نیویارک (پاکستان نیوز)نیویارک میں جہاں ایک طرف سنگین جرائم میں نمایا ں کمی دیکھی جا رہی ہے، وہیں دوسری طرف نئے اعداد و شمار کے مطابق نفرت انگیز جرائم میں تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ نیویارک پولیس محکمے کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین معلومات کے مطابق اس سال اب تک شہر بھر میں نفرت انگیز واقعات میں 9.4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان میں سے آدھے سے زیادہ یعنی تقریباً 56.9 فیصد واقعات میں یہودی برادری کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ وہ شہر کی مجموعی آبادی کا صرف 10 فیصد ہیں۔ رواں سال کے دوران اب تک مجموعی طور پر 360 نفرت انگیز جرائم پیش آئے ہیں، جبکہ پچھلے سال اسی عرصے میں یہ تعداد 329 تھی۔ صرف جولائی کے مہینے میں ہی ایسے 33 واقعات سامنے آئے۔ اگرچہ قتل اور فائرنگ کے واقعات میں تاریخی کمی آئی ہے اور سات اہم بڑی جرائم کی اقسام میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے، لیکن اس کے باوجود یہودی شہریوں کے خلاف کارروائیوں میں 8.5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے سال کے 189 واقعات کے مقابلے میں اس سال اب تک 205 کیسز درج کیے جا چکے ہیں۔ اس صورتحال پر مختلف کمیونٹی رہنماؤں اور اہم شخصیات نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کچھ سابقہ نمائندوں اور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اعلیٰ حکام کے بیانات اور پالیسیوں کے منفی اثرات شہر کے عمومی ماحول پر مرتب ہو رہے ہیں جس سے برادری میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے۔ پولیس انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کے تحفظ اور تمام علاقوں میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔









