نیویارک (پاکستان نیوز)خزاں کے آغاز کے ساتھ ہی امریکہ میں دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہونے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جس کے بعد اب شہریوں کو وقت کی تبدیلی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پچھلے ہفتے اعتدالِ خریف کی آمد کے بعد سورج کی جلدی غرابی نے تمام امریکیوں کو یاد دلایا ہے کہ سالانہ گھڑی بدلنے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔ اگر امریکی کانگریس کی جانب سے کسی قسم کی نئی قانون سازی نہ کی گئی تو ملک کی اکثر ریاستوں میں یکم نومبر بروز اتوار کو رات دو بجے گھڑیاں ایک گھنٹہ پیچھے کر دی جائیں گی، جس سے شہریوں کو نیند کے لیے ایک اضافی گھنٹہ میسر آئے گا۔ کانگریس میں اس وقت اس نظام کو مستقل بنیادوں پر منسوخ کرنے اور ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کو ہمیشہ کے لیے نافذ کرنے کی بحث شدت اختیار کر چکی ہے۔ ایوانِ نمائندگان نے جولائی میں اس حوالے سے قانون پاس کیا تھا، تاہم سینٹ کی منظوری نہ ملنے کی وجہ سے فی الحال پرانے نظام پر ہی عمل درآمد رہے گا۔ ماہرینِ صحت اور مخالفین کا موقف ہے کہ مستقل ڈے لائٹ سیونگ سے سردیوں کی صبحیں زیادہ تاریک ہو جائیں گی، جس سے بچوں کی اسکول آمد و رفت اور انسان کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سال ڈے لائٹ سیونگ ٹائم کا آغاز8 مارچ 2026کو ہوا تھا، اور اب یہ سلسلہ یکم نومبر کو ختم ہو کر 14 مارچ 2027 کو دوبارہ شروع ہوگا۔










