سسٹم کا خوف، اقتدار کی مجبوریاں اور عمران خان کی واپسی ایک سوالیہ نشان؟

0
6

تحریر؛ مجیب ایس لودھی
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اگر کوئی ایک اصطلاح سب سے زیادہ دہرائی گئی ہے تو وہ ہم آہنگی اور یکسانیت کی اصطلاح ہے جس کو عرفِ عام میں نظام کی استواری اور ایک ہی راستے پر چلنا کہا جاتا ہے۔ جب بھی ملک میں نئی حکومت کا قیام عمل میں آتا ہے تو اقتدار کے ایوانوں اور مقتدر حلقوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی کا تاثر دیا جاتا ہے اور یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ فیصلے باہمی رضامندی سے ہو رہے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ظاہری ہم آہنگی دراصل سیاسی مجبوریوں اور عارضی انتظام کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ موجودہ دور حکومت میں بھی یہ بحث شدت اختیار کر چکی ہے کہ آیا یہ بظاہر قائم دکھائی دینے والی ہم آہنگی پائیدار ہے یا محض اقتدار کی بقا کے لیے ایک عارضی بندوبست ہے۔
عام انتخابات کے بعد سے تشکیل پانیوالے سیاسی سیٹ اپ پر مستقل طور پر یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا موجودہ حکمران واقعی ملک کو درپیش معاشی اور انتظامی چیلنجز سے نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا وہ محض ان اختیارات کے مرہونِ منت ہیں جو انہیں عطا کیے گئے ہیں۔ جب بھی ملک کے حکمران طبقے کی کارکردگی اور ان کی کامیابی کا جائزہ لیا جاتا ہے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ محض انتظامی عہدے سنبھال لینا یا بجٹ کے اعداد و شمار پیش کر دینا عوامی تائید کی علامت نہیں ہوتا۔ عوام کا موڈ اور ان کا ردعمل اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کی پالیسیوں سے عام آدمی کی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی ہے۔ صوبائی اور وفاقی سطح پر مختلف ترقیاتی منصوبوں کے اشتہارات تو روزانہ نظر آتے ہیں لیکن ان منصوبوں سے عام انسان کے مسائل حل ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ جب تک عوامی رائے میں مثبت تبدیلی نہ آئے اور لوگ خود کو اس نظام کا حصہ محسوس نہ کریں تب تک کوئی بھی حکومت خود کو پائیدار تصور نہیں کر سکتی۔
موجودہ سیاسی منظرنامے میں جو سب سے بڑا عنصر تمام فریقین کو بے چین کیے ہوئے ہے وہ قید میں موجود اپوزیشن رہنما عمران خان کا سیاسی وجود اور ان کی ممکنہ واپسی کا خوف ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ بات اور بھی نمایاں ہوتی جا رہی ہے کہ حکمران اتحاد اور مقتدرہ دونوں کے دلوں میں ایک غیر مرئی خوف موجود ہے کہ اگر یہ سیاسی قیدی باہر آتا ہے یا عوامی مقبولیت کا لہر بن کر ابھرتا ہے تو موجودہ سیاسی ڈھانچہ پل بھر میں بکھر سکتا ہے۔ مختلف اوقات میں یہ خبریں اور قیاس آرائیاں سامنے آتی رہتی ہیں کہ پسِ پردہ معاہدوں اور لوٹ مار سے پاک راستہ نکالنے کے لیے متعدد تجاویز پیش کی گئیں لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود حالات میں کوئی حتمی توازن پیدا نہیں ہو سکا۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ اقتدار میں موجود لوگ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ان کی عوامی مقبولیت انتہائی نچلی سطح پر ہے اور وہ صرف انتظامی سہارے کے ذریعے حکومت چلا رہے ہیں۔ اگر یہی سہارا تھوڑا سا بھی ڈگمگا جائے تو ان کے لیے اقتدار کے ایوانوں میں قائم رہنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ ملک کے خارجہ امور اور بین الاقوامی سطح پر سفارتی تعلقات کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ بات سچ ہے کہ کچھ امور میں عارضی بہتری کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے اور عالمی ایوانوں میں پاکستان کا تاثر بہتر بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ لیکن تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ دنیا بھر میں کوئی بھی ملک بین الاقوامی سطح پر اس وقت تک مضبوط اور معتبر نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ داخلی طور پر مستحکم اور متحد نہ ہو۔ اندرونی خلفشار، سیاسی بے یقینی اور معاشی بدحالی کے ہوتے ہوئے بیرونی دنیا میں حاصل کی جانے والی تمام کامیابیاں عارضی اور کھوکھلی ثابت ہوتی ہیں۔
جب تک ملک کے اندر سیاسی استحکام نہیں آتا، انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے اور عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حقیقی حق نہیں ملتا، تب تک عالمی سطح پر پاکستان کا مقام اور احترام دائمی بنیادوں پر قائم نہیں ہو سکتا۔ اگر ہم ماضی کا جائزہ لیں تو واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں جب بھی طاقت کے بل بوتے پر یا سیاسی جوڑ توڑ کے ذریعے نظام کو چلانے کی کوشش کی گئی، وہ بالآخر ایک نئے بحران پر ہی ختم ہوئی۔ موجودہ حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے کیا قدم اٹھاتی ہے۔ صرف چند ارب روپے کے منصوبے بنا دینا یا میڈیا پر تشہیر کر دینا عوام کا دل نہیں جیت سکتا۔
جب تک عوام کو یہ محسوس نہیں ہوگا کہ ان کے حقوق محفوظ ہیں اور ان کی رائے کا احترام کیا جا رہا ہے، تب تک یہ سیاسی خلیج بڑھتی ہی جائے گی۔ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے تمام افراد کو یہ بات درک کرنی ہوگی کہ اپوزیشن کو مکمل طور پر دیوار سے لگانے اور محض چند چہروں پر انحصار کرنے کی پالیسی طویل المدتی بنیادوں پر کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ملک میں پائیدار جمہوریت اور قانون کی حکمرانی اسی وقت ممکن ہے جب تمام سیاسی قوتوں کو مساوی موقع دیا جائے اور عوام کے فیصلے کو کھلے دل سے تسلیم کیا جائے۔ آئندہ کے حالات کا منحصر اس بات پر ہوگا کہ کیا موجودہ نظام اپنے اندر اتنی لچک پیدا کر سکتا ہے جو سیاسی کشیدگی کو کم کر سکے یا پھر یہ خوف اور بے اعتمادی کی فضا ملک کو مزید کسی بڑے سیاسی طوفان کی طرف دھکیل دے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here