امریکہ میں آئندہ ہفتے ہونیوالے وسط مدتی انتخابات کے دوران عوامی فیصلے کو تبدیل کرنے اور نتائج کو بدلنے کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل کی جا چکی ہیں۔ یہ کوئی مزاح یا فرضی کہانی نہیں بلکہ ایک منظم منصوبہ ہے جس کے تحت قانون کی آڑ میں عوامی رائے پر شب خون مارنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے طاقتور افراد اور سیاسی دھڑے ریاست ٹیکساس، الاسکا اور دیگر اہم انتخابی میدانوں میں عوامی ووٹوں کی حیثیت کو ختم کرنے کے لیے متحرک ہو چکے ہیں، جہاں سے قانون ساز ایوان کے توازن کا فیصلہ ہونا ہے۔ اس تمام عمل کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ اس مہم کا نشانہ بالخصوص پسماندہ طبقات اور اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے ووٹرز کو بنایا جا رہا ہے۔ گزشتہ دو انتخابی چکروں کے دوران لاکھوں افراد کے اندراج کی درستگی پر بلا جواز اعتراضات اٹھائے گئے، حالانکہ ان پر لگائے گئے تمام الزامات اور دعوے بعد میں غلط ثابت ہوئے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کی ووٹر اہلیت کو چیلنج کرنے کے باوجود ایک بھی فرد پر نااہلی یا غیر قانونی ووٹنگ کا جرم ثابت نہیں ہو سکا۔ اس کے باوجود انتخابی عمل سے منسلک اعلیٰ حکام ان بے بنیاد اعتراضات کی بنیاد پر ڈاک کے ذریعے موصول ہونیوالے اور مشروط ووٹوں کو مسترد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
ڈاک کے ذریعے بھیجے گئے ووٹوں کو ضائع کرنے کے لیے نت نئے اور باریک بینی پر مبنی طریقے تلاش کر لیے گئے ہیں۔ لفافے کو صحیح طریقے سے چسپاں نہ کرنے، کاغذ پر دستخط کی معمولی تبدیلی، درمیانی نام کا غائب ہونا یا غلط رنگ کے قلم کا استعمال جیسی معمولی باتوں کی بنیاد پر شہریوں کا ووٹ کوڑے دان میں پھینک دیا جاتا ہے۔ اسی طرح مشروط ووٹوں کا نظام بھی ایک بڑے المیے سے کم نہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ انتخابات میں ساڑھے چار لاکھ کے قریب ایسے ووٹوں کو مسترد کر دیا گیا جو زیادہ تر نوجوانوں اور اقلیتی شہریوں کے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب بھی انتخابی نتائج میں رکاوٹیں ڈالنے کا کھیل کھیلا جاتا ہے تو یہی مشروط اور ڈاک کے ذریعے موصول ہونے والے ووٹ سب سے پہلے نشانہ بنتے ہیں۔ اگر کچھ فلاحی اور شہری تنظیمیں انتخابات کے بعد ووٹرز کو ان کی معلومات کی تصدیق اور ووٹ کی بحالی کے لیے رہنمائی فراہم نہ کریں تو عوامی اکثریت کی آواز دبا دی جائے۔ جب براہ راست نتائج کو مسخ کرنا ممکن نہیں رہتا تو انتخابی نتائج کی باضابطہ توثیق کو روکنے کی چال چلی جاتی ہے۔ ملک کے انتظامی، عدالتی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اقلیتی اکثریتی اضلاع کے نتائج کو یہ کہہ کر روکنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہاں کی فہرستوں میں غیر ملکی یا غیر متعلقہ افراد شامل تھے۔
انتخابات کو التوا میں ڈالنے اور نتائج کی توثیق سے انکار کا یہ حربہ جمہوریت کی روح پر کاری ضرب ہے۔ عدالتوں اور سیکیورٹی اداروں کے نام پر انتخابی مراکز میں مسلح اہلکاروں کو بھیج کر شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانے اور ان کو اپنے حقِ رائے دہی سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب کچھ ریاستوں میں انتخابات سے قبل ہی انتخابی فہرستوں میں سے لاکھوں ووٹرز کے نام خارج کر دیے گئے ہیں جس سے انتخابی میدان کا توازن یکسر بدل گیا ہے۔ الاسکا جیسی ریاستوں میں تو انتخابات کے انعقاد سے قبل ہی نتائج کو قانونی بنیادوں پر چیلنج کرنے اور ممکنہ جمہوری فتح کو منسوخ کرانے کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ یہ منطق انتہائی تشویشناک ہے کہ اگر حاکم فریق جیت جائے تو انتخابی عمل درست ہے اور اگر وہ ہار جائے تو پورا نظام ہی غیر قانونی قرار دے دیا جائے۔ جمہوریت کا بنیادی اصول عوام کی بلا خوف و خطر شرکت اور ان کی رائے کا احترام ہے۔ تاہم جب ریاست کے تمام بااثر ادارے، وکلا اور انتظامی افسران کسی ایک دھڑے کے مفاد کے لیے ووٹوں کی گنتی کو متاثر کرنے کی کوشش کریں تو عوام کے بنیادی حقوق شدید خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ آزادانہ انتخابی عمل پر نظر رکھی جائے، ناانصافی کے خلاف حقائق دنیا کے سامنے لائے جائیں اور شہریوں کو ان کے آئینی حق کی حفاظت کا شعور دیا جائے تا کہ عوامی طاقت کو انتظامی چالاکیوں کی نذر ہونے سے بچایا جا سکے۔
٭٭٭













