نیویارک (پاکستان نیوز)میئر زہران ممدانی نے ڈیموکریٹک پارٹی کے روایتی ڈھانچے کو چیلنج کرتے ہوئے شہر کی سیاست میں اپنی ایک الگ شناخت بنا لی ہے۔ ممدانی کی حمایت یافتہ امیدواروں کی حالیہ پرائمری انتخابات میں کامیابیوں نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ وہ اب نیویارک کی سیاست میں ایک فیصلہ کن قوت بن چکے ہیں۔ انتخابات کی رات جہاں ایک طرف پرانے سیاستدانوں اور ڈیموکریٹک قیادت کے کیمپوں میں مایوسی نظر آئی، وہیں ممدانی کے حامیوں نے شاندار جیت کا جشن منایا۔ ممدانی کے حمایت یافتہ تینوں امیدواروں نے کامیابی حاصل کی، جن میں سے دو نے موجودہ ارکان کانگریس کو شکست دی۔ خاص طور پر ڈیرالیزا اویلا شیویلیر کی کامیابی نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اسٹیبلشمنٹ کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت کیا کیونکہ انہوں نے کانگریس کے ایک انتہائی بااثر رہنما کو شکست دی ہے۔
ممدانی کا کہنا ہے کہ یہ نتائج نیویارک کے عوام کی اس خواہش کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ ایک ایسی سیاست چاہتے ہیں جس میں عام محنت کش طبقے کو ترجیح دی جائے۔ ان کے حامیوں کا ماننا ہے کہ یہ ایک انقلاب کی شروعات ہے۔ دوسری جانب، پارٹی کے پرانے رہنما اس صورتحال پر ناراض دکھائی دیتے ہیں اور ممدانی پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ اپنی شرائط پر اتحاد قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ممدانی نے اپنے انتخابی بیانیے میں مہنگائی اور غزہ میں جاری جنگ جیسے مسائل کو مرکزی حیثیت دی اور ووٹرز سے اپیل کی کہ وہ ایسی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھائیں جن کا اثر مقامی سطح پر بچوں کی زندگیوں پر پڑتا ہے۔ اس کامیابی کے بعد ممدانی اب قومی سطح پر بھی ایک اہم پروگریسیو رہنما کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔










