نیویارک (پاکستان نیوز) مشرق وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی اور بین الاقوامی تجارت کے سب سے حساس بحری راستے کی بندش کے بعد اب سفارتی میدان سے پیش رفت کی اہم خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ امریکہ، ایران اور عمان کے درمیان طویل اور پیچیدہ مذاکرات کے بعد آبنائے ہرمز کو تجارتی جہاز رانی کیلئے دوبارہ کھولنے کی خاطر 60 روزہ عارضی معاہدے کا خاکہ تیار کر لیا گیا ہے۔ اس متوقع تحریری اتفاق رائے کو بین الاقوامی توانائی کی منڈیوں اور عالمی معیشت کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس سفارتی کوشش کا بنیادی مقصد خلیج کے خطے میں جاری فوجی تصادم کو روکنا اور دونوں فریقین کو ایک بار پھر ایٹمی مذاکرات کی میز پر واپس لانا ہے۔اس مجوزہ 60 روزہ عارضی اہتمام کے تحت خلیج کی طرف جانیوالے تمام تجارتی و مال بردار جہاز آبنائے ہرمز میں داخلے کے لیے ایرانی حدود میں واقع شمالی بحری راستے کو استعمال کریں گے۔ اسی طرح خلیج سے نکل کر بحیرہ عرب کی جانب گامزن ہونیوالے تمام جہاز ایران کے ساتھ باقاعدہ رابطہ کاری اور ہم آہنگی کے تحت عمانی بحری حدود سے گزرتے ہوئے جنوبی راستے کا انتخاب کریں گے۔ اس انتظامی فریم ورک کی سب سے اہم شرط یہ رکھی گئی ہے کہ ابتدائی 60 دنوں کی اس مدت کے دوران ان تمام تجارتی جہازوں سے گزرگاہ کے استعمال یا سیکیورٹی کی فراہمی کے بدلے کسی بھی قسم کی فیس، محصول یا نجی مالیاتی ٹول وصول نہیں کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں فریقین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ ابتدائی 30 دنوں کے اندر اندر آبنائے ہرمز کے مرکزی اور روایتی بحری راستے میں بچھائی گئی تمام بارودی سرنگوں کو ہٹانے اور راستے کو محفوظ بنانے کا کام ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا۔ اس صفائی کا مقصد یہ ہے کہ جب حتمی اور مستقل معاہدے پر گفت و شنید کا سلسلہ جاری ہو، تو بحری جہاز دونوں اطراف کے بجائے مرکزی روایتی راستے کو ہی معمول کی آمد و رفت کے لیے استعمال کر سکیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس اہم پیش رفت کے پیچھے ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف کی سخت سفارتی کاوشیں شامل ہیں۔ اسٹیو وٹکوف نے گزشتہ چند دنوں میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے ساتھ متعدد ٹیلی فونک رابطے کیے ہیں اور تحریری تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان تجاویز کے نکات پر اصولی طور پر اتفاق کا اظہار کیا ہے، تاہم اس پر حتمی عمل درآمد اور دستخط کے لیے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کی باقاعدہ منظوری کی ضرورت ہے۔ ذرائع کے مطابق تہران کے اعلیٰ ترین حکومتی ایوانوں میں اس دستاویز کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور حتمی منظوری کے بعد ایک مشترکہ اعلان متوقع ہے۔ اس پورے مذاکراتی عمل میں صرف امریکہ، ایران اور عمان ہی متحرک نہیں رہے بلکہ قطر، پاکستان اور سعودی عرب کی حکومتیں اور سفارت کار بھی پس پردہ ثالثی کی کوششوں میں فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ اسلام آباد اور دوحہ کی مسلسل کوششوں ہی کے نتیجے میں تہران اور واشنگٹن اپنے سخت ترین مطالبات سے پیچھے ہٹنے پر راغب ہوئے ہیں۔ امریکہ کے اعلیٰ ترین حکام کی جانب سے اس پیش رفت پر کافی مثبت ردعمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اشارہ دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق یہ اہم سمجھوتہ بہت جلد طے پا سکتا ہے اور ممکنہ طور پر اگلے 24-48گھنٹوں میں اس کا باضابطہ اعلان ہو جائے گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ یہ تمام گفتگو تہران کے لیے ایک اہم موقع ہے تاکہ وہ فوجی کشیدگی کو ختم کر کے تعمیراتی راستے کا انتخاب کرے۔ دوسری جانب وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اپنے ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ بین الاقوامی بحری گزرگاہوں کو بین الاقوامی تجارت کے لیے دوبارہ محفوظ بنانے کے حوالے سے ہونے والی بات چیت میں خاصی پیش رفت ہوئی ہے اور اب فریقین حتمی معاہدے کے بالکل نزدیک پہنچ چکے ہیں۔ تاہم تہران کی جانب سے محتاط اندازِ فکر کو برقرار رکھا گیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگرچہ مسقط کے ذریعے طے پانے والے جغرافیائی بحری راستے کی حدود اور تکنیکی تفصیلات پر عمان کے ساتھ اتفاق ہو چکا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آبنائے ہرمز خود بخود مکمل طور پر محفوظ ہو جائے گی۔ اسماعیل بقائی کے مطابق جب تک امریکہ ایران کی بندرگاہوں پر عائد غیر قانونی بحری ناکہ بندی کو مکمل طور پر ختم نہیں کرتا اور خطے میں اپنے جارحانہ فوجی اقدامات اور معاشی پابندیوں کو نہیں ہٹاتا، اس وقت تک اس عارضی سمجھوتے کی افادیت محدود ہی رہے گی۔ ایران کا یہ بھی مؤقف ہے کہ اگر امریکہ نے اپنے وعدوں سے انحراف کیا یا کسی تیسرے فریق نے اس عمل میں رکاوٹیں کھڑی کیں تو تہران بھی اپنے فیصلوں پر نظرثانی کا پورا حق رکھتا ہے۔ اس صورت حال میں خطے کے دیگر ممالک بالخصوص اسرائیل کی طرف سے تشویش اور سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی حکام نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ اتنی جلدی معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ معاشی ناکہ بندی میں نرمی سے تہران کو اپنا اثر و رسوخ دوبارہ قائم کرنے کا موقع ملے گا۔ دوسری جانب بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ 60 روزہ عارضی معاہدہ اصل میں ایک وسیع تر فریم ورک کا حصہ ہے جس کے تحت امریکہ کی طرف سے ایران کو تیل کی فروخت کے لیے عارضی استثنیٰ دیا جا سکتا ہے، جبکہ بدلے میں ایران کو اپنے ایٹمی پروگرام سے متعلق بعض بین الاقوامی مطالبات پر پیش رفت دکھانا ہوگی۔ اگر یہ 60 روزہ عارضی معاہدہ کام کرتا ہے اور بحری جہاز رانی کا سلسلہ بلا خوف و خطر دوبارہ شروع ہو جاتا ہے، تو اس سے نہ صرف خام تیل اور قدرتی گیس کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی بلکہ مشرق وسطیٰ کو ایک وسیع اور تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں جانے سے بھی بچایا جا سکے گا۔





