جزیرہ نما عرب کی جغرافیائی اور سیاسی فضا میں ایک ایسا بنیادی اور گہرا انقلاب برپا ہو چکا ہے جو صدیوں کے پرانے استبدادی اور روایتی توازن کو یکسر الٹ رہا ہے۔ ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حالیہ اور انتہائی تباہ کن میزائل حملوں نے نہ صرف خطے کے نام نہاد دفاعی حصار کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کر دیا ہے بلکہ اس بات پر بھی مہر ثبت کر دی ہے کہ اب خطے کے فیصلے پرانے سامراجی اور علاقائی آقاؤں کی مرضی سے نہیں ہوں گے۔ یمنی مسلح افواج کے ترجمان کی طرف سے جاری ہونے والے بیانات اور زمینی حقائق یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ ایک غیر ریاستی اور پسماندہ سمجھے جانے والے خطے نے دنیا کی سب سے بڑی فوجی اور معاشی طاقتوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے۔ سعودی عرب جو اپنے دفاع پر اربوں ڈالر کی خطیر رقم خرچ کرتا ہے اور دنیا کا سب سے بڑا دفاعی خریدار مانا جاتا ہے، آج اپنی ہی دارالحکومت کے آسمان پر منڈلاتے ہوئے خطرات کے سامنے بے بس دکھائی دیتا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں یمن کی جانب سے کیے جانے والے ان کارروائیوں نے نہ صرف سعودی عسکری حکمت عملی کو تہہ و بالا کر رکھا ہے بلکہ ریاض کے تمام تر دعوؤں کی دھجیاں بھی اڑا دی ہیں۔ جب دارالحکومت کے قلب میں میزائل گرتے ہیں اور فضائی دفاعی نظام ان کا راستہ روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہو جاتا ہے تو حکمرانوں کی طرف سے اس حقیقت کو چھپانے کی کوششیں شروع ہو جاتی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان حملوں کے بعد حکومت نے عام شہریوں کو قبل از وقت خطرے سے خبردار کرنے والے انتباہی نظام کو بند کر رکھا ہے تاکہ عوام میں یہ خوف نہ پھیلے کہ ملک غیر محفوظ ہے۔ اس پالیسی کا مقصد دنیا اور اپنے ملک کے باسیوں کو یہ دکھانا ہے کہ سب کچھ معمول کے مطابق ہے لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے خطے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکمران طبقہ ایک طرف فوجی جارحیت جاری رکھنا چاہتا ہے اور دوسری طرف اپنی عوام کو جھوٹی تسلیاں دے رہا ہے جو خود ان کی اندرونی کمزوری کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
موجودہ صورتحال کا سب سے خطرناک اور چشم کشا پہلو یہ ہے کہ سعودی عرب کے پاس پیٹریاٹ اور تھاڈ جیسے مہلک دفاعی میزائلوں کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ ملک کا دفاعی بجٹ دنیا بھر میں نمایاں مقام رکھتا ہے اور قومی پیداوار کا ایک بہت بڑا حصہ فوج پر خرچ کیا جاتا ہے، اس کے باوجود اتنے بڑے جغرافیے کی بیک وقت حفاظت کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ تیل کی تنصیبات، ریفائنریز، بندرگاہیں اور عسکری اڈے بیک وقت نشانے پر ہیں اور یمنی فورسز کی طرف سے اپنائی گئی نئی حکمت عملی نے دفاعی ماہرین کو شش و پنج میں مبتلا کر رکھا ہے۔ پہلے پہل ڈرون بھیج کر فضائی نظام کو الجھایا جاتا ہے اور پھر ایسے جدید میزائل داغے جاتے ہیں جو پرواز کے دوران اپنی سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس تکنیکی برتری نے روایتی دفاعی نظام کو بے کار کر کے رکھ دیا ہے اور تیل کی برآمدات سے وابستہ اس معیشت کو شدید ترین دھچکا پہنچایا ہے۔
زمینی محاذ پر بھی یمنی افواج تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں اور اسٹریٹجک لحاظ سے انتہائی اہم اضلاع پر مکمل کنٹرول حاصل کیا جا چکا ہے۔ محاصرہ روز بروز تنگ ہوتا جا رہا ہے اور سعودی حمایت یافتہ مقامی فورسز کے پاس پیچھے ہٹنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچا۔ اس ساری صورتحال نے عالمی تجارت کی شہ رگ یعنی آبنائے باب المندب کو بھی براہ راست متاثر کیا ہے۔ بحیرہ احمر کی اس گزرگاہ پر یمن کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی وجہ سے بحری جہازوں کے انشورنس اخراجات اور کرایے تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ دنیا بھر کی بڑی تجارتی کمپنیوں کو اب افریقہ کے گرد طویل اور دشوار گزار راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں جس سے عالمی سطح پر مہنگائی کا طوفان امڈ آیا ہے۔ اس بحران نے یہ واضح کر دیا ہے کہ خطے میں امن اور تجارت کا استحکام اب یمن کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں رہا۔
دوسری طرف بین الاقوامی سطح پر اس بحران کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور سامراجی طاقتیں شدید تذبذب کا شکار ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے اس جنگ میں براہ راست کودنا ایک ایسا دلدل بن چکا ہے جہاں سے نکلنا ناممکن ہے۔ اگر بڑی طاقتیں اس تنازع میں کھل کر سامنے آتی ہیں تو پورا خطہ ایک ایسی خوفناک آگ کی لپیٹ میں آ جائے گا جو پوری دنیا کی معیشت کو راکھ کر دے گی اور اگر وہ خاموش رہتے ہیں تو ان کے پرانے اتحادی کی ساکھ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتی ہے۔ اس تمام صورتحال میں اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے صرف بیانات کی حد تک محدود ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جزیرہ نما عرب میں طاقت کا توازن ہمیشہ کے لیے تبدیل ہو چکا ہے۔ تاریخ کا یہ باب اس بات کی گواہی دے گا کہ کس طرح ایک عزم اور نظریے سے لیس قوم نے دنیا کی بڑی بڑی عسکری سلطنتوں کو شکست سے دوچار کیا اور اپنی خودمختاری کو لوہے کی طرح منوا لیا۔
٭٭٭










