آئیوواسینیٹ کی سیٹ پر غیر متوقع مقابلے سے ری پبلکنز پریشان

0
3

نیویارک (پاکستان نیوز)ریاست آئیووا میں جہاں دو سال قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تیرہ فیصد ووٹوں کے واضح فرق سے کامیابی حاصل کی تھی اب وہاں سینیٹ کی نشست برقرار رکھنے کے لیے ریپبلکن پارٹی شدید تشویش کا شکار ہو چکی ہے۔ ایک اہم سیاسی پوڈ کاسٹ پر گفتگو کرتے ہوئے مقامی تجزیہ کار لورا بیلین نے انکشاف کیا ہے کہ ریٹائر ہونے والی سینیٹر جونی ارنسٹ کی خالی نشست پر ہونے والا مقابلہ اب ایک بڑی سیاسی جنگ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آئیووا کی تاریخ کا سب سے سنسنی خیز انتخابی دور ہے جہاں گورنر اور سینیٹ دونوں کے معرکے انتہائی مسابقتی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ اس سے قبل اس نشست کو ریپبلکن پارٹی کے لیے محفوظ تصور کیا جا رہا تھا تاہم حالیہ سروے اور تجزیوں کے بعد ماہرین نے اس کی درجہ بندی تبدیل کر دی ہے۔ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے ایک معتبر سروے کے مطابق ڈیموکریٹک امیدوار جوش ٹوریک نے ریپبلکن امیدوار اور ٹرمپ کی منظور نظر رکن کانگریس ایشلے ہینسن پر پچاس کے مقابلے میں چھیالیس فیصد سے برتری حاصل کر لی ہے۔ اس انتخابی کامیابی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے غیر جانبدار سیاسی مبصرین نے اس مقابلے کو ریپبلکن کے حق میں یقینی کے بجائے اب محض جھکاؤ کے درجے میں شامل کیا ہے۔ جوش ٹوریک جو کہ ایک معذور کھلاڑی ہیں اور وہیل چیئر کا استعمال کرتے ہیں ان کو ابتدائی انتخابی مہم میں سابق فوجیوں کی ایک بڑی تنظیم کی طرف سے کروڑوں ڈالرز کی مالی مدد ملی ہے۔ جوش ٹوریک نے خود فوج میں خدمات انجام نہیں دیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ پیدائشی طور پر ایک ایسی بیماری کا شکار ہیں جو ان کے والد کے ویتنام جنگ کے دوران زہریلے کیمیاوی مواد سے متاثر ہونے کی وجہ سے منتقل ہوئی۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایشلے ہینسن کی کمزوری کی بڑی وجہ ان کا ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ خود کو حد سے زیادہ وابستہ کرنا ہے کیونکہ اب ٹرمپ کی مقبولیت ریاست میں کم ہو رہی ہے۔ اگرچہ آئیووا میں ریپبلکن پارٹی کو اب بھی دو لاکھ کے قریب رجسٹرڈ ووٹرز کی برتری حاصل ہے لیکن کسی بھی حالیہ سروے میں ان کی امیدوار پچاس فیصد کے ہندسے تک پہنچنے میں ناکام رہی ہیں جبکہ ایک تیسرے ازاد امیدوار کی موجودگی ریپبلکن ووٹرز کو تقسیم کر کے ہینسن کو مزید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here