آج کا انسان ایک عجیب وغریب دوڑ میں مصروف ہے۔ زبان پر ہر وقت مہنگائی کا شکوہ ہے، لیکن قدم بازاروں اور ریسٹورنٹنس کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ اخبارات اور سوشل میڈیا پر مہنگائی کا شور و غوغا ہے، مگر عملی زندگی میں بازاروں کا ہجوم، شاپنگ مالز کی چمک دمک، اور فاسٹ فوڈ سینٹرز پر لگی ہوئی طویل قطاریں ایک اور ہی کہانی سنا رہی ہیں۔ شام ڈھلے سے رات گئے تک شہر کی گلیاں اور بازار یوں جگمگاتے ہیں گویا کوئی میلہ لگا ہو۔ ہر سڑک پر کھانے پینے کی دکانیں اور ہر نْکڑ پر بیٹھکیں ہیں، جہاں کوئی چائے کی چسکیاں لے رہا ہے، کوئی برگر یا پیزا کھا رہا ہے، اور کوئی آئس کریم کے مزے لے رہا ہے۔ یہ سب کچھ دیکھ کر سوال اٹھتا ہے کہ اگر مہنگائی اتنی شدید ہے تو پھر یہ مصنوعی خوشحالی کہاں سے اْنڈل رہی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب چمک دمک محض دکھاوا ہے اور اندر سے ہم ایک بیمار معاشرہ بنتے جا رہے ہیں، جہاں جسم بھی ناتواں ہے اور روح بھی زخمی۔
اس صورت حال میں گھر کے صاف ستھرے اور سادہ کھانے رفتہ رفتہ قصہ پارینہ بنتے جا رہے ہیں اور ان کی جگہ باہر کے چٹپٹے، مصالحے دار اور غیر صحت بخش کھانوں نے لے لی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہماری نسل معدے کے امراض یعنی ایچ پائلوری اور جگر کی بیماری یعنی فیٹی لیور میں جکڑتی جا رہی ہے۔ آج ہر دوسرا شخص گیس، قبض، بدہضمی، السر یا موٹاپے کا شکار ہے۔ نوجوان رات گئے تک جاگ کر پیزا اور برگر کھاتے ہیں اور صبح کمزوری اور تھکن کے ساتھ اٹھتے ہیں، جو کہ صرف کھانے کا نہیں بلکہ طرزِ زندگی کا بحران ہے۔
دوسری جانب والدین کی نام نہاد سہولت نے بچوں کی معصومیت چھین لی ہے۔ چند لمحوں کے سکون کے لیے والدین بچے کے ہاتھ میں موبائل تھما دیتے ہیں، اور یوں وہ ننھی جان اسکرین کی دنیا میں گم ہو جاتی ہے۔ آج دو تین سال کے بچے موبائل اور ٹیبلٹ کے عادی ہو چکے ہیں، اور یہ افسوس کی بات ہے کہ جو چشمے کبھی بڑھاپے کی علامت سمجھے جاتے تھے، وہ اب چھ سال کے بچے کی آنکھوں پر لگ رہے ہیں۔
یہ دور جسمانی بیماریوں کے ساتھ ساتھ ذہنی بیماریوں کا بھی ہے۔ سوشل میڈیا نے ہمیں دکھاوے اور موازنوں میں الجھا دیا ہے، جہاں ہم دوسروں کی تصویروں اور کہانیوں کو دیکھ کر اپنی زندگی کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ قناعت اور شکر کے بجائے حسد اور بے چینی دلوں میں گھر کر لیتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم خوش ہیں کیونکہ ہمارے پاس کافی کا کپ ہے، سیلفی ہے، اور سوشل میڈیا کی اسٹوری ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم اندر سے کھوکھلے ہوتے جا رہے ہیں۔ وہ سکون جو کبھی سادگی میں ملتا تھا، آج ہزاروں روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی میسر نہیں۔
اس تمام تر زوال سے نکلنے کے لیے اپنی خوراک کو سادہ اور صحت بخش بنانا ہوگا، کیونکہ گھر کا صاف ستھرا کھانا ہی اصل نعمت ہے۔ بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے اسکرین ٹائم محدود کرنا ضروری ہے تاکہ آنکھیں، دماغ اور رویے محفوظ رہیں۔ روزانہ تھوڑا سا وقت چلنے، ورزش اور تلاوتِ قرآن کے لیے نکالنا چاہیے، کیونکہ سکون اور صحت دونوں اسی میں ہیں۔ سوشل میڈیا کی مصنوعی دنیا سے کبھی کبھی کنارہ کش ہو جانا چاہیے تاکہ دل کو اصل سکون نصیب ہو، اور اپنی زندگی کو فضول خرچی، دکھاوے اور بے جا مقابلے سے پاک کرنا چاہیے۔ ہم اس دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں سب کچھ میسر ہے مگر سکونِ قلب غائب ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سادگی، قناعت اور شکرگزاری کی طرف پلٹیں، ورنہ یہ مصنوعی خوشحالی ایک دن ہمیں اندھیروں کے ایسے غار میں دھکیل دے گی جہاں سے واپسی مشکل ہوگی۔











