نیویارک (پاکستان نیوز)کوئینز میں مسلسل تین بربرانہ اغوا کاریوں اور بدترین تشدد میں ملوث 36 سالہ بنگلہ دیشی سپر مارکیٹ مالک ابو چوہدری کو بروکلین کی وفاقی عدالت کی جیوری نے تمام الزامات میں مجرم قرار دے دیا ہے۔ وفاقی جیوری نے دو ہفتے جاری رہنے والی سماعت کے بعد 24 ستمبر کو اپنا فیصلہ سنایا۔ ابو چوہدری پر مارچ 2023 سے مئی 2023 کے دوران تین افراد کے اغوا اور سازش کے چھ الزامات ثابت ہوئے ہیں۔ اس وحشیانہ مہم میں اس کی دوست اور موجودہ بیوی 27 سالہ عفت لبنی اور دیگر ساتھی بھی شامل تھے۔ مقدمے کی تفصیلات کے مطابق 27 مارچ 2023 کو ابو چوہدری اور اس کے ساتھیوں نے ایک شخص کو جامائیکا سے گاڑی میں اغوا کیا، تشدد کا نشانہ بنایا، برہنہ کر کے ویڈیو بنائی اور نشہ آور دوا دے کر بے ہوش کر دیا۔ مئی میں ملزم اور اس کی بیوی نے بنگلہ دیش کے ایک سابقہ کالج کلاس فیلو کو اغوا کر کے تین دن تک قید رکھا اور چھری و سلاخوں سے شدید تشدد کیا۔ 11 مئی کو ایک اور شخص کو ڈیٹنگ کے بہانے بلا کر ابلاغی گاڑی میں اغوا کیا گیا، ہوٹل لے جا کر جنسی تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے والد سے 20 ہزار ڈالر تاوان مانگا گیا۔ متاثرہ شخص نے ویران مکان میں دانتوں سے بندھن کاٹ کر اور کھڑکی توڑ کر پڑوسیوں کی مدد سے جان بچائی۔ ایسٹرن ڈسٹرکٹ نیویارک کے امریکی اٹارنی جوزف نوسیلا اور ایف بی آئی حکام نے اسے انتہائی بھیانک جرم قرار دیا ہے۔ تمام مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔












