ٹرمپ کا روسی تیل
کی خریداری کا معاہدہ اور ڈالر کی واپسی!!
عالمی سیاست اور معیشت کی بساط پر ایک ایسا موڑ آ چکا ہے، جس نے روایتی مفروضوں کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا ہے۔ عالمی سطح پر توانائی کی ترسیلات اور مالیاتی منڈیوں کے حوالے سے جو حالیہ تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، وہ نہ صرف حیرت انگیز ہیں بلکہ آنے والے برسوں کے لیے بین الاقوامی تعلقات کی نئی تعریف بھی کر رہی ہیں۔ امریکی صدر کی طرف سے روسی ڈیزل پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اور اس کے نتیجے میں ہونیوالے معاہدے نے دنیا بھر کے معاشی اور سیاسی حلقوں میں ایک ہلچل مچا دی ہے۔ اس اکیلے فیصلے کے اثرات محض ایندھن کی قیمتوں تک محدود نہیں ہیں، بلکہ اس کے پیچھے طاقت اور اثر و رسوخ کی ایک بہت بڑی جنگ چھپی ہوئی ہے، جو براہ راست عالمی معیشت کے مرکزی ستونوں کو ہلا رہی ہے۔کچھ عرصہ پہلے تک یہ تصور بھی محال تھا کہ مغرب، بالخصوص امریکہ، روس کے ساتھ توانائی کے شعبے میں کسی قسم کی نرمی برتے گا؛ لیکن زمینی حقائق اور سیاسی دباؤ نے تمام پرانے ضابطوں کو بدل ڈالا ہے۔ روس کی ریفائنریز پر ہونیوالے حملوں اور عالمی سطح پر ایندھن کی قلت کے بعد جو بحران پیدا ہوا تھا، اس سے نمٹنے کے لیے ایک غیر معمولی قدم اٹھایا گیا۔ اس سمجھوتے کے تحت روس نے عالمی منڈیوں کو بڑے پیمانے پر ڈیزل کی فراہمی کا اعلان کیا ہے، جس کا بنیادی مقصد قیمتوں کے دباؤ کو کم کرنا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد دونوں بڑی طاقتوں کے مابین توانائی کی جنگ بندی کا اعلان بھی سامنے آیا ہے، جس کے تحت اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ فریقین توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے سے گریز کریں گے۔ اس صورتحال نے عالمی منڈیوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے؛ کیونکہ اس معاہدے کی بازگشت صرف تیل اور گیس کی پائپ لائنوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کے مالیاتی اثرات بہت گہرے ہیں۔
اس پوری پیش رفت کا سب سے اہم اور دلچسپ پہلو بین الاقوامی تجارت کے لیے استعمال ہونے والی کرنسیوں کا مستقبل ہے۔ پچھلے چند برسوں کے دوران دنیا بھر میں یہ تاثر بہت شدت سے ابھرا تھا کہ بڑے ممالک، اور بالخصوص ابھرتی ہوئی معیشتیں، امریکی کرنسی کے تسلط سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس مقصد کے لیے مختلف اتحادوں کے پلیٹ فارم سے متبادل مالیاتی نظام بنانے اور باہمی تجارت کے لیے قومی کرنسیوں یا دیگر ذرائع کے استعمال پر زور دیا جا رہا تھا۔ چین اور دیگر شراکت دار ممالک کی جانب سے ایسے تجارتی انتظامات کو فروغ دیا جا رہا تھا، جو روایتی مغربی مالیاتی نظام کے متبادل کے طور پر دیکھے جا رہے تھے۔ ان کوششوں کا مقصد عالمی تجارت کے توازن کو تبدیل کرنا تھا؛ لیکن حالیہ معاہدوں اور پس پردہ ہونے والی سفارتی پیش رفت نے اس سمندر کا رخ ایک بار پھر موڑ دیا ہے۔