تجزیہ: مجیب ایس لودھی
دنیا جس بھیانک تباہی کے دہانے پر کھڑی تھی، اب بالاخر اسی سمت ایک اور بڑی چھلانگ لگا چکی ہے۔ امریکہ اور سعودی عرب کے مابین طے پانیوالے حالیہ نیوکلیئر معاہدے نے بین الاقوامی سیاست کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ واشنگٹن میں جوہری توانائی کے امریکی وزراء اور سعودی اعلیٰ حکام کے درمیان طے پانیوالے اس طویل المدتی معاہدے نے طاقت کے عالمی توازن کو شدید متزلزل کر دیا ہے۔ اس معاہدے کی رو سے امریکی کمپنیاں سعودی سر زمین پر ایٹمی پلانٹ قائم کریں گی، جدید ترین ٹیکنالوجی کی فراہمی ممکن بنائیں گی اور یورینیم کی افزائش جیسے انتہائی حساس معاملات میں براہِ راست تعاون فراہم کریں گی۔ اس معاہدے کی سب سے حیران کن اور خطرناک بات یہ ہے کہ تاریخ میں پہلی بار کسی غیر ملک کو اس کی اپنی سر زمین پر یورینیم کی افزائش کی کھلی اجازت دی جا رہی ہے اور خود امریکی کمپنیاں ان تنصیبات کی نگرانی کریں گی۔ ظاہری طور پر اسے صرف بجلی کی پیداوار اور شہری ضروریات کا نام دیا جا رہا ہے، لیکن حقیقت سے آگاہ دنیا جانتی ہے کہ ایٹمی ٹیکنالوجی کا یہ سفر کہاں جا کر ختم ہوتا ہے۔ اگر ماضی کے اوراق کو الٹ کر دیکھیں تو سعودی حکمران اس بات کا کھلے عام اعتراف کر چکے ہیں کہ اگر خطے میں ان کے روایتی حریف نے ایٹمی بم تیار کیا تو وہ بھی بغیر کسی تاخیر کے اسی راستے کا انتخاب کریں گے۔ اس صورتِ حال میں اس طرح کا معاہدا طے پانا دراصل ایک نئے ایٹمی مقابلے کی بنیاد رکھنے کے مترادف ہے۔
اس پورے معاملے کا سب سے منافقانہ پہلو امریکی دوہرا معیار ہے۔ ایک طرف ایک ریاست پر یورینیم کی معمولی افزائش کے باعث سخت ترین پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، اس کی قیادت کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس کا جغرافیائی نقشہ بگاڑنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں، جبکہ دوسری طرف ایک پسندیدہ ملک کو ایٹمی صلاحیت تھال میں سجا کر پیش کی جا رہی ہے۔ لیکن امریکہ کا یہ ریچھ کا ناچ مفت میں نہیں ہے۔ اس معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے واشنگٹن نے جو سب سے بڑی قیمت مانگی ہے، وہ معاشی نہیں بلکہ سیاسی ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ سعودی عرب اسرائیل کو ایک تسلیم شدہ ریاست کے طور پر قبول کرے، اس کے ساتھ پائیدار تعلقات استوار کرے اور خطے میں نوآبادیاتی منصوبوں کی راہ ہموار کرے۔ گویا ایٹمی ٹیکنالوجی کی قیمت اربوں ڈالر کے بجائے اسرائیل کی دوستی اور اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی منظوری سے ادا کی جائے گی۔
اگرچہ امریکی پارلیمان میں اس معاہدے کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں اور صدارتی مقبولیت میں گراوٹ کے باعث اس کی منظوری میں قانون سازی کی کچھ رکاوٹیں آ سکتی ہیں، لیکن بین الاقوامی سیاست کا المیہ یہ ہے کہ یہاں اصولوں کی نہیں بلکہ مفادات کی حاکمیت ہوتی ہے۔ اب مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے بھیانک موڑ پر داخل ہو چکا ہے جہاں اسرائیل پہلے سے ایٹمی قوت ہے، ایران اس کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے، سعودی عرب اب اس دوڑ میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور امریکہ خود تمام ہتھیاروں سے لیس ہے۔ جب خطے کی تمام بڑی طاقتیں ایک دوسرے کو تباہ کرنے کی نیت سے اس ہتھیار سے لیس ہو جائیں گی تو عالمی امن کا تصور محض ایک خواب بن کر رہ جائے گا۔ نیتن یاہو جیسے متنازع رہنماؤں کے جنگی جنون اور امریکی پشت پناہی نے اس خطے کو بارود کا وہ ڈھیر بنا دیا ہے جس کا انجام پورا عالم بھگتے گا۔












