بلاشبہ بلوچستان میں فوجی آپریشنوں کا تسلسل جاری ہے، جس کے دوران 1948 سے اب تک آدھی درجن کارروائیاں کی جا چکی ہیں اور ہزاروں بلوچ عوام جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ بلوچستان 1948 سے پہلے پاکستان کا حصہ نہیں تھا اور اس کی شمولیت کی مخالفت قلات کے ایوانِ عوام نے کی تھی۔ اس کے بعد 1948 میں بلوچستان کی آزاد اور خودمختار ریاست کے خلاف فوجی اقدام کیا گیا، جس کے نتیجے میں اسے بزورِ طاقت پاکستان میں شامل کیا گیا۔ جن شخصیات نے بعد میں پاکستان کی حمایت کی، ان میں قائدِ اعظم کے ساتھی، سابق وزیرِ دفاع اور متعدد بار نامزد ہونے والے گورنر نواب اکبر بگٹی شامل تھے، جنہیں جنرل مشرف کے دور میں پہاڑ کے نیچے دبا دیا گیا۔ دوسری جانب پاکستان کے حامی، قائدِ اعظم کے ساتھی اور بلوچستان مسلم لیگ کے صدر قاضی عیسیٰ کے بیٹے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بھی ایک مخصوص گروہ کے ذریعے رسوا کرنے کی کوشش کی گئی، جن کے خلاف عام مقامات، ہوٹلوں اور آرام گاہوں پر نامناسب زبان استعمال ہوتی رہی۔ ان کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے جنرل مشرف کی سزائے موت کو بحال رکھا، بھٹو شہید کی پھانسی کو غیر آئینی قرار دیا، پارلیمنٹ کے اختیارات کو محدود کرنے سے خود مختار عدلیہ کو روکا، جنرل فیض حمید کے دھرنے کو غیر قانونی قرار دیا، بلوچستان کے شہید وکلاء سے متعلق اپنی رپورٹ میں اداروں پر سوالات اٹھائے اور وکلاء تحریک کا ساتھ دینے کے علاوہ دیگر تاریخی فیصلے دئیے۔
قبل ازیں جب 1971 میں پاکستان دو لخت ہوا تو بلوچ رہنماؤں نے غوث بخش بزنجو کی سربراہی میں باقی ماندہ پاکستان کی اسمبلی میں 1973 کے نئے آئین پر دستخط کر کے ثابت کیا کہ وہ متحد پاکستان کے خواش مند ہیں۔ ورنہ ولی خان اور غوث بخش بزنجو اس وقت کے سرحد اور بلوچستان کو الگ ملک بنانے کے لیے غیر ملکی امداد طلب کر سکتے تھے، جب کہ پاکستانی فوج شدید بحران کا شکار تھی۔ تاہم پاکستان کے بااثر طبقے اور ادارے بلوچ عوام کے مسائل اور وسائل کے استحصال میں ملوث رہے ہیں، جو ان کی آواز کو دبانے کے لیے مسلسل جبر کا استعمال کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں علیحدگی پسند تحاریک نے جنم لیا ہے۔
اب یہ دیکھنا ضروری ہو چکا ہے کہ عوام کے اصل مسائل اور وسائل کیا ہیں اور ان کا حل کیسے ممکن ہے۔ بلوچستان کے وسائل پر کس کا قبضہ ہے اور عوام محروم کیوں ہیں؟ یہ وہ بنیادہ نقطہ ہے جس کی وجہ سے بلوچستان میں شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے، جسے غیر ملکی قوتوں کی سازش قرار دے کر کچلا جا رہا ہے۔ کسی حد تک یہ بات درست ہو سکتی ہے کہ بیرونِ ملک عناصر اس بدامنی سے فائدہ اٹھاتے ہوں، مگر اس کے باوجود عوام کے جائز مطالبات اور مسائل سے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں۔ اس صورتِ حال کے حل کے لیے ضروری ہے کہ بلوچ قوم پرست رہنماؤں پر مشتمل ایک ایسی حکومت تشکیل دی جائے جس میں نواب اور سردار شامل نہ ہوں، تاکہ ناراض بلوچ رہنماؤں کو دوبارہ قومی دھارے میں لایا جا سکے اور بلوچ عوام کو ان کے صوبے کے وسائل کا مالک بنایا جا سکے۔
مزید برآں، سرحدوں پر سمگلنگ کی روک تھام کی جائے، بلوچستان کے تمام اداروں، تجارتی سرگرمیوں، ٹھیکوں اور ترقیاتی منصوبوں میں مقامی افراد کو ترجیح دی جائے اور دیگر صوبوں کے بے جا دباؤ کو روکا جائے۔ گوادر کی بندرگاہ پر مکمل انتظامی اور معاشی اختیار صرف اور صرف صوبے کا ہونا چاہیے تاکہ دہائیوں سے محروم بلوچ عوام اپنے وسائل سے فائدہ اٹھا سکیں۔
اگر ان اقدامات سے گریز کیا گیا تو بلوچستان کی یہ آگ ایک دن پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی، جس سے ملک میں خانہ جنگی کے خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے تمام صوبوں میں نسلی اور لسانی بنیادوں پر لوگ صدیوں اور دہائیوں سے باہم آباد ہیں۔ پنجاب میں ہر صوبے سے تعلق رکھنے والے پختون، بلوچ اور دیگر قومیتوں کے لوگ مقیم ہیں؛ سندھ میں بھی تمام صوبوں کے شہری آباد ہیں؛ خیبر پختونخوا میں پختون اور غیر پختون شہری مل کر رہتے ہیں، جب کہ بلوچستان میں بلوچ اور پشتون آبادی یکجا ہے۔ اس لیے کسی بھی اندرونی انتشار یا غیر ملکی مداخلت سے نسلی اور لسانی تنازع بھڑک سکتا ہے۔ جس طرح 1947 میں پنجاب کو ہولناک فسادات کا سامنا کرنا پڑا اور لاکھوں پنجابی متاثر ہوئے، جن کی زبان اور ثقافت ایک تھی، بالکل اسی طرح پاکستان کے تمام صوبوں میں بستی عوام کے درمیان ٹکراؤ کا خدشہ موجود ہے۔
آج کسی بھی صوبے میں چین یا سابق سوویت یونین جیسا نظریاتی نظام یا غریب و امیر، سرمایہ دار و مزدور، یا جاگیردار و کسان کے درمیان روایتی طبقاتی جنگ نہیں ہو رہی، بلکہ نسلی، لسانی اور گروہی بنیادوں پر کشیدگی بڑھ رہی ہے، جو کسی بھی وقت ایک خطرناک صورت اختیار کر سکتی ہے۔ بدقسمتی سے اس جانب مناسب توجہ نہیں دی جا رہی کیونکہ ملک میں ایسے سنجیدہ دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کی کمی ہے جو عوام کی درست رہنمائی کر سکیں، ان کو ان کے حقوق سے آگاہ کریں اور یہ بتا سکیں کہ غریب عوام کے حقیقی مسائل کیا ہیں اور ان کا اصل دشمن کون ہے۔

![2021-04-23 18_32_09-InPage - [EDITORIAL-1-16] رمضان رانا](https://weeklynewspakistan.com/wp-content/uploads/2021/04/2021-04-23-18_32_09-InPage-EDITORIAL-1-16.png)












