اقوام متحدہ کے صدر دفتر کے باہر خود کو آگ لگانے والا شخص دم توڑ گیا

0
4

نیویارک (پاکستان نیوز)نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر کے باہر خود کو آگ لگانے والا شخص دم توڑ گیا، ذرائع ابلاغ اور سماجی کارکنوں کے مطابق ہلاک ہونے والا شخص تبت کی آزادی کی مہم کا سرگرم رکن تھا تاہم تفتیش کاروں نے ابھی تک اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔ نیویارک پولیس کے مطابق 2 جولائی کو مقامی وقت کے مطابق شام 1832 بجے ایک شخص نے پہلی ایونیو اور 42 ویں اسٹریٹ کے قریب خود کو آگ لگا لی، جسے فوری طور پر بیلیویو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کر دی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان نے اس ہولناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندان سے تعزیت کی ہے۔ انٹرنیشنل کیمپین فار تبت کے صدر تینچو گیاٹسو نے ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت لوبگا رنگزین کے نام سے کی ہے اور بتایا کہ وہ تبت میں انسانی حقوق کے بحران کے خلاف پرامن آواز اٹھانے والے ایک مخلص کارکن تھے۔ رنگزین چین کے اس نئے قانون کے سخت مخالف تھے جس کا مقصد مختلف نسلی گروہوں میں ایک مشترکہ قومی شناخت پیدا کرنا ہے، جبکہ تبت اور اویغور کے حامی کارکنوں کا ماننا ہے کہ یہ قانون اقلیتوں کے حقوق کو مزید پامال کرے گا۔ واضح رہے کہ چین نے 1950 میں تبت میں اپنی فوجیں بھیجی تھیں، جس کے بعد 1959 کی ناکام بغاوت کے بعد تبت کے روحانی پیشوا دلائی لاما بھارت ہجرت کر گئے تھے اور وہ عدم تشدد اور مذاکرات کے ذریعے تبت کی خودمختاری کے حامی ہیں۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here