لاہور (پاکستان نیوز)اڈیالہ جیل کی انتظامیہ کی جانب سے جمع کروائی گئی تفصیلی رپورٹ کے مطابق جیلوں میں قید تنہائی کا نظام تقریباً ختم ہو چکا ہے اور سابق وزیراعظم سمیت کسی بھی قیدی کو اس قسم کی سزا نہیں دی جا رہی۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو سزا کے بعد قانون کے مطابق ہی رکھا گیا ہے اور ان کے ساتھ دیگر قیدیوں جیسا ہی برتاؤ ہو رہا ہے۔ البتہ ان کی سابق وزیراعظم کی حیثیت اور بہتر کلاس کے قیدی ہونے کے سبب سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے عام قیدیوں کو ان کے رہائشی حصے تک رسائی حاصل نہیں۔
رپورٹ کے متن کے مطابق عمران خان 7 سیل پر مشتمل ایک کمپاؤنڈ میں موجود ہیں جہاں وہ طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک آزادانہ نقل و حرکت اور ورزش کر سکتے ہیں، جبکہ صرف رات کے مخصوص اوقات میں انہیں ان کے سیل میں رکھا جاتا ہے۔ ان کی دیکھ بھال کے لیے ایک سزا یافتہ قیدی مقرر ہے جو ان کی پسند کے مطابق دن میں تین وقت کا کھانا تیار کرتا ہے۔ اس کے علاوہ جیل کے ڈاکٹرز روزانہ تین مرتبہ ان کا طبی معائنہ کرتے ہیں اور بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن اور آکسیجن کی مقدار کی جانچ کرتے ہیں۔
انتظامیہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو ہر منگل اپنی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات کی سہولت اور پسندیدہ اخبارات و کتب فراہم کی جاتی ہیں۔ فرینڈ آف کورٹ سلمان صفدر نے بھی 10 فروری 2026 کو ان کے سیل کا معائنہ کرکے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی تھی جس میں رہائشی حالات کو اطمینان بخش قرار دیا گیا تھا۔ جیل سپرنٹنڈنٹ نے علیمہ خانم کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کو محض قیاس آرائی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کرنے کی استدعا کی ہے، جس پر جسٹس خادم حسین سومرو سماعت کریں گے۔







