مڈ ٹرم الیکشن سروے ؛ سینیٹ کے 4اہم حلقوں میں رائے عامہ تبدیل

0
8

نیویارک (پاکستان نیوز)آئندہ ضمنی انتخابات کے حوالے سے جاری کردہ تازہ ترین عوامی جائزوں نے حکمران جماعت ریپبلکنز کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ مختلف اہم ریاستوں میں سامنے آنے والے نئے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ووٹرز کا جھکاؤ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور 4 انتہائی حساس انتخابی معرکوں میں حریف ڈیموکریٹک پارٹی کی پوزیشن مضبوط ہو چکی ہے۔ اس سے قبل ان تمام نشستوں پر ریپبلکن امیدواروں کو مستحکم برتری حاصل تھی لیکن معاشی خدشات، صدر کی عوامی مقبولیت میں کمی اور بعض متنازع پالیسیوں کے باعث عوام کی ترجیحات میں نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چاروں حتمی حلقوں کا نتیجہ قانون ساز ایوان اور ایوان بالا میں اکثریت کا فیصلہ کرے گا۔ ان انتخابی میدانوں میں عوامی جذبات کا الٹ جانا ریپبلکنز کی انتخابی حکمت عملی کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔ حالیہ رائے شماری سے معلوم ہوتا ہے کہ شہری اور نواحی علاقوں کے ووٹرز جو ماضی میں اکثریتی جماعت کے حامی سمجھے جاتے تھے، اب اپوزیشن کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ ان حلقوں میں نوجوان ووٹرز اور خواتین کا تناسب بھی کافی زیادہ ہے جو انتخابی نتائج کو کسی بھی طرف موڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر موجودہ سیاسی رجحان جاری رہا تو انتخابات میں قانون سازی کا اقتدار اپوزیشن کے ہاتھوں میں جا سکتا ہے۔ اس سیاسی بساط کو بچانے کے لیے ریپبلکن قیادت نے اپنے انتخابی منشور اور مہم میں تبدیلی کا اشارہ دیا ہے تاکہ ووٹرز کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔ تاہم وقت کی کمی اور بڑھتی ہوئی مخالفت کے پیش نظر جمہوریوں کے لیے ان چاروں نشستوں کا دفاع کرنا ایک دشوار ترین چیلنج بن چکا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here