پاکستان کی سیاست کا المناک پہلو یہ ہے کہ جب بھی حاکم وقت یا مقتدر طبقہ اپنی انتظامی ناکامیوں سے نظریں چرانا چاہتا ہے، تو کسی نئے شوشے یا آئینی تجربے کا غبارہ ہوا میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں سینیٹر محسن نقوی کی تقریر کے بعد ملک کے طول و عرض میں نئے انتظامی یونٹس اور بیس صوبوں کی تشکیل کا جو غوغا برپا ہے، وہ دراصل اس گرتے ہوئے بوسیدہ نظام پر ایک مصنوعی پردہ ڈالنے کی سیاسی کوشش معلوم ہوتی ہے۔ 2050ء تک ملک کی آبادی چالیس کروڑ کے قریب پہنچنے کے اعداد و شمار دکھا کر عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ تمام انتظامی ابتری، غربت اور لاقانونیت کا واحد سبب موجودہ چار صوبوں کی بوجھل ساخت ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کاغذ پر لکیریں کھینچ کر صوبوں کی تعداد چار سے بڑھا کر بیس کر دینے سے عوامی مسائل جادو کی چھڑی سے حل ہو جائیں گے یا یہ سیاسی اشرافیہ کی اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کی ایک نئی چال ہے؟
تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کا طرزِ حکمرانی کسی جغرافیائی حد بندی کی خرابی کی وجہ سے نہیں بلکہ اخلاقی اور انتظامی انحطاط کے باعث مفلوج ہوا ہے۔ جب ملک کا وزیرِ داخلہ سرِ عام اس بات کا اعتراف کرے کہ ریاست کا موجودہ نظام مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے، تو یہ اعترافِ جرم دراصل اس اشرافیہ کی ناکامی کا کھلم کھلا ثبوت ہے جو دہائیوں سے اس ملک کے سیاہ و سفید کی مالک بنی بیٹھی ہے۔ نئے صوبوں کی تجویز سننے میں تو بڑی خوبصورت اور دلکش لگتی ہے، خصوصاً جب راولپنڈی سے لے کر گوادر اور کراچی تک کی آبادیوں کو ان کی دہلیز پر اختیارات کی منتقلی کے سنہرے خواب دکھائے جاتے ہیں۔ لیکن اگر گہرائی میں جا کر دیکھا جائے تو یہ سوال جوں کا توں برقرار رہتا ہے کہ کیا محض نیا صوبہ بنا دینے سے ان افسران کی ذہنیت بدل جائے گی جو سول انتظامیہ کی مسند پر بیٹھ کر عوام کو غلام سمجھتے ہیں؟
پاکستان کو اس وقت جس سب سے بڑے ناسور کا سامنا ہے، وہ اس کی دیوہیکل اور شاہ خرچ بیوروکریسی ہے۔ اگر بیس نئے صوبے قائم کر بھی دئیے جائیں تو ان تمام نوزائیدہ علاقوں کو چلانے کے لیے اسی پرانے، ناکارہ اور کرپٹ افسرشاہی کے نظام کو تعینات کیا جائے گا۔ اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہوگا کہ عوام پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈال کر بیس نئے وزرائے اعلیٰ، درجنوں نئے وزراء ، اور سینکڑوں سینیئر سول افسران کی شاہانہ مراعات، چمکتی گاڑیوں اور عالیشان بنگلوں کا بندوبست کیا جائے گا۔ جب تک موجودہ افسرشاہی کا احتساب نہیں ہوتا اور اس کے بے لگام اختیارات کو لگام نہیں دی جاتی، تب تک چار صوبے ہوں یا بیس، عام شہری کی قسمت میں صرف ذلت اور رسوائی ہی رہے گی۔
اس مجوزہ نقشے کا ایک اور انتہائی حساس اور سنگین پہلو قومی یکجہتی اور ثقافتی شناخت سے جڑا ہوا ہے۔ سندھ جیسے تاریخی اور روایتی صوبے کو جب بھی تقسیم کرنے کی بات کی جائے گی، تو وہاں کے عوام میں خدشات اور انضباطی بے چینی کا پیدا ہونا فطری امر ہے۔ قومیں صرف رقبے یا مردم شماری کے اعداد و شمار پر نہیں بنتیں بلکہ ان کی پسِ پشت صدیاں پرانی تہذیب، زبان اور ثقافت ہوتی ہے۔ ثقافتی حساسیت کو لائحہ عمل کا حصہ بنائے بغیر اگر محض بستی یا شمالی و جنوبی حصوں کے نام پر نقشے پر قینچی چلائی گئی تو اس سے ملک میں ایک نیا لسانی اور صوبائی تعصب جنم لے سکتا ہے جو پہلے سے نڈھال ریاست کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ ملک کو نئے صوبوں سے زیادہ ایک شفاف، دیانتدار اور خودمختار مقامی حکومتوں کے نظام کی ضرورت ہے۔ طاقت کی حقیقی منتقلی اس وقت تک ممکن ہی نہیں جب تک اختیارات صوبائی دارالحکومتوں سے نکل کر اضلاع، تحصیلوں اور یونین کونسلوں کی سطح پر عام عوام کے منتخب نمائندوں تک نہ پہنچیں۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں ہوں یا غیر سیاسی قوتیں، کوئی بھی طاقت کو گلی محلے کی سطح پر منتقل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ مرکز اور صوبوں میں بیٹھے حکمران تمام مالیاتی وسائل پر سانپ بن کر بیٹھنا چاہتے ہیں، مگر جب اپنی نالائقی چھپانی ہو تو نئے صوبوں کا گانا گانا شروع کر دیتے ہیں۔
پاکستان کا موجودہ سیاسی و معاشی بحران ساخت سے زیادہ نیت کا مرہونِ منت ہے۔ نو جوانوں کو محض لیپ ٹاپ یا چند ہزار روپے کے عارضی وظائف دے کر ان کے غصے اور بے روزگاری کو دبایا نہیں جا سکتا۔ ملک کے بزنس کمیونٹی اور تاجروں کو سیاست میں آنے کی ترغیب دینے سے پہلے اس انتخابی نظام کی درستی ضروری ہے جو صرف زر پرستوں اور بااثر طبقے کی پشت پناہی کرتا ہے۔ اگر موجودہ انتخابی اور انتظامی ڈھانچے کو جوں کا توں برقرار رکھتے ہوئے صرف ن نئے نقشے تراشے گئے، تو اس سے ملک کا مستقبّل روشن ہونے کے بجائے مزید تاریک ہو جائے گا۔ نظام کی تشکیلِ نو کاغذ کی حد بندیوں سے نہیں بلکہ عدل، شفافیت اور بلاحسن و قبح احتساب سے شروع ہوتی ہے، اور جب تک اس بنیادی حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جائے گا، تب تک ہر نئی اصلاحات اور نیا منصوبہ محض ایک سحر انگیز دھوکے سے زیادہ کچھ نہیں ہوگا۔
٭٭٭










