آزاد کشمیر انتخابات: خود ساختہ آزادی اور ترقی!!!

0
6
ماجد جرال
ماجد جرال

آزاد کشمیر کے انتخابات ایک بار پھر سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن گئے ہیں۔ حسبِ روایت پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی ایک دوسرے پر سخت تنقید کر رہی ہیں۔ الزامات کا تبادلہ جاری ہے اور ہر جماعت خود کو عوام کی حقیقی نمائندہ قرار دے رہی ہے۔ تاہم انتخابی مہم کے دوران ہونے والی یہ سخت لفظی جنگ اکثر انتخابات کے بعد مفاہمت اور سیاسی تعاون میں تبدیل ہو جاتی ہے، جسے عوامی سطح پر بعض لوگ نورا کشتی سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس تاثر نے عوام کے ایک حصے میں سیاسی عمل پر اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے۔
آزاد کشمیر قدرتی حسن، وادیوں، دریاؤں اور سیاحتی مقامات کی وجہ سے ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے، لیکن اگر ترقیاتی اشاریوں پر نظر ڈالی جائے تو صورتحال اتنی حوصلہ افزا نظر نہیں آتی۔ تعلیم، صحت، روزگار، بنیادی انفراسٹرکچر اور صنعتی ترقی جیسے شعبوں میں آزاد کشمیر کو آج بھی متعدد مسائل کا سامنا ہے۔ بہت سے علاقوں میں سڑکوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے، جدید طبی سہولیات محدود ہیں، جبکہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع انتہائی ناکافی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بڑی تعداد میں نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں پاکستان کے دیگر شہروں یا بیرون ملک جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ آزاد کشمیر کی ترقی کا معیار پاکستان کے کئی پسماندہ علاقوں سے زیادہ مختلف دکھائی نہیں دیتا۔ اگرچہ مختلف حکومتوں نے ترقیاتی منصوبوں کے دعوے کیے، لیکن ان کے نتائج عوام کی توقعات کے مطابق سامنے نہیں آ سکے۔ اربوں روپے کے منصوبوں کے اعلانات ضرور ہوتے ہیں، مگر ان کی بروقت تکمیل، شفافیت اور دیرپا اثرات پر ہمیشہ سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔
انتخابی جلسوں میں عوام سے بڑے بڑے وعدے کیے جاتے ہیں۔ کبھی روزگار، کبھی سیاحت، کبھی صحت اور کبھی تعلیم کے شعبے میں انقلابی اقدامات کی یقین دہانیاں کرائی جاتی ہیں، لیکن انتخابات کے بعد اکثر یہی وعدے پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ نتیجتاً عوام کے مسائل جوں کے توں رہتے ہیں اور ہر پانچ سال بعد وہی سیاسی بیانیہ دوبارہ سننے کو ملتا ہے۔
دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ آزاد کشمیر کی سیاست پر پاکستان کی قومی سیاست کے اثرات نمایاں رہتے ہیں۔ اکثر اوقات مقامی مسائل کے بجائے وفاقی سیاسی کشمکش انتخابی مہم کا محور بن جاتی ہے، جس سے مقامی ترقی، بلدیاتی نظام، تعلیم، صحت اور معاشی منصوبہ بندی جیسے بنیادی مسائل پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات لگانے کے بجائے اپنی کارکردگی اور مستقبل کے قابلِ عمل منصوبے عوام کے سامنے رکھیں۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ صرف جذباتی نعروں یا شخصیات کے بجائے امیدواروں کی اہلیت، دیانت داری اور عملی کارکردگی کو ووٹ دینے کا معیار بنائیں۔ مضبوط جمہوریت اسی وقت فروغ پاتی ہے جب ووٹر باشعور فیصلے کریں اور منتخب نمائندے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔
آزاد کشمیر کے عوام ایک ایسی قیادت کے منتظر ہیں جو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر خطے کی حقیقی ترقی، نوجوانوں کے لیے روزگار، معیاری تعلیم، جدید صحت کی سہولیات اور بہتر انفراسٹرکچر کو اپنی اولین ترجیح بنائے۔ اگر انتخابی سیاست کا محور صرف اقتدار کے حصول کے بجائے عوامی خدمت بن جائے تو آزاد کشمیر نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ترقی اور خوشحالی کی ایک کامیاب مثال بن سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ قیادت انتخابی نعروں کو کس حد تک حقیقت کا رنگ دیتی ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here