ترکوں کے مزاجوں میں ہے تاریخ کی ہیبت !!!

0
5

گزشتہ ایک ہفتے سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے علاقے مغربِ وسطیٰ کے سب سے بڑے شہر شکاگو میں موجود ہوں۔ ترکیہ کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کرنے کے لیے اس سال تیسرے سالانہ کنونشن کے انعقاد کے لیے یہاں آیا تو کچھ پرانی یادیں بھی تازہ ہو گئیں۔ 1986ء سے 1990ء کے وہ شاندار دن جب ہم امریکہ میں اپنی طالبِ علمی کا سنہری دور گزار رہے تھے بلکہ بے فکری کے مزے لے رہے تھے۔ میری عملی زندگی کا آغاز تو یہیں شکاگو میں 1991ء سے ہو گیا تھا لیکن چند ماہ بعد ہی نیو جرسی میں بیل لیبز کی تحقیق کی نذر ہو گیا۔ بہرحال شکاگو کی ڈیوان اور لیک شور کے مزے کیسے بھول سکتا ہوں۔ بشیر بدر نے خوب کہا ہے کہ!
اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
دو عظیم برِاعظموں کا ملک ترکیہ، دنیا کی کئی تہذیبوں اور ثقافتوں کا امین ہے۔ میرے نانا جان مرحوم ایک بہت خوبصورت ترکی ٹوپی پہنتے تھے جو انہیں خوب سجتی تھی۔ میرے بچپن کی تصوراتی دنیا میں اس ٹوپی کی بڑی اہمیت ہے۔ اس ترکی ٹوپی نے مجھے ہمیشہ ترکیہ سے محبت کرتے رہنے پر مجبور کیے رکھا اور 2019ء میں حالات نے جیسے ہی برادرِ محترم خلیل دمیر کے ساتھ پاک ترک دوستی کو عملی جامہ پہنانے کا موقع فراہم کیا تو میں ایک منٹ کی تاخیر کے بغیر ترک بھائیوں کی قائم کردہ تنظیم ذکاء فاؤنڈیشن آف امریکہ کا حصہ بن گیا۔ قتیل شفائی کا یہ شعر بھی کیا خوب ہے کہ!
گزرے دنوں کی یاد، برستی گھٹا لگے
گزروں جو اس گلی سے تو ٹھنڈی ہوا لگے
ماضی میں امریکہ میں ہونیوالے ترک میلے، صرف مذہب بیزار ترک منعقد کیا کرتے تھے۔ تین سال پہلے، ہم نے ترکیہ کی اصل تہذیب اور ثقافت سے امریکیوں کو متعارف کروانے کا فیصلہ کیا تو خود ترکوں کی کئی تنظیموں نے اس کی مخالفت کی۔ بہرحال ہماری ثابت قدمی رنگ لائی اور اس ہفتے کا یہ تیسرا سالانہ کنونشن بے حد کامیاب ثابت ہوا۔ اس کنونشن کی کامیابی کا سب سے اہم معیار تو برادرِ محترم طارق الرحمان کی شرکت رہی۔ انہیں اگر گزشتہ پینتالیس سالوں کے دوران، شمالی امریکہ کے اسلامی اجتماعات کا بابائے کنونشنز کہا جائے تو یہ یقیناً ایک مناسب لقب ہو گا۔ اس کنونشن کے دوران، ترک تہذیب و ثقافت کے جس پہلو کو زیادہ اجاگر کیا جا رہا ہے وہ تیرہویں صدی عیسوی کی ان تین شخصیات سے متعلق ہے جنہوں نے پورے عالم اسلام پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ ان شخصیات میں پہلے، وقت کے جلیل القدر صوفی مولانا جلال الدین رومی، دوسرے فکرِ ترکی کے رہنما محی الدین ابن العربی اور تیسرے ترک تاریخ کی ایک انتہائی نمایاں شخصیت یونس ایمرے کی ہے۔ علامہ اقبال بھی تو صوفیاء کے قائل تھے۔
ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی
ہو دیکھنا تو دیدہ دل وا کرے کوئی
گزشتہ دو سال کے تجربات کے بعد، اس دفعہ ترکیہ سے بہترین فنکار بلائے گئے جن کے مظاہروں نے تقریب کو چار چاند لگا دیے۔ صوفی درویش شو کے ساتھ ساتھ نغمہ نگار فنکار اور فلسطینی دبکا شو بہت پسند کیے گئے۔ ترکیہ کے تازہ کھانوں کے لیے تو لوگ کئی گھنٹوں تک قطاروں میں لگے رہے۔ پہلے دن ہی، کئی ہزار شرکاء کی بیک وقت آمد سے بازار کی وسیع گلیوں میں چلنا مشکل ہو گیا۔ رات گئے تک خرید و فروخت اپنے عروج پر رہی۔ ویسے تو انتظامات بہت اچھے رہے لیکن توقع سے زائد افراد کی آمد نے طعام گاہ اور چھوٹے بچوں کے جھولوں پر قطاروں کو کافی طویل بنا دیا۔ ترکیہ کے اس ثقافتی کنونشن کے دوران کسی اچھے شاعر کا یہ شعر بہت یاد آتا رہا۔
رومی کا تصوف ہے تو عثمانی ہے غیرت
ترکوں کے مزاجوں میں ہے تاریخ کی ہیبت

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here