اسرائیل میں وزیر اعظم نیتن یا ہو کو حکومت سے نکالنے کیلئے مظاہرے

0
3

تل ابیب (پاکستان نیوز) اسرائیل میں غیر حتمی انتخابی نتائج کے بعد سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا،گزشتہ روز تل ابیب اور یروشلم میں سینکڑوں مظاہرین نے سڑکوں پر نکل کر اپوزیشن لیڈر اور سابق فوجی سربراہ گیڈی آئزن کوٹ پر زور دیا کہ وہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو اقتدار سے باہر کرنے کیلئے عرب سیاسی جماعتوں سے اتحاد کریں،غیر حتمی انتخابات میں 120 نشستوں والے ایوان میں کسی بھی بلاک کو واضح اکثریت نہیں ملی،نیتن یاہو مخالف یہودی جماعتوں نے 48 نشستیں حاصل کیں جبکہ عرب اکثریت والی دو جماعتوں (رعام اور جوائنٹ لسٹ) نے مجموعی طور پر 19 نشستیں جیتیں،تاہم انتخابات کے سرکاری نتائج کا اعلان 4 نومبر کو کیا جائے گا،گیڈی آئزن کوٹ کا کہنا ہے کہ وہ صرف ایک صہیونی حکومت بنائیں گے،دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بغیر ثبوت پیش کیے عرب جماعتوں کی ریکارڈ 19 نشستوں پر کامیابی کو انتخابی دھاندلی قرار دیدیا،دوسری جانب غزہ میں اسرائیلی فوج کی گولی باری اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے، وسطی غزہ کی پٹی کے المغازی کیمپ کے مشرق میں قابض افواج کی فائرنگ سے پانچ شہری زخمی ہو گئے،ادھر لندن میں فلسطینیوں کی حمایت میں امریکی سفارت خانے کے باہر فلسطین ایکشن کی حمایت میں احتجاج کیا گیا، پولیس نے 100 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا،دوسری جانب اسرائیلی پارلیمنٹ میں نئی سیاسی مثال قائم ہوگئی جہاں ایک سابق یہودی پولیس افسر اسلامی جماعت راعم کا رکن منتخب ہوگیا،اسرائیل میں سابق یہودی پولیس افسر یواو سیگالووٹز نے عرب قیادت والی اسلامی جماعت راعم میں شمولیت اختیار کرکے ملک کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی،وہ جلد اسرائیلی پارلیمنٹ کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے،انہوں نے یہودی اکثریتی جماعت چھوڑ کر راعم میں شمولیت اختیار کی جس نے حالیہ انتخابات میں 8نشستیں حاصل کی ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here