پاکستان میں مارشل لا، گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ!!!

0
9
رمضان رانا
رمضان رانا

پچھلے جمعہ 23 اکتوبر کو نیویارک میں پاک امریکن وکلا برائے حقوق USA کے زیر اہتمام پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے بارہ اضلاع، جو ایک دہائی پہلے خیبر ایجنسی کہلاتے تھے، ان پر ایمرجنسی اور صوبے بھر میں گورنر راج کے سلسلے میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کے مہمانِ خصوصی لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور سپریم کورٹ کے مشہور وکیل جناب بابر مرتضیٰ خان تھے، جو خصوصی طور پر پاکستان سے کانفرنس میں شمولیت کے لیے تشریف لائے تھے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں آئین کو چوں چوں کا مربہ بنا دیا گیا ہے اور جس کا جب اور جیسے جی چاہے، اسے توڑ مروڑ کر لاگو کر دیا جاتا ہے، جس پر عدلیہ بھی خاموش ہو جاتی ہے۔
انہوں نے ایمرجنسی پر تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ ایک سیاسی انتقام ہے جس کی آئین ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ آئین کی رو سے ایمرجنسی صرف اس صورت میں نافذ کی جا سکتی ہے جب صوبے میں وسیع پیمانے پر بغاوت کا سماں ہو، قانون بالکل بے بس ہو چکا ہو، تمام صوبائی ادارے ناکام ہو چکے ہوں اور مقامی حکومت خود مرکز سے مدد مانگ رہی ہو۔ ان حالات میں آئین مرکز کو اجازت دیتا ہے کہ وہ کسی صوبے پر ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر کے مقامی پارلیمنٹ کو معطل اور غیر مؤثر کر دے۔ انہوں نے آئین کی بے حرمتی کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا کہ آج عدلیہ بے بس ہو چکی ہے اور اسی وجہ سے موجودہ حکومت آئین کا حلیہ بگاڑتے ہوئے اپنی مرضی سے ججوں کی تقرری کر رہی ہے، جس سے ججوں کے اختیارات محدود ہو چکے ہیں اور بار کونسلوں نیز بار ایسوسی ایشنز کی آواز کو دبا دیا گیا ہے۔
کانفرنس سے پاک امریکن وکلا برائے حقوق کے سربراہ اور امریکہ میں وکلا تحریک کے بانی، ماہرِ قانون رمضان رانا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ متعلقہ ریاست کا گورنر کرتا ہے، جو اکثر و بیشتر کسی نہ کسی ریاست میں برفانی، بارشی، سیلابی یا طوفانی صورتِ حال کے باعث نافذ رہتی ہے۔ اس دوران نہ تو ریاستی پارلیمنٹ غیر مؤثر ہوتی ہے اور نہ ہی ریاستی حکومت بے اختیار ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ امریکہ میں سینکڑوں مرتبہ ایمرجنسی اور 68 مرتبہ مارشل لا نافذ ہو چکا ہے، لیکن اس کے باوجود وہاں کبھی نہ تو آئین معطل یا منسوخ ہوا اور نہ ہی کانگریس غیر مؤثر ہوئی۔ یہ اقدامات صرف اور صرف کسی بڑے پیمانے پر قانون شکنی یا ریاستی و ضلعی حکومت کی بے بسی کی صورت میں صورتِ حال پر قابو پانے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ چنانچہ مارشل لا کی حالت میں مقامی کرمنل عدالتوں کی جگہ فوجی عدالتیں قائم کی جاتی ہیں، جس کے نفاذ کے ذمہ دار امریکی صدر ہوتے ہیں۔
اس کے برعکس پاکستان میں چار مرتبہ غیر قانونی اور غیر آئینی مارشل لا نافذ کیے گئے، جن کے نافذ کرنیوالے فوجی جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف تھے۔ ان آمروں نے پانچ مرتبہ ملکی آئین منسوخ اور معطل کیا، جس کے نتیجے میں ایک مرتبہ ملک دو لخت بھی ہو چکا ہے اور آج پھر ملک بھر میں انتشار و خلفشار پھیلا ہوا ہے۔ اس تمام صورتِ حال پر بالآخر عدلیہ نے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں ایک تاریخی فیصلہ دیا کہ جنرل پرویز مشرف کے 3 نومبر 2007 کے تمام اقدامات غیر قانونی اور غیر آئینی تھے، جنہیں عدلیہ نے کالعدم قرار دیدیا۔ اس کے بعد اس وقت کی نواز شریف حکومت نے ان کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت سنگین غداری کا مقدمہ قائم کیا۔ سپریم کورٹ کی قائم کردہ خصوصی عدالت نے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے جنرل پرویز مشرف کو سزائے موت کا حکم سنایا۔
