جنگ کا لفظ سنتے ہی ذہن میں توپوں کی گھن گرج، ٹینکوں کی یلغار، میزائلوں کی پرواز، بارود کی بو اور میدانِ جنگ کے مناظر ابھرتے ہیں۔ صدیوں تک جنگ کا مطلب یہی سمجھا جاتا رہا کہ دو طاقتیں آمنے سامنے ہوں، فوجیں سرحدیں پار کریں اور فتوحات یا شکست کا فیصلہ ہتھیاروں سے ہو، مگر اکیسویں صدی نے جنگ کی تعریف، طریق? کار اور محاذ تینوں بدل دیے ہیں۔ آج کسی ملک کو کمزور کرنے کے لیے اس کی سرحد عبور کرنا ہمیشہ ضروری نہیں رہا۔ حملہ کبھی کمپیوٹر کی اسکرین سے ہوتا ہے، کبھی تجارت اور سرمایہ کاری پر پابندیوں کے ذریعے، کبھی مالیاتی دباؤ کی صورت میں اور کبھی ایسی گمراہ کن اطلاعات پھیلا کر جو کسی معاشرے میں خوف، نفرت اور بے یقینی پیدا کردیں۔ یوں جنگ کے نئے محاذ معیشت، سائبر اسپیس، اطلاعات اور مصنوعی ذہانت تک پھیل چکے ہیں۔ معاشی و جغرافیائی کشمکش دنیا کے فوری اور نمایاں خطرات میں شامل ہے اور اس کشمکش میں ممالک تجارت، توانائی، سرمایہ کاری، پابندیوں، رسد کی زنجیروں اور اہم ٹیکنالوجی تک رسائی کو سیاسی و تزویراتی دباؤ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
آج کسی ملک کی طاقت کا اندازہ صرف اس کے ٹینکوں، جنگی جہازوں اور فوجی تعداد سے نہیں لگایا جاتا، بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اس کی معیشت کتنی مضبوط ہے، توانائی کہاں سے آتی ہے، تجارتی راستے کتنے محفوظ ہیں، بینکاری نظام کتنا مستحکم ہے اور ضروری ٹیکنالوجی کے لیے وہ کس حد تک بیرونی دنیا پر انحصار کرتا ہے۔ اگر درآمدات محدود ہوجائیں، مالیاتی پابندیاں لگ جائیں یا کسی ملک کو اہم ٹیکنالوجی اور ضروری اشیا سے محروم کردیا جائے تو گولی چلائے بغیر بھی اس کی صنعتی رفتار اور عام شہری کی زندگی متاثر ہوسکتی ہے۔ دنیا کے بڑھتے ہوئے دفاعی اخراجات بھی عالمی بے یقینی کی عکاسی کرتے ہیں۔ 2025 میں عالمی فوجی اخراجات تقریباً 2.887 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئے اور یہ مسلسل گیارہواں سال تھا جب دفاعی اخراجات میں اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ دس برس میں ان اخراجات میں تقریباً 41 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تاہم جنگ صرف بارود اور ہتھیاروں کے ذریعے نہیں لڑی جا رہی، بلکہ سائبر اسپیس ایک خاموش مگر خطرناک محاذ بن چکا ہے۔ کسی ملک کے سرکاری ادارے، بینک، بجلی کا نظام، اسپتال، ہوائی اڈے اور مواصلاتی نیٹ ورک سائبر حملے کا نشانہ بن سکتے ہیں، اور اگر ایسا حملہ کامیاب ہوجائے تو روزمرہ زندگی گولی چلائے بغیر بھی مفلوج ہوسکتی ہے۔ اطلاعات کی جنگ اس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے کیونکہ ایک جھوٹی خبر، جعلی تصویر، تبدیل شدہ آواز یا مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیو چند منٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ مسئلہ صرف جھوٹ کا پھیلنا نہیں بلکہ سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کا دھندلا جانا بھی ہے۔ جب عوام ہر خبر، ہر تصویر اور ہر ویڈیو کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگیں تو اعتماد کمزور پڑتا ہے اور معاشرہ تقسیم کا شکار ہوسکتا ہے۔
غلط اور گمراہ کن معلومات اب صرف صحافت یا سوشل میڈیا کا مسئلہ نہیں رہیں، بلکہ یہ قومی سلامتی، جمہوری عمل، سماجی ہم آہنگی اور عوامی اعتماد کا مسئلہ بن چکی ہیں۔ آج کی جنگ شاید اس لیے زیادہ خطرناک ہے کہ اس کا شور ہمیشہ سنائی نہیں دیتا، نہ ہر حملے کے بعد دھماکا ہوتا ہے اور نہ ہر نقصان کے بعد ملبہ دکھائی دیتا ہے۔ کبھی نقصان معیشت میں ظاہر ہوتا ہے، کبھی بجلی اور مواصلاتی نظام میں خلل کی صورت میں، اور کبھی لوگوں کے ذہنوں میں خوف، نفرت اور بداعتمادی پیدا ہونے کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ اگر جنگ کا میدان ہماری اسکرین، ہماری معیشت اور ہماری معلومات بن جائیں تو اصل سوال یہ ہے کہ ہم کیسے پہچانیں گے کہ جنگ شروع ہوچکی ہے؟











