کچھ تاریخیں محض تقویم کے صفحے پر درج ہندسوں کا نام نہیں ہوتیں، بلکہ وہ انسانی احساس، اجتماعی یاد اور تہذیبی زخم کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ 5 اگست بھی ایسی ہی ایک تاریخ ہے، جو کشمیر کے حوالے سے صرف ایک سیاسی موڑ نہیں بلکہ ایک مسلسل انسانی داستان کی علامت بن چکی ہے۔ یہ دن ہمیں ایک ایسی وادی کی طرف متوجہ کرتا ہے جہاں حسن اپنی تمام تر رعنائیوں کے باوجود مدتوں سے بے چینی کے سایے میں سانس لے رہا ہے۔
کشمیر کا ذکر آتے ہی نگاہوں میں برف پوش پہاڑوں کی سفید خاموشی، جھیلوں کی نیلگوں وسعت، چناروں کی سرخ و زرنگار چھاؤں اور بہتے چشموں کی نغمگی ابھر آتی ہے، گویا قدرت نے اس خطے کو حسن کی وہ امانت عطا کی جو کم ہی زمینوں کے حصے میں آتی ہے۔ مگر تاریخ نے اسی جنتِ ارضی کو درد، کشمکش اور سیاسی بے یقینی کی ایسی دھند میں لپیٹ دیا کہ حسن کے ساتھ ایک مستقل دکھ بھی اس کی شناخت بن گیا۔
5 اگست 2019 کو بھارت نے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35ـA سے متعلق تبدیلیاں نافذ کیں، جن کے نتیجے میں جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی گئی اور اسے دو وفاقی علاقوں، جموں و کشمیر اور لداخ، میں تقسیم کر دیا گیا۔ بھارت نے اسے اپنا داخلی آئینی فیصلہ قرار دیا، مگر پاکستان نے اسے نہ صرف مسترد کیا بلکہ اسے مسئلہ کشمیر کے تاریخی، قانونی اور بین الاقوامی تناظر کے منافی اقدام قرار دیا۔ اسی روز سے یہ مسئلہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا، جہاں سیاسی موقف مزید سخت اور انسانی سوالات مزید گہرے ہو گئے۔
لیکن ریاستی فیصلوں، آئینی دفعات اور سفارتی بیانات سے کہیں زیادہ اہم وہ انسان ہیں جو اس تنازع کے بیچ جیتے ہیں۔ کشمیر کے باسی بھی دنیا کے دوسرے انسانوں کی طرح امن چاہتے ہیں، تعلیم چاہتے ہیں، روزگار چاہتے ہیں، اور ایک ایسا مستقبل چاہتے ہیں جہاں زندگی خوف کے بجائے امید سے روشن ہو۔ ایک ماں اپنے بچے کے ہاتھ میں کتاب دیکھنا چاہتی ہے، بندوق نہیں، اور ایک نوجوان اپنے خوابوں کی تعبیر کا طالب ہے۔
پاکستان میں 5 اگست کو یومِ استحصالِ کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے، تاکہ دنیا کے ضمیر کو یہ یاد دلایا جا سکے کہ کشمیر صرف زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ انسانوں کے حقِ خودارادیت، عزتِ نفس اور اجتماعی وقار کا مسئلہ ہے۔ اس روز تقریبات، مذاکرے اور یکجہتی کے پروگرام اس امید کے ساتھ منعقد ہوتے ہیں کہ شاید کبھی انصاف کی کوئی کرن اس وادی میں بھی اترے۔
کشمیر تہذیب، زبان، موسیقی، لوک روایت اور ادبی جمالیات کا بھی ایک تابناک مرکز ہے۔ یہاں کے گیتوں میں نرمی، شاعری میں کرب، اور دستکاری میں صدیوں کی تہذیبی محنت بولتی ہے۔ یہ وادی صرف مناظر کی دلکشی نہیں بلکہ انسانی روح کی گہری تہذیبی علامت بھی ہے۔ اسی لیے کشمیر پر بات کرتے ہوئے صرف سیاست نہیں، اس کے ساتھ وابستہ انسان، ان کی یادیں، ان کے خوف اور ان کی امیدیں بھی زیرِ بحث آنی چاہییں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ طاقت کے بجائے انصاف، اور نفرت کے بجائے مکالمہ اختیار کیا جائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بند راستے مزید زخم دیتے ہیں، جب کہ کھلے دل اور مذاکرات نئے امکانات پیدا کرتے ہیں۔ کشمیر کی خاموش وادیاں آج بھی ایک ایسے سویرے کی منتظر ہیں جہاں چناروں کی چھاؤں میں سکون ہو، جھیلوں کے کنارے خوف کی جگہ امن ہو، اور ہر انسان اپنے گھر، اپنی زبان، اپنی پہچان اور اپنی عزت کے ساتھ جی سکے۔ یہی وہ صبح ہے جس کی صدا 5 اگست کے سائے میں بھی سنائی دیتی ہے اور جو اقوامِ عالم کی توجہ اور انصاف کی طالب ہے۔