تاہم اس وقت کی عمران خان حکومت نے اس فیصلے پر عمل درآمد کے بجائے اس کی مخالفت کی، جبکہ بعد میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج نے اس فیصلے کو منسوخ کر دیا جو ان کے دائرہ اختیار میں نہیں تھا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ آف پاکستان نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں اپیل رد کرتے ہوئے سزائے موت کی سزا کو بحال رکھا۔
ماہرِ قانون رمضان رانا نے کانفرنس میں مزید روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اب تک پانچ مرتبہ ایمرجنسی کا نفاذ ہو چکا ہے: پہلی مرتبہ ستمبر 1965 میں بھارت کے ساتھ جنگ کی حالت میں، دوسری مرتبہ دسمبر 1971 میں حالت جنگ کے دوران، تیسری مرتبہ اگست 1990 میں بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کرنے کے لیے صدر اسحاق خان کے دور میں، چوتھی مرتبہ ستمبر 2007 میں عدلیہ کو برطرف کرنے کے لیے، اور پانچویں مرتبہ 11 اکتوبر2026 کو خیبر ایجنسی پر ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ دوسری جانب گورنر راج تین مرتبہ پنجاب، تین مرتبہ سندھ، چار مرتبہ خیبر پختونخوا اور چار مرتبہ بلوچستان میں نافذ رہا ہے۔ ان پے در پے اقدامات کے باعث پاکستان مارشل لاؤں اور گورنر راجوں کی سرزمین بن چکا ہے اور یہی صورتِ حال آج ریاستِ پاکستان کی تباھی کا باعث بن رہی ہے، جس کے نتیجے میں پورا ملک دہشت گردی کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ ان تمام حالات کے ذمہ دار صرف اور صرف ملک کے سابق گورنر جنرل اور فوجی جنرل ہیں جنہوں نے ملک کو توڑا اور مزید نقصان پہنچانے میں درپے ہیں۔
کانفرنس سے معروف سینئر اٹارنی اور کانفرنس کے صدر خالد اعظم، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر شاہد مہر، چیف آرگنائزر پروفیسر ایاز صدیقی، اٹارنی افضال سپرا، وکیل راجہ سجاد، وکیل خالد کمبوہ، وکیل منظور نشوانی بلوچ، خیبر پختون سوسائٹی کے سربراہ زمان خان آفریدی، نیوز پاکستان کے پبلشر اور معروف صحافی مجیب لودھی، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری سرور اور دیگر اہم رہنماؤں نے بھی خطاب اور شرکت کی۔
اس کانفرنس کے ذریعے پاکستانی حکومت کو یہ واضح پیغام بھیجا گیا ہے کہ اس قسم کے غیر آئینی اقدامات سے اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں میں شدید بے چینی اور اضطراب پایا جا رہا ہے جو ملک کے مفاد میں بالکل نہیں ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ان اقدامات کو فوری ختم کر کے ملک میں مساوی اور سازگار ماحول پیدا کرے تاکہ تمام شہری برابر کے حقوق سے مستفید ہو سکیں۔ بہرحال پاکستان سے باہر پاکستانی امریکن شہریوں کی نمائندگی کرتے ہوئے پاک امریکن وکلا برائے حقوق USA نے وکلا تحریک کی طرح ایمرجنسی اور گورنر راج پر شدید ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔ اس سلسلے میں قانونی برادری مزید عملی اقدامات اٹھائے گی جو اس کے فرائض میں شامل ہے اور اس جدوجہد میں عوام کو مایوس نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے تمام پاکستانی امریکنز سے پرزور اپیل کی گئی ہے کہ وہ امریکہ میں ماضی کی طرح متحد رہیں تاکہ آئندہ آنے والی مشکلات کا باہمی اتحاد سے مقابلہ کیا جا سکے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here