مشرق وسطیٰ کی سنگلاخ وادیوں سے اٹھنے والی بارود کی بو اب محض ایک علاقائی تنازع کا پتا نہیں دے رہی، بلکہ یہ پورے خطے کی جیو پولیٹیکل بساط کو ازسرنو ترتیب دینے کا باعث بن رہی ہے۔ خلیج کی روایتی خاموشی کو یمن سے اٹھنے والے ڈرونز اور بالسٹک میزائلوں نیس اس حد تک جھنجھوڑ دیا ہے کہ صدیوں پرانے سفارتی تعلقات اور دفاعی ترجیحات راتوں رات بدلتی محسوس ہو رہی ہیں۔ مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ یعنی مکہ پیکٹ کا کاغذ کے صفحات سے نکل کر میدانِ جنگ میں باقاعدہ متحرک ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ خطے کی اہم اسلامی طاقتیں اب اپنے بنیادی سیکیورٹی مسائل کے لیے کسی مغربی بیساکھی پر انحصار کرنے کو تیار نہیں۔ یہ معاہدہ محض ایک دفاعی دستاویز نہیں بلکہ بدلتی ہوئی عالمی حکمتِ عملی کا نیا نقطہ آغاز ہے جس نے نہ صرف واشنگٹن پر دہائیوں پر محیط سیکیورٹی انحصار کو ختم کرنے کا بیانیہ فراہم کیا ہے بلکہ اسلامی دنیا کی دو اہم عسکری اور تکنیکی طاقتوں، یعنی پاکستان اور ترکی، کو سعودیہ کی دفاعی ڈھال بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔
اس تمام تر بین الاقوامی خلفشار اور عسکری تحرک کا اصل مرکز یمن کا وہ جغرافیہ ہے جو تاریخی طور پر فاتحین کے لیے ایک دلدل ثابت ہوتا رہا ہے۔ حوثی تحریک نے، جو ایک روایتی گوریلا گروہ سے بڑھ کر جدید ترین اسلحے سے لیس منظم طاقت کا روپ دھار چکی ہے، سعودی عرب کے معاشی اور اسٹریٹجک ڈھانچے کو مسلسل ہدف بنانے کی پالیسی اپنائی ہے۔ بحیرہ احمر کے ساحلی خطوں، خاص طور پر باب المندب کی اہم تجارتی شاہراہ کے قریبی جزائر پر حوثی تسلط اور پھر تعز شہر کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے اقدامات نے خلیجی اتحاد کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجا دیں۔ جب خطے کے تقدس اور معاشی بقا سے جڑے بنیادی اثاثے براہِ راست خطرے میں پڑ جائیں تو سفارتی لفظی گولہ باری کارگر ثابت نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے مل کر ایک ایسا دفاعی فریم ورک تشکیل دیا جو شمالی اوقیانوس کے معاہدے یعنی نیٹو کی طرز پر کام کرتا ہے؛ جہاں کسی ایک بھی رکن ملک پر ہونے والی تجاوز کو تینوں ممالک کی اجتماعی سلامتی پر حملے کے مترادف سمجھا جائے گا۔
اس نئے اتحاد کے تحت آپریشن فجرِ یمن کے نام سے شروع ہونے والی ہوائی اور زمین پر مبنی جوابی کارروائیاں اس بات کا واضح پیغام ہیں کہ عسکری طاقت کا توازن برقرار رکھنے کے لیے فیصلہ کن قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ ایک ہی دن میں تین سو سے زائد اہداف کو نشانہ بنانا اور حوثی فورسز کے کمانڈ مراکز اور ڈرون اڈوں کو فلج کرنا اگرچہ عسکری لحاظ سے ایک بڑا اقدام ہے، لیکن تاریخ کا ایک بنیادی سبق یہ بھی ہے کہ محض فضائی قوت سے سنگلاخ پہاڑوں میں چھپے گوریلا جنگجوؤں کو مکمل شکست دینا ناممکنات میں سے ہے۔ افغانستان کی بیس سالہ طویل جنگ اس حقیقت کی روشن ترین مثال ہے جہاں جدید ترین ٹیکنالوجی اور بے تحاشا وسائل کے باوجود مقامی مزاحمت کو کچلا نہ جا سکا۔ یمن میں بھی صورتِ حال اس سے مختلف نہیں، جہاں جغرافیہ اور مقامی قبائلی ساخت دشمن کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ فراہم کرتی ہے اور باقاعدہ فوجوں کو طویل اور تھکا دینے والی جنگ میں الجھا دیتی ہے۔
اس حساس موڑ پر پاکستان اور ترکی کا اسٹریٹجک کردار اور حکمتِ عملی نہایت باریک بینی کی متقاضی ہے۔ دونوں ممالک کو گوریلا جنگ کیخلاف جنگ کا دہائیوں کا وسیع تجربہ حاصل ہے، اور اسی تجربے کی روشنی میں یہ واضح بات سامنے آئی ہے کہ کسی غیر ملکی سرزمین پر براہِ راست فورسز یعنی پیادہ دستے داخل کرنا خود کو ایک ناقابلِ خروج دلدل میں دھکیلنے کے مترادف ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا موقف اور تعاقب انتہائی متوازن رہا ہے۔ پاکستان نے جہاں سعودی عرب کی سرحدی اور فضائی سلامتی کے تحفظ کے لیے تکنیکی، فضائی اور مشاورتی معاونت میں اضافہ کیا ہے، وہاں یمن کی حدود کے اندر براہِ راست عسکری کارروائی میں کودنے سے احتراز کیا ہے۔ یہ توازن اس لیے بھی بے حد ضروری ہے کیونکہ پاکستان اور ایران کی ساڑھے نو سو کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد ایک ایسی نازک حقیقت ہے جسے کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ایران کا اس تمام پیش رفت پر سخت ردِعمل اور اسے پورے خطے کی جنگ میں تبدیل ہونے کے انتباہ کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سفارتی حل کی پیشکش، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بیک وقت طاقت کا مظاہرہ اور سفارت کاری کا راستہ دونوں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ تہران کے لیے باب المندب اور خلیجی پانیوں پر اثر و رسوخ ایک اہم سیاسی کارڈ ہے، لیکن دوسری جانب اسلام آباد کا تہران اور ریاض کے درمیان ماضی میں بطور ثالث تسلیم شدہ کردار اب بھی ایک ایسی امید کی کرن ہے جو اس تنازع کو ایک تباہ کن علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے سے روک سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے مضبوط اور ناقابلِ تنسیخ دفاعی تعہدات کو پورا کرتے ہوئے، ایران کے ساتھ اپنے سفارتی اور سرحدی توازن کو بھی برقرار رکھے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کی یہ بساط اس وقت ایک ایسے دہانے پر کھڑی ہے جہاں ہر قدم انتہائی احتیاط کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ مکہ پیکٹ نے خلیج کو ایک نئی اور مضبوط دفاعی چھتری فراہم کی ہے، جس سے روایتی طاقتوں پر انحصار کا دور ختم ہو رہا ہے، لیکن جنگ کسی بھی مسئلے کا حتمی اور پائیدار حل نہیں ہو سکتی۔ یمن کے خونچکاں اور دلفریب پہاڑ محض بارود کی زبان نہیں سمجھتے؛ وہاں فتح کا راستہ عسکری پیش قدمی کے ساتھ ساتھ سیاسی دانش مندی، مقامی سیاسی سمجھوتے اور علاقائی طاقتوں کے مابین سنجیدہ مذاکرات سے ہو کر گزرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں جب جنگ کا یہ ابتدائی غبار چھے گا اور فریقین کو اپنی عسکری حدود کا حقیقی اندازہ ہوگا، تو حتمی نتیجہ وہی سفارتی میز فراہم کرے گی جس کا مقصد پوری اسلامی دنیا اور بالخصوص خلیجی خطے کو ایک ناقابلِ تلافی تباہی سے بچانا ہے۔
٭٭٭










