مہنگائی، عالمی تنازعات اور معاشی ابدتری کی وجہ سے سرمایہ کارہجرت پر مجبور
گزشتہ کچھ عرصے سے دنیا کے سب سے طاقتور ملک کی معاشی اور خارجہ پالیسیوں پر اٹھنے والے سوالات نے شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ تحفظ پسندانہ معاشی اقدامات، جن کا مقصد مقامی صنعتوں کو تحفظ دینا اور پیداوار کو بڑھانا تھا، اب الٹے نتائج پیش کر رہے ہیں۔ جن تجارتی پابندیوں اور محصولاتی پالیسیوں کو معاشی بحالی کے ہتھیار کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا، ان کے باعث نہ صرف بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی متزلزل ہوا ہے۔ کارخانے قائم ہونے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کے بجائے مینوفیکچرنگ کے شعبے میں ملازمتوں کی تعداد میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں اس بات کی علامت ہیں کہ تحفظ پسندی کا یہ نظریہ متوقع نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، اور اس پالیسی کے حق میں دیے جانے والے بیانات کا حقیقت سے فاصلہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔
دوسری طرف مشرقی وسطیٰ کے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال نے عالمی امن کو گہرے خدشات سے دوچار کر دیا ہے۔ سفارتی کوششوں اور عارضی وقفوں کے باوجود کشیدگی کا دائرہ کار پھیلتا جا رہا ہے۔ ایک طرف معاہدوں اور بات چیت کی پیشکش نظر آتی ہے تو دوسری طرف حملوں اور جوابی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس زبردست کشمکش کا سب سے بڑا اثر عام لوگوں پر پڑ رہا ہے جو اقتصادی دباؤ، غیر یقینی صورتحال اور خوف کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ خطے کے سفارتی اور تجارتی تعلقات اس ابتر حالت کی وجہ سے مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دیرپا امن کا حصول ممکن ہے یا یہ علاقہ طویل مدتی سٹریٹجک جنگ کا شکار ہی رہے گا، جہاں ہر نیا معاہدہ اگلی کشیدگی کا نقطہ آغاز ثابت ہوتا ہے۔
اس تمام تر بین الاقوامی اور معاشی ابتری کے درمیان، تعلیمی اصلاحات کا ایک انوکھا اور قابل تقلید پہلو بھی سامنے آتا ہے۔ جن خطوں کو ایک طویل عرصے سے تعلیمی میدان میں پیچھے سمجھا جاتا تھا، وہاں مسلسل محنت اور منصوبہ بندی کے ذریعے حیران کن نتائج حاصل کیے گئے ہیں۔ طالب علموں کی بنیادی صلاحیتوں بالخصوص پڑھنے اور سمجھنے کی قابلیت میں جو بہتری آئی ہے، وہ دیگر ترقی یافتہ علاقوں کے لیے بھی ایک مثال بن چکی ہے۔ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر تعلیمی اداروں میں بنیادی ڈھانچے، تدریسی طریقوں اور حکومتی توجہ کو درست سمت میں استعمال کیا جائے تو کم وسوسوں کے باوجود تاریخی تبدیلی ممکن ہو سکتی ہے۔ بنیادی تعلیم پر توجہ دینا ہی کسی بھی معاشرے کی پائیدار ترقی کی بنیاد بنتا ہے۔
تاہم، اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تجارتی مفادات اور کارپوریٹ طاقت کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ایک مختلف نوعیت کا بحران پیدا کر رہا ہے۔ دنیا کے بہترین اور معروف تعلیمی ادارے جو کبھی ازاد فکری اور تحقیق کا سرچشمہ سمجھے جاتے تھے، اب وادیِ ٹیکنالوجی اور بڑی کمپنیوں کے معاشی و سیاسی مفادات کے زیرِ اثر آتے جا رہے ہیں۔ جب تعلیمی اور تحقیقی اداروں کی ترجیحات کا تعین مالیاتی مفادات کرنے لگیں، تو وہاں علم کی جستجو کا خلوص متاثر ہوتا ہے۔ جدید دور میں یہ سوال انتہائی اہم ہو چکا ہے کہ کیا یونیورسٹیوں کو محض طاقت ور تاجروں اور کارپوریشنز کے کٹھ پتلی کے طور پر استعمال ہونے دیا جائے، یا ان کی ازادانہ اور تنقیدی روح کو برقرار رکھا جائے۔
عالمی سیاسی افق پر مطلق العنان سوچ اور جمہوری اقدار کی جنگ بھی اپنے عروج پر ہے۔ یورپی ممالک میں سالہا سال سے قائم سخت گیر اور یک طرفہ حکمرانی کی عمارتوں کو اب اندرونی ردِعمل اور جمہوری تحاریک کا سامنا ہے۔ جن حکمرانوں نے اداروں کو کمزور کر کے اپنی طاقت کو مستحکم کیا تھا، ان کے نظام کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ لیکن سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ کیا ایک جابرانہ اور غاصبانہ نظام کو جمہوری حدود اور قانونی دائرے کے اندر رہتے ہوئے بدلا جا سکتا ہے؟ جب پرانے نظام کی جڑیں گہری ہوں اور وہ تمام اداروں پر قابض ہو، تو آئین اور جمہوریت کے دائرے میں رہتے ہوئے اصلاحات لانا ایک انتہائی کٹھن مرحلہ ہوتا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ دنیا معاشی تحفظ پسندی، فوجی کشمکش، تعلیمی تبدیلیوں اور جمہوری نبرد آزماؤں کے ایک پیچیدہ اور باریک دور سے گزر رہی ہے۔ جہاں ایک طرف غلط معاشی فیصلوں سے معیشتیں زوال پذیر ہیں، وہاں دوسری طرف تعلیمی انقلابات اور جمہوری بیداری امید کی ایک نئی کرن بھی پیش کرتی ہیں۔ آنے والے سال عالمی سیاست اور معیشت کی سمت کا تعین کرنے میں انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔
٭٭٭









