معروف تھنک ٹینک پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ نے 2025 کے پاک بھارت تصادم کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں اسے ایک ایسے اہم موڑ کے طور پر بیان کیا گیا ہے جس نے پاکستان کی سٹریٹجک ڈیٹرنس کی تصدیق کی ہے اور اسے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی “یادگار غلط فہمی” دور کرنے کا واقعہ قرار دیا ہے۔ 25 صفحات پر مشتمل رپورٹ PCI کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید نے پیش کرتے ہوئے اس تصادم کو “چین کے ساتھ 1962کی جنگ میں نہرو کی شکست کے بعد سے ہندوستان کے لئے سب سے سنگین دھچکا” قرار دیا۔پاک چائنا انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے اہم نکات میں سے ایک یہ ہے کہ طاقت کے توازن کے متعلق جنوبی ایشیائی ورژن نے کام کیا ہے کیونکہ پاکستان اور بھارت دونوں جوہری پڑوسی ہیں۔ بھارتی جارحیت کو موثر طریقے سے روکنے اور جنوبی ایشیا میں امن، سلامتی اور استحکام کے تحفظ میں ایٹمی صلاحیت نے بڑا کردار ادا کیا ہے۔ درحقیقت پاکستان کی بھارتی حملوں کے جواب میں کارروائی نے ایک تاریخی کامیابی دی ہے۔ پاکستان نے بھارت کے مقابل حجم اور عددی تفاوت کے باوجود، بھارت کے ساتھ روایتی ڈیٹرنس بحال کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ماہرین یہ کہہ رہے ہیں کہ دونں ملکوں کے درمیان اگرچہ جنگ کا کوئی امکان نہیں ہے تاہم پاکستان کو چوکس رہنا چاہیے کیونکہ پی سی آئی کی رپورٹ کے مطابق بھارت تھری ڈی حکمت عملی پر عمل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ حکمت عملی پاکستان کو تباہ کرنا، پاکستان کو نقصان پہنچانا اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ اس حکمت عملی کا مقابلہ قومی اتحاد کی اس فضا کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے جو آج ملک میں نظر آ رہی ہے، دہشت گردی کے خلاف موثر حکمت عملی اختیار کر کے اور سیاسی پولرائزیشن کا خاتمہ کر کے یکجہتی بحال رکھی جا سکتی ہے۔حالیہ پاک بھارت تصادم نے پاکستانیوں کے حوصلے بلند کیے ہیں اور پاکستانی قوم میں پاکستان کے مستقبل پر ایک تجدید اعتماد کے ساتھ قومی خود اعتمادی کا ٹیکہ لگایاہے ۔ لوگ فخر اور اتحاد کو آگے بڑھاتے ہوئے محسوس کرتے ہیں۔ پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ میں 22 اپریل 2025 کے بعد کے واقعات، پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے، پاک بھارت تنازعے پر بین الاقوامی خیالات کے ساتھ ساتھ اس بات کا تجزیہ بھی دیا گیا ہے کہ ماضی میں نریندرمودی کے اسی طرح کے غلط حساب کتاب نے تاریخ کا دھارا بدل دیا ہے۔ پاک بھارت جنگ میں بھارتی میڈیا نے اپنے ملک کو رسوا کرنے میں کردار ادا کیا جبکہ پاکستانی ذرائع ابلاغ نے حقائق اور سچائی پر مبنی بہترین رپورٹنگ کی ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی میڈیا کی ساکھ کو اندرون اور بیرون ملک تسلیم کیا جا رہا ہے۔ بھارت پچھلے کئی برسوں سے اپنی فوجی طاقت کو بڑھا رہا ہے۔وہ اس سلسلے میں مگربی ممالک پر بھروسہ کرتا ہے۔سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق پاکستان اپنے 81 فیصد ہتھیار چین سے حاصل کرتا ہے۔دونوں ممالک اپنی فوجی صلاحیتوں کے لحاظ سے تقریبا متوازن ہیں لیکن تعداد کے لحاظ سے ان میں کافی فرق ہے۔گرافک پائی چارٹ فوج، بحریہ اور فضائیہ کے نمبروں کے ساتھ بھارت اور پاکستان کے فوجی حجم کا موازنہ کرتا ہے۔ ورلڈ فیکٹ بک کے اعداد و شمار کے مطابق، بھارت کے پاس چین کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی فوج ہے۔لندن میں قائم انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹجک سٹڈیز کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت کے پاس تقریبا 730 جنگی صلاحیت والے طیارے ہیں۔بھارت کا خیال تھا کہ اسے 2019 میں اس وجہ سے نقصان پہنچا کیونکہ اسے بنیادی طور پر پرانے روسی طیاروں پر انحصار کرنا پڑا۔اس کے بعد سے اس نے 36 فرانسیسی ساختہ رافیل لڑاکا طیارے حاصل کیے ہیں، جو ایک اعلی مغربی طیارہ ہے، جس کی بحریہ کے لیے مزید آرڈر ہیں۔بھارتکے لیے یہ مخمصہ ہے کہ پاکستان کے محاذ پر کتنے فضائی سکواڈرن تعینات کیے جائیں، کیونکہ اسے چین کے خلاف بھی محاز کو توانا بنانا ہے۔ چینی ساختہ J-10C طیاروں نے پانچ بھارتی لڑاکا طیاروں اور ڈرونوں کو مار گرایا ۔چینی طیارہ اور اس کے پی ایل-15 میزائلوں کا کبھی بھی لڑائی میں تجربہ نہیں کیا گیا۔پی ایل-15 میزائل کی 200 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت ہے۔ بھارتی حملے کشمیر میں کشیدگی کو بڑھاسکتے ہیں۔آزاد کشمیر پر بھارت کے حملے دو جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں کے درمیان چھ برسوں میں بدترین لڑائی کی نشاندہی کرتے ہیں اور کشمیر میں ایک مہلک عسکریت پسندانہ حملے کے بعد سے بڑھتے ہوئے تناو کے بعد، اگلے اقدامات کے ساتھ یہ طے کرنے کا امکان ہے کہ یہاں سے معاملات کتنے سنگین ہوتے ہیں۔پاکستان کو بھارت کی جانب سے کشمیر، پانی اور دہشت گردی جیسے بڑے چیلنج لاحق ہیں۔حالیہ جنگ میں پاکستان کو کامیابی ملی لیکن یہ اطمینان کا مقام نہیں ۔بھارت اپنی ساکھ تباہ ہونے پر تلملا رہا ہے۔وہ پاکستان کو دفاع میں نقصان پہنچانے میں ناکام رہنے کے بعد دوسرے شعبوں مین سازشیں شروع کر چکا ہے۔پاکستان اور چین کا تعاون اچھی ہمسائیگی سے تجارتی شراکت دار اور اب مضبوط دفاعی اتحادیوں کی شکل میں ابھر رہا ہے۔تعلق میں یہ پھیلاو مشترکہ اہداف کے تحفظ کے لئے مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت اجاگر کر رہا ہے۔پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کی طرح یونیورسٹیوں کی سطح پر دو طرفہ تعلقات کو زیادہ وسیع پیمانے پر تحقیق کا موضوع بنانے اور قومی حمکت عملی کی ترتیب کے لئے اقدامات اشد ضروری ہو چکے ہیں۔
٭٭٭













