زندگی ایک آزمائش اور انتہائی مختصر ہے۔ اللہ رب العزت نے انسان کی تخلیق کے ساتھ اسے جینے کے طور طریقے بھی سکھائے تاکہ اس کے اندر انسانیت پیدا ہو۔ مگر انسان انتہائی کم حوصلہ پیدا ہوا ہے، اپنی اوقات بھول جاتا ہے، خالق و مالک کے انعامات و احسانات کو فراموش کر دیتا ہے اور مخلوقِ خدا کی قدر نہیں کرتا۔ وہ نہ منصبِ زندگی کو سمجھتا ہے اور نہ ہی حقیقتِ زندگی کو، جبکہ اقتدار کی انانیت، اکڑ اور تکبر اسے لے ڈوبتا ہے۔ جب انسان میں کے حصار میں جکڑا جاتا ہے تو اس کے ذہن کے سوتے معطل ہو جاتے ہیں اور وہ خود کو عقلِ کل سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ وہ نہ منصب کی پروا کرتا ہے نہ عہدے کی اور مال و دولت ہی کو اپنا سب کچھ سمجھ بیٹھتا ہے۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے کہ زمانے کی قسم انسان یقیناً خسارے میں ہے۔
کبھی کبھار انسان کو حاصل ہونے والی شہرت بھی اسے لے ڈوبتی ہے اور اس کے اندر کا شیطان اس پر غالب آ جاتا ہے۔ موجودہ حکمران طبقے کو عوامی مسائل اور لوگوں کی مشکلات کا کوئی احساس نہیں ہے کیونکہ وہ لوٹ مار کی راہ پر گامزن ہیں۔ انہیں یومِ حساب پر یقین نہیں، اسی لیے لوٹ مار ان کا طریقہ کار بن چکا ہے۔ ان کی اس روش کو اقتدار کے ایوانوں کی سرپرستی حاصل رہی ہے اور اس بہتی گنگا میں بااثر طبقہ برابر کا مستفید ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مہنگی زمینوں اور پلاٹوں پر انہی کا قبضہ ہے۔ یہ عناصر سمجھتے ہیں کہ پاکستان صرف ان کا ہے جن کے مفادات اور جائدادیں ملک سے باہر ہیں۔ پاکستان کو اپنی جاگیر سمجھنے والے منصب سے اترتے ہی ملک سے فرار ہو جاتے ہیں اور عوام ان کے کرتوتوں کا خمیازہ بھگتے ہیں۔
پاکستان نہ کسی بیوروکریٹ کا ہے، نہ کسی جرنیل کا، نہ نواز شریف، آصف زرداری، عمران خان یا عاصم منیر کا ہے بلکہ یہ پاکستان اس کے عام عوام کا ہے جسے اقتدار کے دعویداروں نے برباد کیا اور مل کر لوٹا ہے۔ اس کے کھیت اور کھلیانوں کو تباہ کرنے والے یہی قومی مجرم ہیں۔ جو آج جمہوریت کی گردان الاپ رہے ہیں، انہوں نے ہی غیر جمہوری قوتوں کے ساتھ مل کر جمہوریت کا جنازہ نکالا ہے۔ آج یہی لوگ سسٹم کی ناکامی کا اعتراف کر رہے ہیں اور اس کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں۔
کرپٹ سیاسی رہنما اور بااثر طبقہ کئی دہائیوں سے ملک چلا رہا ہے۔ کرپٹ اشرافیہ، ججوں، بیوروکریٹس اور حکمرانوں کو مفت گیس، پٹرول، بجلی، علاج، گاڑی اور سفر کی سہولیات میسر ہیں جبکہ عام عوام کے لیے یہی چیزیں انتہائی مہنگی کر دی گئی ہیں۔ ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں کہ انہوں نے بڑے بڑے پلازے، جاگیریں اور مہنگی گاڑیاں کیسے بنائیں۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ موجودہ سسٹم ناکام ہو چکا ہے اور نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے، تو ایسے میں سب سے پہلے خود ان کو مستفید ہونے کے ناتے مستعفی ہونا چاہیے۔
مسلم لیگی رہنما اور موجودہ وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ وہ، مسلم لیگی قیادت اور پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر کے گھر حساس اداروں کے ساتھ آئینی ترامیم پر بیٹھک کرتے تھے اور اس بات کا ان کے دل پر بوجھ تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خواجہ آصف کا ضمیر پانچ سال بعد کیوں جاگا، حالانکہ یہی رہنما اسمبلی کے فلور پر عسکری قیادت کے خلاف بیان بازی کرتے رہے ہیں۔ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ کھوکھلا ثابت ہوا کیونکہ منافقوں اور جھوٹوں کا یہ ٹولہ اقتدار کے لیے کبھی غیر جمہوری قوتوں کا سہارا لیتا ہے تو کبھی جھوٹی مہم چلا کر قوم کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
