اکتوبر کے مہینے میں قومی یوم سیاہ منایا جانا چاہیے۔ سات اکتوبر 1958 سے بارہ اکتوبر 1999 تک لگائے گئے تمام مارشل لاؤں کے خلاف یوم سیاہ منانا چاہیے، تاکہ جنرلوں کی آئین اور قانون سے تمام بغاوتوں کا ازالہ ہو سکے اور آئندہ کسی جنرل کو مارشل لا لگانے کی جرات نہ ہو۔ سات اکتوبر 1958 کو پہلے صدر میجر جنرل اسکندر مرزا اور وزیر دفاع و آرمی چیف جنرل ایوب خان نے پاکستان کے پہلے 1956 کے آئین کو منسوخ کرتے ہوئے ملک پر پہلا مارشل لا نافذ کر دیا تھا۔ اس کے بعد 27 اکتوبر 1958 کو جنرل ایوب خان نے اسکندر مرزا کو ملک بدر کر کے تمام اختیارات پر قبضہ کر لیا۔ بعد ازاں جنرل یحییٰ خان نے 25 مارچ 1969 کو جنرل ایوب خان کے خلاف اقدام کرتے ہوئے ملک میں دوسرے مارشل لا کا نفاذ کیا اور 1962 کا دوسرا آئین منسوخ کر دیا۔ جنرل یحییٰ خان نے اپنے ملٹری قانون ایل ایف او کے تحت 1970 کے انتخابات منعقد کرائے۔ ان انتخابات کے نتیجے میں عوامی لیگ نے کامیابی حاصل کی اور بنگالی عوام نے مغربی پاکستان سے زیادہ ووٹ ڈال کر اپنی حب الوطنی کا ثبوت دیا۔ تاہم نتائج کو تسلیم نہ کرتے ہوئے طاقت کے استعمال کو ترجیح دی گئی اور ملٹری آپریشن شروع کیا گیا جو بالآخر مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا باعث بنا۔
اس بحران کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے حکومت سنبھالی اور تمام سیاسی جماعتوں کے تعاون سے 1973 کا آئین تشکیل دیا، جس نے ملک کو دوبارہ ایک وفاق کے روپ میں متحد کیا۔ ابھی پاکستان پچھلے مارشل لاؤں کے تباہ کن اثرات سے نکل نہیں پایا تھا کہ پانچ جولائی 1977 کو جنرل ضیاء الحق نے ایک اور مارشل لا نافذ کرتے ہوئے آئین معطل کر دیا اور منتخب وزیراعظم کو تختہ دار پر لٹکا دیا۔ یہ دور گیارہ سال تک جاری رہا، جس کے دوران پاکستان غیر ملکی جنگوں اور انتہا پسندی کے باعث سنگین دہشت گردی کا شکار ہوا۔ اس کے بعد نوے کی دہائی میں سول حکومتوں کے خلاف عدم استحکام کا سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ جنرل مشرف نے بارہ اکتوبر 1999 کو چوتھا مارشل لا نافذ کر کے آئین معطل کر دیا اور اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو ملک بدر کر دیا۔
جب جنرل مشرف نے نومبر 2007 میں دوبارہ آئین معطل کر کے ایمرجنسی نافذ کی اور عدلیہ کو برطرف کیا تو اس کے خلاف ملک گیر وکلا تحریک نے جنم لیا، جسے عالمی سطح پر بھی پذیرائی حاصل ہوئی۔ بعد ازاں مارچ 2009 میں عدلیہ کی بحالی کے بعد سپریم کورٹ نے جنرل مشرف کے غیر آئینی اقدامات کو کلعدم قرار دے دیا۔ بعد میں آنے والی حکومت نے ان کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت سنگین غداری کا مقدمہ قائم کیا، جس کے لیے تشکیل دی گئی خصوصی عدالت نے جنرل مشرف کو سزا سنائی۔
پاکستان کی تاریخ میں اکتوبر کا مہینہ آئینی تعطیل اور مارشل لاؤں کی تلخ یادوں سے جڑا رہا ہے، جنہوں نے ملکی سیاسی و آئینی ساخت کو شدید نقصان پہنچایا۔ اسی لیے آئین کی بالادستی اور جمہوریت کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ان غیر آئینی اقدامات کی یاد میں یوم سیاہ منایا جائے تاکہ مستقبل میں آئین کی شکنزی کا راستہ روکا جا سکے۔
٭٭٭

![2021-04-23 18_32_09-InPage - [EDITORIAL-1-16] رمضان رانا](https://weeklynewspakistan.com/wp-content/uploads/2021/04/2021-04-23-18_32_09-InPage-EDITORIAL-1-16.png)







