نیویارک (پاکستان نیوز)دنیا بھر میں آبادی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے برعکس امریکہ میں گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران غیر ملکی نڑاد آبادی میں تقریباً 30 لاکھ کی ریکارڈ کمی دیکھی گئی ہے۔ جنوری 2025 سے جولائی 2026 کے درمیان ہونے والی اس ڈرامائی تبدیلی کی بنیادی وجہ کوئی قدرتی آفات یا اموات نہیں بلکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسیاں، غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائیاں اور بڑی تعداد میں ملک بدریاں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً ایک صدی میں یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ میں خالص امیگریشن کا توازن منفی سطح پر آ گیا ہے۔ سرکاری اور تجزئیاتی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد 1 کروڑ 58 لاکھ سے گھٹ کر 1 کروڑ 35 لاکھ رہ گئی ہے، جبکہ 29 لاکھ سے زائد افراد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے یا خود واپس لوٹ گئے۔ اس کے علاوہ قانونی امیگریشن میں بھی 6 لاکھ کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور پناہ گزینوں نیز بین الاقوامی طلبہ کی آمد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ملک چھوڑ کر جانے والوں میں صرف 44 فیصد محنت کش تھے، جس کا مطلب یہ ہے کہ محنت کشوں کے ساتھ ان کے خاندان بھی بڑی تعداد میں اپنے آبائی ممالک منتقل ہوئے ہیں۔ وائٹ ہاؤس اور متعلقہ حکام نے ان اقدامات کو ملکی سرحدوں کے تحفظ اور نظام کی بہتری کی کوشش قرار دیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اگر یہ رجحان قائم رہا تو امریکی لیبر مارکیٹ، معیشت اور تعلیمی نظام پر اس کے گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔











