کالم نویسی ایک فن تھا کبھی منفی انداز میں اور لاگو ہوتا تھا۔ بزنس، بنک شخصیت اور شہروں کی فلاح بہبود کے لئے، رئیس امروہوی، نصر اللہ خان، ابن انشاء کالموں میں ذکر کرتے تھے مزاحیہ اور کڑوے انداز میں ابراہیم جلیں کے کالم پڑھ کر دل سیر ہوجاتا تھا۔ لاہور اور کراچی دونوں ہی جگہوں سے مشہور اخبار نکلتے تھے۔ ڈان، پاکستان ٹائمز، جنگ، حریت اور حیدر آباد سندھ سے عبرت سندھی میں نکلتا تھا۔ خبروں کے بعد سب کالم پڑھتے تھے ان کالموں کے ذریعے شہر کے حالات اور سیاست دانوں کی حرکات کا پتہ چلتا تھا تمام اخبارات میں جنگ ہی سیسہ سالار تھا۔اب آپ جاننا چاہینگے کہ کالم مثبت تھے یا منفی یہاں بتانا ضروری ہے کہ کالم کی تعریف کچھ اس طرح ہے کہ کالم ایک ستون ہوتا تھا جو عمارت کو سہارا دیتا تھا۔ اور ایسا ٹیڑھا کہ لکھنے والی کی جان چلی جائے اس کا ثبوت رئیس امروہوی اور چند دیگر کالم نویسوں کے علاوہ اینکر بھی ہیں جو اس پاداش میں کہ انہوں نے سیاست دانوں کو کھول کر رکھ دیا۔ حکومت کی کوتاہیوں اور کرپشن کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ان میں ارشد شریف کا نام بھلایا نہیں جاسکتا۔ ان کی خطا پانامہ لیک میں دی گئی کرپشن کی تفصیلات تھیں صفحہ بہ صفحہ جس نے پاکستان پر قبضہ کرنے والوں کی ملک سے لوٹی دولت کی تفصیل تھی۔ منی لارنڈرنگ تھی اور یہ بات کرپٹ سیاستدانوں کو اچھی نہیں لگی منصوبہ بنا کہ ایسے صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے۔ اور جب وہ ملک سے جان بچانے کی خاطر باہر نکلا تو دوبئی سے کینیا تک اس کا پیچھا کیا اور کینیا کی کرپٹ پولیس کے ساتھ مل کر اُسے قتل کروا دیا گیا کینیا کے ایک ٹائون کا جیاڈو میں۔ پہلے تو کینیا کی پولیس نے پاکستانی انداز کا بیان دیا کہ غلط فہمی کا شکار وہا کا جیاڈو کے ہائی کورٹ نے پولیس کی یہ احقمانہ بات کو مسترد کردیا اور پولیس کو مورد الزام ٹہرایا دیکھئے کہ وہاں عدالت نے ارشد شریف کی بیوہ کو زیادہ سے زیادہ رقم ہر جانے کے طور پر دی اور جج نے افسوس کا اظہار کیا۔ کہاں کینیا اور کہاں پاکستان لیکن ایمانداری سے بتائیں کیا ایسا کبھی پاکستان میں ہوا۔ ایک اور واقعہ چھوٹے سے ملک ”مالٹا” کا ہے۔ جہاں ایک لیڈی اینکر رپورٹر اور کالمسٹ ڈیفنی کاروآناگلیسیا کا ہے جیسے ایک کار بمب میں اکتوبر16 کو2017 میں مار دیا گیا تھا۔ گلیسیا کے مدمقابل بزنس مافیا اور سیاسی مافیا تھی کوئی پکڑا نہیں گیا حکومت نے الزام اپنے سر لیا کہ وہ اسکی جان نہ بچا سکے جاننے کے باوجود گلیسیا کی یادگار شہر کے بیچوں بیچ ملے گی جو ہم دیکھ کر اور آنسو بہا کر آگئے۔
