آزاد کشمیر میں ڈاکہ ڈالا گیا، بلاول؛سندھ پر توجہ تو دیں، مریم

0
8

میر پور(پاکستان نیوز) آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں غیرسرکاری اور غیرحتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن نے بڑی کامیابی حاصل کرلی ہے۔ میرپور ڈویڑن کے تین اضلاع میرپور، کوٹلی اور بھمبر کے تیرہ حلقوں میں ہونے والی پولنگ کے مکمل نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن نے نو نشستوں پر فتح حاصل کی جبکہ پیپلزپارٹی کے حصے میں چار نشستیں آئیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے پولنگ کے وقت میں ایک گھنٹے کی توسیع کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل کیا گیا جس کے ساتھ ہی سیاسی میدان میں لفظی جنگ کا آغاز ہو گیا۔ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے مسلم لیگ ن کی فتح پر اپنے ردعمل میں کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے اپنی ترقی اور خوشحالی کے لیے مسلم لیگ ن کا انتخاب کیا ہے۔ انہوں نے پیپلزپارٹی پر زور دیا کہ وہ کھلے دل سے اپنی شکست تسلیم کرے کیونکہ یہ فیصلہ کسی نگراں حکومت نے نہیں بلکہ عوام نے خود کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں گزشتہ ایک سال سے پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہے اس لیے اپنے ہی وزیراعظم اور انتظامیہ پر دھاندلی کا الزام لگانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ مریم نواز نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی کو سندھ میں اپنے سترہ سالہ دور حکومت کی کارکردگی اور خود احتسابی پر توجہ دینی چاہیے جہاں عوامی ترقی کا کوئی نمایاں منصوبہ دکھائی نہیں دیتا۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مظفرآباد میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے الیکشن کے نتائج کو مسترد کر دیا اور میرپور و کوٹلی کے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ تیس سے زائد پولنگ اسٹیشنز پر حملے کیے گئے اور پیپلزپارٹی کے پولنگ ایجنٹوں کو باہر نکال کر نتائج تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ بلاول بھٹو نے واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا اور واضح کیا کہ ان کی جماعت اپنے حق سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ انہوں نے تیس جولائی کو مظفرآباد میں احتجاجی جلسے اور بعد ازاں کامیابی کا جشن منانے کا اعلان کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے ہر آئینی اور قانونی طریقہ اپنایا جائے گا۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here