نیویارک (پاکستان نیوز)ایران کے ساتھ جاری تنازع کے دوران کویت کی بندرگاہ پر واقع امریکی فوجی اڈے پر ہونے والے ایرانی ڈرون حملے میں شدید زخمی ہونے والے نو امریکی فوجیوں نے پینٹاگون کے تحت ملنے والی طبی دیکھ بھال کی ناقص صورت حال پر کھل کر اظہار تشویش کیا ہے۔ حاضر سروس فوجیوں کی جانب سے اس طرح علانیہ طور پر فوجی انتظامیہ اور طبی نظام پر تنقید کرنا انتہائی نادر واقع سمجھا جا رہا ہے۔ ان اہلکاروں کا کہنا ہے کہ چھ ساتھیوں کی ہلاکت کے بعد جب وہ خود جسمانی اور دماغی طور پر شدید زخمی حالت میں جرمنی کے فوجی اسپتال پہنچے تو انہیں باقاعدہ داخل کرنے کے بجائے بیرکوں میں بھیج دیا گیا اور خود ہی وقت لے کر علاج کروانے کی ہدایت کی گئی۔
ان فوجیوں کا موقف ہے کہ غلط انتظامی ریکارڈنگ کی وجہ سے ان کے زخموں کو جنگی چوٹوں کے طور پر درج ہی نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے انہیں بنیادی دیکھ بھال سے محروم رکھا گیا۔ کئی ماہ گزرنے کے باوجود متعدد اہلکار اپنے دماغی معاینے کی رپورٹوں کا انتظار کر رہے ہیں جبکہ بعض کو خطرے کے باوجود بروقت علاج نہیں مل سکا۔ فوجیوں کا کہنا ہے کہ جس مقدس اعتماد پر وہ اپنے ملک کے لیے لڑ رہے تھے، وہ ٹوٹ چکا ہے۔ دوسری جانب دفاعی حکام نے اس بات کی تردید کی ہے اور موقف اپنایا ہے کہ تمام زخمیوں کو طبی اصولوں کے مطابق دیکھ بھال فراہم کی جا رہی ہے جبکہ فوجی انتظامیہ نے معاملے کی مزید تحقیقات مکمل ہونے تک تبصرے سے معذرت کی ہے۔