ہم ملک کو تنقید کا نشانہ نہیں بنانا چاہتے ملک ایک جنگل کی طرح ہوتا ہے جہاں شیر چیتوں کے علاوہ خوشبودار پھول اور پھل بھی ہوتے ہیں جہاں درختوں پر بسنے والے پرندے بھی اپنی آواز میں لوگوں کو متوجہ کرتے ہیں۔ افسوس کہ میرے ملک پاکستان میں جو لاکھوں ہندوستانی اور پاکستانی مسلمانوں کی قربانیوں کے بعد بنا تھا کہ وہاں کے انتہا پسند ہندوئوں سے نجات ملے گی اور ہوا یہ کہ آج79 سالوں بعد لوگ(80 فیصد) غلامی کی زنجیروں میں ہیں ہم ایک ایسی قوم تھے جنہوں نے انگریزوں کو ملک سے بھگایا اور ہندو مسلم سکھ عیسائی نے مل کر جدوجہد کی۔ جوان جوان لڑکوں نے خود کو شہید کروالیا۔ ان میں امرتسر کا ادھم سنگھ بھی تھا جس نے جلیانوالا باغ پر برطانوی پولیس کی اندھا دھند گولیوں سے مرنے والوں کا بدلہ لندن میں لیا تھا۔ مسلمانوں میں بھی کئی تھے۔ اور سب سے زیادہ قربانیاں 1947 ء میں بے بس عورتوں سے دی تھیں۔
اگلے ہفتہ ہم پاکستانی 14 اگست بڑی شان سے منا رہے ہیں صرف خوشیاں لیکن بھول رہے ہیں کہ یہ خوشیاں کن لوگوں کی بدولت ہیں ہم ان سب کو شہر بدر کر چکے ہیں۔ یا وہ خود دوسرے ملکوں میں جا بستے ہیں جو آج حکومت کی ناانصافیوں کا شکار ہیں۔
کیا یہی اچھا ہوتا کہ ہم اچھے انسان ہوتے اپنے ملک اور اس میں رہنے والے سب ہی لوگوں کو حکومت کی ناانصافیوں سے بچاتے اور اپنے ضمیر سے پوچھتے کہ کیا ہم ملک پر حکومت کرنے کے قابل ہیں اور خود سے پوچھتے کیا عوام خوش ہیں کیا انہیں آزادی ہے بولنے اور لکھنے کی اور ہم نے عمران خان کو جو پاکستان کانام بن چکا ہے دنیا بھر میں جیل میں کیوں بند کر رکھا ہے کیا ہم اپنے پڑوسی ملک جو دشمن کہلاتا ہے سے کچھ سیکھتے ہیں۔ ہم عاصم منیر صاحب سے بھی سوال کرتے ہیں کیوں رنگ بلوچ عمر قید میں ہے پنجابی صوبہ کی آبادی گیارہ کروڑ کی ہے وہ صرف18 ویں ترمیم بنا کر خوش ہیں سوچیں کہ وہ سندھ کے لئے کیا کرسکتے ہیں جہاں ہر طرف تباہی وبربادی ہے۔ دوسرے صوبوں کے لوگ آپ سے کیوں پیار کریں کہ آپ ان کے دکھ درد میں شامل نہیں۔ آئیں مل کر چلیں بھائی بھائی بنیں جو جس کا حق ہے وہ دیں۔ کچھ ایسا کریں کہ لوگ ملک چھوڑ کر نہ بھاگیں ہم تعلیم یافتہ ہیں آئیں آنے والی نسلوں کے لئے اچھے اسکول اور یونیورسٹیاں کھولیں اور ان پیروں اور سولویوں سے بھی کہ تین ہزار سے زائد مزارات کی بجائے تعلیم گاہیں کھولیں 197 یونیورسٹیوں کی تعداد بڑھائیں۔ آئیں ایک مضبوط پاکستان بنائیں جو پچھلے٧٩ سالوں کا خواب ہے آپ ایسا کرسکتے ہیں!!!!۔
٭٭٭٭٭٭











