ستارۂ ادب۔ ڈاکٹر مقصود جعفری!!!

0
15
ڈاکٹر مقصود جعفری
ڈاکٹر مقصود جعفری

یہ امر ہم سب کیلئے باعثِ صدافتخار ہے کہ عصرِ حاضر کے ایک بڑے ادیب، دانشور، محقق اور شاعر پروفیسر ڈاکٹر مقصود جعفری صاحب کو ان کی گراں قدر ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے ستارۂ امتیاز سے نوازا ہے۔ اس پر ڈاکٹر مقصود جعفری صاحب ہم سب حاضرینِ مجلس کی طرف سے مبارک باد قبول فرمائیں۔ سر زمینِ جموں و کشمیر کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ نظریہ پاکستان کے خالق حضرت علامہ اقبال، “تھم گئے خیابانِ جنتِ کشمیر” سے تعلق رکھتے ہیں تو فکرِ اقبال کو ملک میں روشناس کرانے والے بڑے ناموں میں ایک نام ڈاکٹر مقصود جعفری کا بھی ہے۔ کہ ڈاکٹر صاحب بھی “تھم گئے خیابانِ جنتِ کشمیر” سے تعلق رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب نظم و نثر کی 36 کتابوں کے مصنف ہیں۔ جن میں سینکڑوں موضوعات سموئے ہوئے ہیں۔ ان کے نثری تحقیقی کام کا خاص پہلو یہ ہے کہ انہوں نے فلسفہ، تاریخ، سماجیات، معاشیات اور تصوف کے قدیم اور جدید نظریات کو اجتہادی رنگ دے کر انہیں افکارِ تازہ کی شکل میں قارئین کے سامنے لایا ہے۔ ان کے افکار کی بنیادوں میں جہاں قرآنِ پاک کی ہدایتِ کبریٰ، سنتِ رسول کی تفہیم، ریاستِ مدینہ کا سیاسی وحدت اور معاشی مساوات کے چارٹر “میثاقِ مدینہ” اور اصولِ مواخات شامل ہیں وہاں فرعونیت اور یزیدیت کے خلاف بغاوت کی صدائیں بلند کرنے والوں کی صدائیں بھی شامل ہیں۔ ایک خوبصورت اندازِ بیان اور طرزِ تکلم لئے ان کی شاعری جب معاشرے کے مجبور و بے کس عوام کی ترجمانی کرتی ہے تو کہتے ہیں:
شب کی تاریکی چھٹے گی، روشنی رہ جائے گی
جہل کے دیپ بجھیں گے، آگہی رہ جائے گی
عہدِ طاغوتی میں جس کو دیکھیے، لب بستہ ہے
کیا سرِ نوکِ سناں، یہ خامشی رہ جائے گی
خونِ انساں سے کھلے ہیں گو چمن میں کچھ چنار
تختِ پرکیا خاک پائے آدمی رہ جائے گی
ڈاکٹر صاحب کے موضوعات میں “ولقد کرمنا بنی آدم” کے قرآنی اعلان کی روشنی میں احترامِ انسانیت، انسانی مساوات اور رب العالمین کے خدائی نظامِ ربوبیت کی روشنی میں سیاسی، سماجی اور معاشی عدل و مساوات اور روحانیت اور تصوف کے نظریات پر ہمہ جہت مواد ملتا ہے۔ ان کی تحریروں میں علامہ اقبال کے افکار کا حوالہ جا بجا ملتا ہے۔ اگر خدا کو امید کا پیغام دیتے ہوئے کہتے ہیں:
کیسی یہ آگ ہے جو عروقِ شرر میں ہے
چنگاری اس کی سینہ سوزِ بشر میں ہے
آواز کس کی آتی ہے اس کنجِ درد میں
روتا یہ کون روزنِ دیوار و در میں ہے؟
اب کے گریں گی جتنی بھی دیواریں رہ میں ہیں
اک جوشِ انقلاب اب سودائے سر میں ہے
تصوف اور روحانیت پر ڈاکٹر صاحب کے خیالات ان کی کتابوں میں جا بجا ملتے ہیں۔ جو ایک نئی جہت لئے ہوئے ہیں۔ جن پر روایتی سوچوں کی چھاپ نہیں ہے۔ ان کے نزدیک تصوف وہ نہیں جو ظلم پر صبر و رضا کا درس دے یا کسی ویرانے میں پڑا رہے بلکہ ان کے نزدیک تصوف منصورِ حلاج کی اناالحق کی صدا ہے۔ اناالحق سے اس کی مراد یہ نہیں تھی کہ میں خدا ہوں۔ بلکہ وہ اس خدائی فرمان کا عملی اظہار کر رہا تھا کہ انسان کے جسم میں اللہ تعالیٰ نے اپنی روح پھونکی ہوئی ہے لہٰذا میں سولی پر تو چڑھ سکتا ہوں لیکن اس خدائی روح کو لے کر کسی ظالم بادشاہ کے آگے سر نہیں جھکا سکتا۔ منصورِ حلاج نے اپنی جان دے کر اناالحق کا نہ صرف مطلب سمجھایا بلکہ ظلم کے خلاف جدوجہد اور قربانی کا استعارہ بن گیا۔ اسی جذبہء اناالحق کی مئے کے سرور کو ڈاکٹر مقصود جعفری نے خوبصورت اشعار میں سمویا ہے۔ کہتے ہیں:
مے خانے جب سے شہر میں ویران ہو گئے
انساں کے خوں کے پیاسے یہ انسان ہو گئے
مقتل میں ایک شخص نے کچھ ایسے جان دی
قاتل بھی جس کی موت پر حیران ہو گئے
ڈاکٹر مقصود جعفری نے اپنے چاہنے والوں سے یہ سوال بھی کیا ہے کہ:
برقِ حسنِ شعلہ رْو کا یہ بھی اک اعجاز ہے
دیدِ شعلہ بَدن میں شعلگی رہ جائے گی
کون کس کو یاد رکھتا ہے یہاں پر جعفری
کیا کسی کے دل میں یادِ جعفری رہ جائے گی
محترم ڈاکٹر مقصود جعفری صاحب!
آپ کا نثری فلسفیانہ انداز ہو یا شاعری کا لطیف طرزِ سخن، ایسی شاعری اور شخصیت کو کون بھلا سکتا ہے۔ فکر و فن میں ڈوبے آپ کے افکارِ تازہ، آپ کا یہ منفرد آہنگ کا ربط و تار اور خوشبوؤں سے معطر سازِ دل “یادِ جعفری” کے ساتھ صدیوں گونجتا رہے گا۔
حافظ شیرازی نے بجا کہا تھا:
ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق
ثبت است بر جریدہ عالم دوام ما
اللہ کرے زِورِ قلم اور زیادہ۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here