نیویارک (پاکستان نیوز)ٹرمپ نے 1.8 ارب ڈالر کے متنازع اینٹی ویپنائزیشن فنڈ سے متعلق اپنے موقف میں اچانک بڑی تبدیلی کا مظاہرہ کیا ہے۔ فنڈ کے مکمل طور پر ختم ہونے کا اعتراف کرنے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ اس فنڈ کو منظور کرانے کے لیے سخت جدوجہد کریں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں ریپبلکن پارٹی کے دو اہم سینیٹرز جان کورنن اور تھام ٹلس پر شدید تنقید کی۔ یہ دونوں سینیٹرز قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ کی مستقل تعیناتی کا راستہ اس وقت تک روکے ہوئے ہیں جب تک انہیں اس فنڈ کے ختم ہونے کا حتمی اور تحریری ثبوت فراہم نہ کر دیا جائے۔ اس مخالفت پر ردعمل دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے انتباہ دیا کہ اگر دونوں سینیٹرز نے ٹوڈ بلانچ کے نام کی توثیق نہ کی تو وہ بلانچ کو قائم مقام اٹارنی جنرل کے عہدے پر ہی برقرار رکھیں گے اور اس بل کو دوبارہ سینیٹ کے سامنے لا کر پاس کرانے کے لیے بھرپور زور لگائیں گے۔ اس سے قبل اے بی سی نیوز سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اس فنڈ کو ختم شدہ قرار دیا تھا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ کاش ایسا نہ ہوتا کیونکہ ان کے بقول 2020 کے الیکشن کے بعد 6 جنوری کے واقعات میں ملوث افراد کے ساتھ ناانصافی اور برا سلوک کیا گیا ہے۔ دوسری جانب سینیٹر تھام ٹلس نے ٹرمپ کے اس موقف پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کیپٹل ہل پر حملہ کرنے والے اور پولیس اہلکاروں پر تشدد کرنے والے مجرم ہیں اور انہیں کسی قسم کی سرکاری امداد کے بجائے جیل میں ہونا چاہیے۔ اس تنازع کے دوران سابق وفاقی پراسیکیوٹر جوائس وینس نے بھی سوال اٹھایا ہے کہ اگر یہ فنڈ واقعی ختم ہو چکا ہے تو اس کیس سے متعلق عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کیوں دائر کی گئی ہے۔