عمران خان کی حکومت گرانے میں یہی عناصر شامل تھے اور موجودہ سیٹ اپ کے ساتھ بھی مسلسل ساتھ رہے۔ وزیر داخلہ کے سسٹم فیلئیر والے بیان نے خواجہ آصف کی غیرت کو للکارا، حالانکہ ان کی یہ غیرت اقتدار کے مزے لوٹتے ہوئے سوئی رہی۔ قوم کو سمجھ جانا چاہیے کہ اقتدار کے لیے یہ سب ایک ہیں، ان کا بیانیہ قوم کو گمراہ کرنے کے لیے اقتدار میں کچھ اور ہوتا ہے اور اقتدار سے باہر کچھ اور۔
موجودہ وزیر داخلہ نے ملک میں مزید صوبوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ریفرینڈم کی تجویز دی ہے، جس کی وجہ سے روایتی سیاسی جماعتوں میں بے چینی پھیل گئی ہے۔ گزشتہ 50 سال سے یہ جماعتیں اسی نظام کا حصہ ہیں اور انہوں نے نظام کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ ان سیاستدانوں کے دوغلے پن اور منافقت کا اندازہ قوم کو ہونا چاہیے۔ نئے صوبوں کی تجاویز پر پیپلز پارٹی اور نون لیگ کا اضطراب ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے مفادات کے لیے پریشان ہیں، حالانکہ نئے صوبوں کا قیام اب ناگزیر ہو چکا ہے۔
جدید دور میں نئے صوبوں کے قیام سے عوام کو آئینی اور انتظامی خودمختاری حاصل ہو سکے گی۔ آئین کے مطابق بااختیار اور خودمختار بلدیاتی نظام نافذ کیا جانا چاہیے جو مقامی سطح پر لوگوں کو بااختیار بنائے۔ نئے صوبوں کی آمدنی خود انہی کے عوام پر خرچ ہونی چاہیے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جانے چاہئیں۔ ملک میں میرٹ اور ملازمتوں میں بھرتیوں کا شفاف نظام قائم کیا جائے جبکہ رشوت اور سفارش کے کلچر کا خاتمہ کیا جائے۔
پولیس فورس میں سیاسی مداخلت ختم کر کے پیشہ ورانہ اور احتساب کا عمل قائم کیا جائے تاکہ تھانہ کلچر کا خاتمہ ہو سکے۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو پولیس میں بھرتی کیا جائے جو خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار ہوں۔ کرپشن، چوری، ڈکیتی اور اسٹریٹ کرائم کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی نافذ ہونی چاہیے۔ سرکاری و غیر سرکاری زمینوں پر قبضہ مافیا کا خاتمہ ہونا چاہیے اور جرائم پیشہ گروہوں، منشیات فروشوں اور اسلحہ کی نمائش پر بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔
تعلیم کو عام کیا جائے اور سرکاری اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں بوٹی مافیا، جعلی ڈگریوں اور بدعنوانی کا خاتمہ کیا جائے۔ تعلیم، صحت، پانی، سیوریج اور ٹرانسپورٹ جیسے بنیادی حقوق کی فراہمی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور ان تک ہر شہری کی مفت رسائی ہونی چاہیے۔ چھوٹے کاروبار اور صنعت کو تحفظ فراہم کرنا اور انہیں سود سے پاک قرضے فراہم کرنا ترجیح ہونی چاہیے، جس سے صنعت کو وسعت ملے گی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
فرسودہ ٹیکس نظام کو بہتر کیا جائے جس میں بڑے سرمایہ داروں سے ٹیکس وصول کیا جائے اور جنہوں نے ناجائز مراعات لے رکھی ہیں ان سے وصولی کی جائے۔ عام لوگوں کو فوری اور شفاف انصاف فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، اس لیے عدالتی نظام میں بہتری لانا ضروری ہے تاکہ لوگوں کو ارزاں انصاف مل سکے۔ بیوروکریسی اور سرکاری اداروں میں شفافیت، بہتر گورننس اور مؤثر احتساب کا نظام قائم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
