ایران کا ایٹمی خواب پورا نہیں ہونے دینگے

0
8

واشنگٹن (پاکستان نیوز) وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ایک انتہائی اہم اور حساس بالمشافہ ملاقات ہوئی ہے جس میں مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورت حال بالخصوص ایران کے خلاف جنگ اور اس کے ایٹمی پروگرام کے خطرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کو دہرایا کہ ایران کو کسی بھی صورت میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ ملاقات ایران کے ساتھ جنگ کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی پہلی بالمشافہ نشست تھی جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے رواں برس کی ابتدا میں دوبارہ امریکی صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد ان کے درمیان ہونے والی یہ مجموعی طور پر آٹھویں ملاقات قرار دی جا رہی ہے۔ حالیہ دورے کے دوران دونوں ملکوں کی اعلٰی قیادت اور ان کی تمام تر اہم ٹیمیں بھی وائٹ ہاؤس میں موجود تھیں جہاں دونوں اتحادیوں کے درمیان ماضی کے پیدا شدہ تناؤ اور حکمت عملی سے متعلق اختلافات کو دور کرنے کی سنجیدہ کوشش کی گئی۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکہ اور اسرائیل کے باہمی تعلقات میں کچھ دباؤ اور تلخی دیکھنے میں آئی تھی، جسے اب دونوں رہنما عارضی اور حکمت عملی کے تحفظات کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ رواں سال جون میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ایک سخت گفتگو ذرائع ابلاغ کی زینت بنی تھی اور امریکی صدر نے خود اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ ان کے درمیان مفادات کی مختلف جہتوں کی وجہ سے اتفاق رائے قائم کرنے میں رکاوٹ آئی تھی۔ اس واقعے کے بعد دوطرفہ تعلقات میں قائم بے یقینی کی کیفیت کو دور کرنا اس ملاقات کا بنیادی مقصد تھا۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ سے شدید شکل اختیار کرنے والی براہ راست جنگ میں شرکت سے گریز کیا ہے، تاہم اب دونوں اتحاد کے رہنماؤں نے مشترکہ حکمت عملی اور ایک نظرئیے پر کامل اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نومبر کے شروع میں امریکہ میں اہم ترین وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں جبکہ اسرائیل میں بھی اکتوبر کے آخر میں قومی انتخابات متوقع ہیں، جس کی وجہ سے دونوں رہنما سیاسی اور داخلی طور پر بھی نتائج کے معاملے میں کافی حساس دکھائی دیتے ہیں۔وائٹ ہاؤس کے اس 90 منٹ طویل خصوصی اجلاس میں میڈیا کے نمائندوں کو مدعو نہیں کیا گیا تھا تاکہ تمام عسکری و سفارتی امور پر کھل کر اور بلا جھجھک بات چیت کی جا سکے۔ ملاقات کے بعد جاری ہونے والے باضابطہ بیانات میں اسرائیلی وزیراعظم نے اس اجلاس کو اپنے دور صدارت کا بہترین واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کا واحد مقصد خطے سے ایرانی خطرات کا سد باب کرنا ہے اور اس سلسلے میں امریکی اتحادی مکمل طور پر ایک ہی پیج پر ہیں۔ اسی دوران امریکی انتظامیہ کی جانب سے بھی یہ بات واضح کی گئی کہ ملاقات نہایت مثبت اور تعمیراتی ماحول میں ہوئی، جہاں دونوں ممالک کی قومی سلامتی سے متعلق ہر جزوی و کلی معاملے پر اتفاق رائے قائم کیا گیا۔ اپریل میں ایران کے ساتھ عارضی جنگ بندی کے عمل کے دوران سامنے آنے والی تلخ کلامی اور تنقید کی لہر کو اب بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے گزشتہ فوجی اقدامات کے روکنے کے اعلان کے بعد ایران کی جانب سے بھی عارضی طور پر کارروائیاں معطل رکھی گئی ہیں، تاہم اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور کسی بھی مبینہ ایرانی پیش قدمی کی صورت میں سخت ترین فوجی ردعمل دینے کے لیے مکمل تیار ہے۔ یہ تمام حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آئندہ دنوں میں مشرق وسطیٰ کا منظر نامہ ایک نیا رخ اختیار کر سکتا ہے اور عالمی سطح پر ایٹمی عدم پھیلاؤ کی پالیسی کو سختی سے نافذ کرنے کے لیے امریکی و اسرائیلی اشتراک مزید گہرا ہو رہا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here