انسانوں کیلئے آسانیاں پیدا کرو!!!

0
6
ڈاکٹر مقصود جعفری
ڈاکٹر مقصود جعفری

حسد ایک نفسیاتی بیماری ہے۔ چھوٹا بڑے سے حسد کرتا ہے اور بڑا چھوٹے پر ظلم کرتا ہے جبکہ اخلاقیات کا تقاضا یہ ہے کہ چھوٹا بڑے کی عزت کرے اور بڑا چھوٹے پر شفقت کرے۔ غیر انسانی اور غیر فطری معاشرے میں انسانی اقدار بے وقار اور صاحبِ مقام ناہنجار ہوتے ہیں۔ حسد انسان کی شخصیت کو اس طرح کھاتا ہے جیسے آگ یا دیمک لکڑی کو کھاتی اور جلاتی ہے۔ حسد احساسِ کمتری کی دلیل ہے، سورة فلق میں شرِ حاسد سے پناہ مانگی گئی ہے جہاں ومن شر حاسد اذا حسد کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ کیا زمانہ آ گیا ہے کہ بھائی اپنے بھائی سے حسد کرنے لگا۔
دوستی کے دعوے دار اندر سے سیاہ، بغل میں چھری منہ میں رام رام، بظاہر حاشیہ بردار و برخودار اور باطن سیاہ کار و مکار و عیار ہیں، چاروں طرف منافقین و حاسدین، شاعر شاعر کا عدو، سیاست دان سیاست دان کا ناقد، مولوی مولوی سے بدظن، تاجر تاجر کا دشمن، ہر طرف اندھیر، دریا سویر یا ہیر پھیر ہے۔ ایسے پراگندہ اور شرمندہ ماحول میں اگر کوئی صاحبِ ضمیر یا صاحبِ مروت انسان دکھائی دے تو اسے ولی جانو اور انسانِ کامل مانو۔ خدا کی تلاش کا دشوار ایک بندہ خدا کا ہر بندہ طلب گار ہے۔ انسانوں کے بھیس میں خونخوار ہیں۔ بقول محترمہ صدف مرزا:
عدل و انصاف کے ایوان بدل جاتے ہیں
غرض اپنی ہو تو میزان بدل جاتے ہیں
یہ تو دنیا ہے یہاں کب ہے کسی شے کو ثبات
دیکھتے دیکھتے انسان بدل جاتے ہیں
ایک زمانہ تھا کہ فال فال کوئی راشی نظر آتا تھا لوگ اس سے نفرت کرتے تھے رشوت اور سفارش دو لعنتیں تھیں مگر اب فال فال کوئی دیانت دار اور امانت دار دکھائی دیتا ہے پاکستان معاشرہ سماجی برائیوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ غیرت کے نام پر قتل ہو رہے ہیں قاتل دندناتے پھر رہے ہیں شرفاء مثلِ بیدار زاں، حیران و ترساں اور بد معاش شاداں شاداں ہیں۔ غرباء گریاں اور امراء مستاں، نوکر شاہی فرعونِ ساماں ہیں۔ چند دورِ قبل ممتاز صوفی دانشور اور ادیب اشفاق احمد مرحوم و مغفور کی کتاب زاویہ میرے زیرِ مطالعہ رہی، اشفاق احمد اپنی تحریروں میں اس بات پر ہمیشہ زور دیتے تھے کہ لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرو۔ دراصل یہ رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیثِ مبارک ہے کہ آپ نے اسلام کے مبلغین اور معلمین کو ہمیشہ یہ تاکید فرمائی کہ وہ دین کو پیچیدہ اور دشوار بنا کر پیش نہ کریں۔ بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور تفسیرِ قرطبی میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نے فرمایا کہ دین آسان ہے اور دین میں شدت نہ اختیار کرو۔ حضور بھی دو چیزوں میں آسان امر اختیار فرماتے تھے لیکن حیرت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیروکاروں میں شدت پسند اور دہشت گرد عالمی امن کو تباہ برباد کر رہے ہیں۔ سورة البقرہ میں ارشادِ باری ہے:
یعنی دین میں جبر نہیں۔
گویا نظامِ جبر نظامِ دین نہیں دعوتِ دین کے لیے حکمت اور موعظ حسنہ کا حکمِ قرآنی ہے اور ہر قسم کا نظامِ زور و زر اور ضابطہ جبر نظامِ شرک ہے اسلام اسلامی سزائیں نہیں بلکہ اسلام نظامِ صلاح و فلاح ہے اذان میں موذن حی علی الفلاح کی صدا بلند کرتا ہے یعنی نماز کی ادائیگی کارِ فلاح ہے اور یہی ضابطہ فلاح و بہبودِ اسلام کی فلاحی ریاست کا نقیب ہے بعض لوگ پیدائشی طور پر زاہدانِ خشک ہوتے ہیں۔
آب و ہوا، خوراک، ماحول، تعلیم و تربیت کا شخصیت سازی پر اثر فطری امر ہے۔ مکہ کے لوگ سخت مزاج اور مدینہ کے خوش مزاج ہیں۔ سری نگر کے کشمیری معتدل اور خوش اطوار جبکہ جموں و پونچھ کے لوگ جفاکش و جنگ جو۔ بعض لوگ فطری یا پیدائشی طور پر امن پسند، رحمدل، فیاض اور انسان دوست ہوتے ہیں جبکہ بعض کے خمیر میں حسد و کینہ، بغض و عناد اور فتنہ و فساد ہوتا ہے۔ میرے ایک دوست نے استفسار کیا کہ اکثر لوگ بلا وجہ اور بغیر سبب اس سے حسد کرتے ہیں کیونکہ وہ ایک مشہور اور قابلِ شخصیت ہے میں نے اس سے کہا کہ کم نظر و کم ظرف حاسد ہوتے ہیں۔
ہندو مت، عیسائیت اور بدھ مت رہابنیت کی تبلیغ کرتے ہیں جبکہ اسلام انسانی انفرادیت و خودی و خودداری کی حفاظت کرنے کے ساتھ ساتھ معاشرتی اور اجتماعی زندگی کا دین ہے فرد کا ملت سے رابطہ روحِ دین ہے۔ بقول علامہ اقبال:
فرد قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں
فنا فی اللہ لوگ حرص و ہوا اور حسد و نفاق سے کوسوں دور ہیں عرفان میں ایمان ہے بقول غالب:
سرِپائے خم پہ چاہیے ہنگامِ بے خودی
رو سوئیقبلہ وقتِ مناجات چاہیے
یعنی بحسبِ گردشِ پیمانہ صفات
عارف ہمیشہ مستِ مئے ذات چاہیے
شاعروں میں بھی حاسدین کا ٹولہ ہے چشمکِ معاصرین مشہور ہے۔ مجھے دعویِٰ شاعری نہیں پھر بھی ناوکِ حاسداں کی زد پر رہتا ہوں۔ پروفیسر زاہد نوید ایک مثبت و تعمیری شاعر و شخصیت ہیں پروفیسر زاہد نوید گورڈن کالج راولپنڈی میں اردو اور دینیات کے پروفیسر ہیں ایک طویل مدت تک ہمارا ساتھ رہا۔ زاہد نوید کو پنجابی، اردو اور زبان و ادب سے خاصا شغف رہا ہے۔ نہایت ہی منکسر، خاکسار اور دلدار شخصیت ہیں مثبت شخصیت ہیں انہوں نے اپنی غزلیات کا مجموعہ بعنوان قاشِ نیم رس بطور تحفہ بھیجا۔ کتاب میں زاہد نوید نے معاونت و مشورہ کے لیے مرزا حامد بیگ، محمد خالد، نسیم درانی، ڈاکٹر وزیر آغا، ڈاکٹر توصیف تبسم، عبد الرحمن فاروقی اور ڈاکٹر زاہد حسین چغتائی کا شکریہ ادا کیا ہے۔ احمد ندیم قاسمی، امجد اسلام امجد اور جمیل یوسف نے زاہد نوید آشوبِ ذات، جدید حساسیت اور غزل کا کامیاب شاعر قرار دیا ہے۔ ایک غزل کے دو شعر ملاحظہ فرمائیے:
اس تند خو سے میں نے تعلق کو کم رکھا
لیکن اسی سے میں نے تعلق کو نم رکھا
کیا جانے کب بجھانی پڑے آپ اپنی آگ
آنکھوں میں آبِ غم کو ہمیشہ بہم رکھا

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here