شہری اور دیہی علاقوں میں نوجوانوں کے لیے تعلیم، ہنر اور روزگار کے مساوی مواقع پیدا کیے جائیں۔ ہر فرد کو بلاامتیاز انصاف، مساوی حقوق اور باوقار زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کرنا حکمرانوں کا فرض ہے۔ ملک سے قبضہ مافیا اور مختلف ٹینکر مافیاز کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ یہ کام صرف ایک بااصول اور متقی ق?ادت ہی بہتر انداز میں کر سکتی ہے، کیونکہ موجودہ تمام حکمرانوں کو قوم دیکھ اور بھگت چکی ہے اور ان سے چھٹکارا حاصل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
کراچی، لاہور، پشاور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، کوئٹہ، گوادر، چمن، حیدرآباد، ملتان اور بہاولپور کو جدید ترقی یافتہ میگا سٹیز بنایا جائے۔ مزید صوبوں کا قیام انتظامی معاملات میں بہتری لا سکتا ہے جس سے عوام الناس کی زندگی میں آسانی آئے گی۔ نئے صوبوں کا قیام کسی قوم، زبان یا نسل کی بنیاد پر نہیں بلکہ بہتر طرزِ حکمرانی، شفافیت، شہری حقوق اور مقامی اختیارات کی فراہمی کے لیے ہونا چاہیے۔ اسی لیے موجودہ فاسد نظام کے مستفیدین مزید صوبوں کی مخالفت کرتے ہیں۔
سیاسی جماعتیں بظاہر ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کرتی ہیں لیکن آئینی ترامیم اور مفادات پر پسِ پردہ ایک ہو جاتی ہیں۔ یہ قوم کے ساتھ دھوکہ اور مذاق ہے جسے عوام کو سمجھنا ہوگا۔ مختلف اتحادی جماعتیں اقتدار کے حصول اور حکومتیں بنانے یا گرانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور یہ سیاسی جماعتیں غیر جمہوری قوتوں کی ملی بھگت سے اقتدار میں آتی ہیں، لیکن چند سال بعد مکافاتِ عمل کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اگر یہ سیاسی رہنما چور راستوں کے بجائے حقیقی جمہوری طرزِ عمل کو فروغ دیں تو کوئی غیر جمہوری عنصر سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتا۔
کرپٹ اشرافیہ اور مفاد پرست عناصر ملک کے تمام مسائل کی جڑ ہیں اور ان کے خلاف بے لاگ احتساب ضروری ہے۔ جس دن عوام نے ایماندار، محبِ وطن اور عوام دوست قیادت کو منتخب کرنے کا تہیہ کر لیا، اس دن بدعنوان عناصر اور ناانصافی کرنے والوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ملک میں صرف وہی قیادت پائیدار تبدیلی لا سکتی ہے جو عوامی مسائل پر بات کرے، خدمتِ خلق کا جذبہ رکھے اور نوجوانوں کے مستقبل کی ضامن ہو۔
ظالمانہ ٹیکسوں اور مہنگائی کے خلاف عوامی آواز اٹھانا وقت کا تقاضا ہے۔ ملازمت پیشہ لوگ ٹیکس دیتے ہیں جبکہ حکمران طبقہ مفت سہولیات کے مزے لوٹتا ہے۔ اس مملکتِ خداداد کو ان عناصر سے پاک کرنا چاہیے جنہوں نے ملک کو مقروض بنایا، قومی تشخص کو مجروح کیا اور ملک کا امیج خراب کیا۔ ان سیاسی گماشتوں نے غریب کا نوالہ چھین لیا ہے، لہذا بھوک اور بے روزگاری کی وجہ سے شدید مصائب کا شکار ہونے والے عوام کے حقوق کا تحفظ کرنا ہوگا۔
ملک و قوم کو ان لٹیروں سے نجات دلانے کیلئے خوفِ خدا رکھنے والے، دیانت دار اور صاحبِ کردار افراد کو موقع دینا چاہیے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی اس ملک کو ایمان و دیانت کے حامل، باعمل اور مخلوقِ خدا کا درد رکھنے والے حکمران نصیب فرمائے جو اپنا احتساب کرنا جانتے ہوں اور ملک سے سچی محبت کرتے ہوں۔










