لاہور (پاکستان نیوز) پاکستان کے موجودہ سیاسی منظر نامے میں اچانک رونما ہونیوالی پیش رفت اور عدالتی احکامات نے ملکی سیاست کی سمت بدل کر رکھ دی ہے۔ بظاہر پیچیدہ نظر آنیوالی صورتحال اب ایک خاص مقصد اور باقاعدہ مفاہمت کے تحت آگے بڑھتی دکھائی دیتی ہے۔ اقتدار کی راہداریوں سے ملنے والی معلومات اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ ماضی میں سخت رویہ اپنانے والے تمام فریقین نے اب حالات سے مطابقت پیدا کر لی ہے۔ اس سلسلے کا آغاز اس وقت کے حالات کی روشنی میں دیکھا جا سکتا ہے جب 2021 میں سابق فوج کے سربراہ جنرل باجوہ اور اس وقت کے خفیہ ادارے کے سربراہ جنرل فیض حمید نے اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کو حکومت پر گرفت مضبوط کرنے اور اتحادیوں کا دل جیتنے کا مشورہ دیا تھا۔ اس موقع پر جب خان صاحب نے اپنی طویل سیاسی جدوجہد اور تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے ساتھیوں کی وفاداری کا دعویٰ کیا تو سابق آرمی چیف نے یہ کہہ کر معاملہ ختم کیا کہ ہم گذشتہ 75برس سے سیاست چلا رہے ہیں لہذا حالات کی نبض پر ہماری نظر زیادہ گہری ہے۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ خطے کی سیاست میں اصل اثر و رسوخ رکھنے والی قوتوں کا کردار کتنا گہرا ہے۔ اس نئے سیاسی کھیل کی شروعات انتظامی اصلاحات اور نئے صوبوں کی تشکیل سے ہوئی۔ وفاقی دارالحکومت میں محسن نقوی کی جانب سے نظام کے ناکام ہونے اور دس برس بعد بھی اسی طرح کے مسائل برقرار رہنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ اگرچہ اس تجویز پر پنجاب میں میاں نواز شریف کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا اور انہوں نے موجودہ حکمرانوں پر واضح کیا کہ اگر ایسی تبدیلیاں مسلط کی گئیں تو ان کی جماعت حکومت سے علیحدگی اختیار کر سکتی ہے، تاہم آنیوالے دنوں نے یہ ثابت کیا کہ فیصلوں کی ڈور کہیں اور سے ہلا جا رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے خلافِ توقع انتظامی تقسیم کی حمایت کر کے سب کو حیران کر دیا اور یوں اشارہ دے دیا کہ وہ بھی نئی صف بندی کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے۔ پارٹی رہنما سہیل آفریدی نے اگرچہ 27 ستمبر کیلئے احتجاج اور اسلام آباد کی طرف بڑھنے کا اعلان کر رکھا تھا، مگر حالیہ پیش رفت کے بعد اس احتجاجی لہر کے رک جانے کے امکانات پیدا ہو چکے ہیں۔اندرونی ذرائع کے مطابق تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ میں مفاہمتی عمل کافی آگے بڑھ چکا ہے جس میں سب سے اہم کردار سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ علی امین گنڈہ پور نے ادا کیا اور انہوں نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو رکوانے کے سلسلے میں موجودہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے تفصیلی ملاقات کی اور احتجاج کی تاریخ کو چار اکتوبر تک ملتوی کروا دیا۔ ذرائع کے مطابق عمران خان کی رہائی کی خفیہ ڈیل طے پا چکی ہے جس کے تحت انہیں سلسلہ وار طریقے سے رہائی کی طرح لے جایا جائے گا کیونکہ ان کے ماضی کے ریکارڈ کے مطابق بھروسہ کرنا مناسب نہیں ہے۔ تفصیل کے مطابق انہیں جیل سے ہسپتال اور پھر ہسپتال سے گھر پر نظر بند رکھا جائے گا اور پھر دیگر معاملات طے ہونے اور پارٹی کے سیاسی ماحول کو مد نظر رکھتے ہوئے ان پر بنے تمام کیسز کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔ اسی سلسلے کی پہلی کڑی پر عمل کرتے ہوئے آج سپریم کورٹ میں ہونیوالی اہم پیش رفت نے ذرائع کے ان دعوں پر مہر ثبت کر دی ہے۔ آج پیشی کے دوران جسٹس شاہد وحید اور جسٹس نعیم اختر افغان کے سامنے جب عمران خان کی صحت اور ملاقاتوں کی پابندی کا معاملہ آیا تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے حکومتی موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدالت ضمانت لے کہ باہر جا کر کوئی انتشار نہیں پھیلایا جائے گا تو حکومت کو کسی قسم کا اعتراض نہیں ہے۔ اس موقع پر سلمان اکرم راجہ نے آئینی و قانونی حدود میں رہنے اور ذمہ دارانہ رویے کی مکمل یقین دہانی کرائی۔ عدالتِ عظمیٰ کے حکم کے تحت بیمار سیاسی رہنما کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے اور معالجین کا بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت جاری کی گئی۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی عمران خان کی ہمشیرہ نورین نیازی نے قاسم زمان نیازی کے ہمراہ قید خانے میں جا کر ان سے تفصیلی ملاقات کی اور فیصلے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ اس کے بعد سے وہاں سامان باندھنے کا کام جاری ہے جس میں مقامی افسران مدد فراہم کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کچھ ذاتی اشیاء اپنے اہلیہ کے کمرے میں بھجوائی جا رہی ہیں جبکہ کچھ سامان وہاں موجود عملے میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔ اسپتال میں ان کی منتقل کے لیے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں تا کہ عام بیماروں کی آمد و رفت میں کوئی خلل نہ پڑے اور ساتھ ہی سیکیورٹی کی نگرانی کا بھی معقول بندوبست رہے تا کہ کسی قسم کا ناخوشگوار واقعہ یا غیر متعلقہ معلوما ت کا اخراج نہ ہو سکے۔ صحت کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات انتہائی فکر انگیز ہیں۔ معالجین کی رپورٹس کے مطابق وہ شدید ذہنی دباؤ اور بے چینی کا شکار ہیں اور انہیں ہائی بلڈ پریشر کا عارضہ بھی لاحق ہو چکا ہے۔ دل کے ماہر ڈاکٹر نعیم مرزا، جو کہ ابتدائی دنوں سے معائنہ کرتے رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ ماضی میں وہ محض چربی کم کرنے کی ایک معمولی دوا دس ملی گرام لیتے تھے، تاہم 10 اگست کے معائنے میں یہ بات سامنے آئی کہ ان کی حالت میں خاصی تبدیلی آ چکی ہے۔ ان کے موجودہ علاج میں شامل ڈائیوان کی اسّی ملی گرام مقدار بلڈ پریشر کے غیر متوازن ہونے کا ثبوت ہے، جبکہ لیکزوٹنائل جیسی دوا کا دن میں تین بار استعمال شدید بے چینی کی عکاسی کرتا ہے۔ سب سے زیادہ تشویش ناک بات ان کی نبض کا چون تک گر جانا ہے، جس کی تحقیق کے لیے دل کے ماہرین کی اشد ضرورت ہے۔ تاہم پمز اسپتال سے بھیجے گئے وفد میں پروفیسر درجہ کے ڈاکٹروں کے بجائے ڈاکٹر اختر بندیشہ اور ڈاکٹر علی عارف جیسے معاون اساتذہ کی شمولیت پر طبی حلقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اب جو نیا بورڈ بننے جا رہا ہے اس میں ان کی ہمشیرہ ڈاکٹر عظمیٰ اور سابق معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کے شامل ہونے کی امید ہے تا کہ علاج شفاف طریقے سے ہو سکے۔












