ان کے مستقبل کو نقصان پہنچاتی ہے۔ اس کے علاوہ، امریکی اور اسرائیلی قیادت کے سخت فیصلوں کی صورت میں عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے سے لے کر امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں کے خلاف منفی تاثر اور اسلام فوبیا کے نئے رجحانات پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
پاکستانی برادری کے لیے ایک اور بڑا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان اس وقت دوہرے اور انتہائی نازک کردار میں موجود ہے۔ ایک طرف پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مصالحت کار کی حیثیت رکھتا ہے تو دوسری طرف وہ سعودی عرب کا قریبی دفاعی شریک بھی ہے۔ اگر بالفرض امریکہ اور ایران یا اسرائیل کے درمیان کوئی بڑا تصادم چھڑتا ہے تو پاکستان کے لیے اس سفارتی اور فوجی توازن کو برقرار رکھنا ایک کٹھن امتحان ہوگا۔ نیز، یورینیم کی افزودگی کے معاملے پر بھی تہران اور واشنگٹن میں گہرے اختلافات موجود ہیں، جس کی وجہ سے یہ طے کرنا مشکل ہے کہ آیا صرف علاقائی سفارت کاری ہی کسی بڑی جنگ کو روکنے کے لیے کافی ہوگی۔
نیویارک میں موجود مسلم کمیونٹی اس بات پر متفق ہے کہ مشرق وسطی کا امن محض چند ممالک کا معاملہ نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ اور عالمی تارکین وطن کی معاشی و جانی سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔ اسرائیل میں ہونیوالے حالیہ انتخابات اور ان کے نتائج خواہ کچھ بھی ہوں، خطے میں جاری سیاسی رقابت اور عسکری محاذ آرائی جلدی ختم ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ بحیثیت صحافی ہم یہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ بحران کا واحد حل مخلصانہ گفتگو، باہمی احترام اور خطے کے ممالک کے اتحاد میں مضمر ہے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں اور دیس و پردیس میں بسنے والے مسلمان پرامن زندگی بسر کر سکیں۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here