اگرچہ مایوسی اور محرومی ایک لعنت ہے جس کو دنیا بھر میں پسند نہیں کیا جاتا ہے جس میں اسلام میں مایوسی کو کفر کے نام سے پکارا گیا ہے جس کا مطلب اور مقصد انسان مایوس ہو کر دنیا کی ہر طرح کی جدوجہد ترک کر بیٹھتا ہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ اپنے حقوق کے لئے مسلسل جدوجہد جاری رکھنا چاہئے مگر پاکستان میں مایوسی جیسی لعنت اور محرومی جیسی بے بسی کا شکار ہے کہ جس میں ملک بھر میں مایوسی پھیلی ہوئی ہے۔ ہر شخص شکایات کا پلندہ اٹھائے پھر رہا ہے جس کی وجہ سے ریاست پاکستان کو خطرات لاحق ہوچکے ہیں کہ بعض بدبخت لوگ پاکستان کو گولیاں دیتے نظر آتے ہیں جو نہیں جانتے ہیں کہ ریاست اور حکومت میں بہت فرق ہوتا ہے۔ ریاست ایک ماں ہے جس کے بغیر اولاد پیدا نہیں ہوسکتی ہے جس کو اپنی اولاد پیاری ہوتی ہے۔ جو بلاتفریق اپنی اولاد سے پیار کرتی ہے اس لئے اولاد کو بھی اپنی ماں سے محبت کرنا چاہئے۔ لہٰذا اگر سوتیلا باپ ماں کی اولاد کا دشمن ہو تو ماں کو کیوں گالیاں دی جارہی ہے، جس کامظاہرہ پاکستان میں ہو رہا ہے کہ ہر شخص مایوسی کے عالم اپنی ماں دھرتی کو برا بھلا کہہ رہا ہے جو نہیں جانتا ہے کہ ماں کے بغیر اولاد لاوارث کہلاتی ہے بہتر یہی ہے کہ حکمرانوں کے خلاف جیسی چاہو جدوجہد کریں۔ برا بھلا بھی کہیں ان کا تختہ اور غلبہ بھی اُڑا کر پھینک دیں تو بھی کوئی مضائقہ نہیں ہوگا مگر ریاست جیسی ماں کو برا بھلا مت کہو جو نہیں جانتے کہ ریاست کے بغیر کشمیری اور فلسطینی قوم کتنی بے بس اور بے کس نظر آرہی ہے جو دن رات اپنی قربانیوں سے اپنی کھوئی ہوئی ماں ریاست فلسطین اور کشمیر حاصل کرنا چاہتے ہیں جو غاصبوں اور قابضوں سے اپنی ماں کو چھڑانا چاہتے ہیں چونکہ پاکستان کے عوام اپنی روائتی جدوجہد بھول چکے ہیں یا پھر گمراہ کر دیئے گئے ہیں۔ جن کی قیادتوں کا دارومدار جنرلوں کے تبادلوں پر انحصار کرتا ہے کہ میرا جنرل آئے گا تو ہم حکمران بنیں گے ورنہ انتظار کریں جس کی وجہ سے پاکستانی عوام پر مایوسی اور محرومی کے بادل چھائے ہوئے ہیں جو شخصیت پرستی کے شکار ہو کر مایوسی کے عالم میں اپنی ماں پاکستان کو دن رات برا بھلا کہتے ہیں نظر آتے ہیں۔ تاہم مایوسی ایک لعنت ہے جو ترقی پسند قوموں کے لئے منفی سوچ کا درجہ رکھتی ہے جس کا اسلام اور سوشلزم میں ممانعمت ہے کہ انسانی جدوجہد جاری رکھنا ہوگی چاہے دنیا کی بدترین بادشاہت، سلطانیت، آمریت اور بربریت کیوں نہ ہو۔ انسانی جدوجہد کا ہاتھ تھامے رکھنا چاہئے۔ چاہے کیسے ہی بدترین حالات و واقعات درپیش ہوں۔ منفی سوچ کی حامل قومیں مایوس ہو کر نفرتوں اور حقارتوں کا شکار ہو جاتی ہیں جو متحدہ جدوجہد کی بجائے خانہ جنگی کا شکار ہو کر افغانستان صومالیہ اور دوسرے ایشیائی اور افریقی عوام کی طرح مقتل گاہیں بن جاتی ہیں۔ یہاں لاشوں کے علاوہ کچھ نہیں ملتا ہے۔ بہرحال پاکستانی عوام کو ماضی پر نظر دوڑانا ہوگی کہ جب بسوں، ریل گاڑیوں طعام خانوں، ہوٹلوں، پارکوں اور دوسری نجی اور سرکاری قیام گاہوں پر لکھا ہوتا تھا کہ یہاں سیاسی گفتگو کرنا منع ہے۔جس کے خلاف ہماری قیادتوں نے جدوجہد کی جس کا آج پھل ہم سب کھا رہے ہیں کہ آج ہم جب اور جس وقت چاہیں منفی اور مثبت خیالات کا اظہار کرسکتے ہیں جو صرف اور صرف ماضی کی جدوجہد سے ملا ہے۔
٭٭٭

![2021-04-23 18_32_09-InPage - [EDITORIAL-1-16] رمضان رانا](https://weeklynewspakistan.com/wp-content/uploads/2021/04/2021-04-23-18_32_09-InPage-EDITORIAL-1-16.png)