اب یہ اشارے مل رہے ہیں کہ جو ملک طویل عرصے سے متبادل مالیاتی نظام اور ڈالر کے تسلط کو کم کرنے کی باتیں کر رہا تھا، وہی ملک اپنی معاشی ضرورتوں اور توازن کے تحت دوبارہ مرکزی عالمی کرنسی کے ساتھ تجارت کو ترجیح دینے کی طرف مائل ہو رہا ہے۔ معاشی ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ عالمی منڈیوں میں استحکام لانے اور اپنے مالیاتی اثاثوں کو محفوظ رکھنے کے لیے اس قسم کے سمجھوتے ناگزیر ہو جاتے ہیں، چاہے بظاہر سیاسی بیانات میں مخالفت کتنی ہی شدید کیوں نہ ہو۔ جب تجارتی مفادات اور بقا کا سوال آتا ہے، تو بڑے ممالک عملیت پسندانہ فیصلے کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ تبدیلی عارضی ہے، یا اس کے پیچھے ایک طویل مدتی معاشی حکمت عملی کارفرما ہے؟ دوسری طرف، اس فیصلے کے سیاسی مضمرات بھی کم اہم نہیں ہیں۔ امریکہ میں اندرونی سیاسی سطح پر حکمران جماعت کو مہنگائی اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے شدید دباؤ کا سامنا تھا۔ انتخابات سے پہلے عوام کو ریلیف فراہم کرنا اور قیمتوں کو قابو میں رکھنا کسی بھی حکومت کے لیے سب سے بڑی ترجیح ہوتا ہے۔ اس سیاسی مجبوری نے قیادت کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اپنے دیرینہ مؤقف سے ہٹ کر روس کے ساتھ ایک ایسا راستہ نکالے، جس سے توانائی کی سپلائی بحال ہو سکے۔ اس عمل سے یہ بات ایک بار پھر ثابت ہو گئی ہے کہ نظریات اور سیاسی دشمنیاں اپنی جگہ درست سہی، لیکن جب پیٹ اور معیشت کا سوال آتا ہے، تو تمام اصول پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
اس پورے منظرنامے میں دنیا بھر کے معاشی تجزیہ کار اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ معاہدہ عالمی سطح پر طاقت کے توازن کو تبدیل کر دے گا یا نہیں۔ ایک طرف جہاں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے عارضی سہی، لیکن ایک موثر سبیل نکل آئی ہے؛ وہیں دوسری طرف روایتی مالیاتی نظام کے حامیوں کو ایک نئی زندگی ملتی دکھائی دے رہی ہے۔ وہ ممالک جو ابھرتی ہوئی معیشتوں کے اتحاد کے تحت اپنے تجارتی نیٹ ورک کو پھیلا رہے تھے، اب اس بات پر غور کرنے پر مجبور ہیں کہ عالمی تجارت میں مرکزی دھارے کے مالیاتی نظام کی اہمیت کو اتنی آسانی سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ دنیا اب کسی ایک بلاک کے تابع نہیں رہی، بلکہ ہر ملک اپنے قومی مفاد کے تحت فیصلے کر رہا ہے۔
آنے والے مہینے اس لحاظ سے انتہائی فیصلہ کن ہوں گے کہ یہ عارضی سمجھوتے اور معاہدے کس حد تک پائیدار ثابت ہوتے ہیں، اور کیا یہ عالمی سطح پر امن اور استحکام کی کوئی نئی راہ ہموار کر پائیں گے یا نہیں۔ تیل اور توانائی کے یہ سودے محض کاغذ کے ٹکڑے نہیں ہیں، بلکہ یہ عالمی سیاست کی وہ لکیریں ہیں جو دنیا کے نقشے کو مسلسل بدل رہی ہیں۔ اس تمام کھیل میں عام آدمی کی نظریں صرف اس بات پر مرکوز ہیں کہ اسے مہنگائی سے کتنا ریلیف ملتا ہے اور دنیا میں امن کے آثار کتنی تیزی سے پیدا ہوتے ہیں؛ لیکن پس پردہ جو معاشی اور سفارتی کھیل کھیلا جا رہا ہے، اس کے اثرات آنے والی کئی دہائیوں تک پوری دنیا پر اثر انداز ہوتے رہیں گے۔
٭٭٭













