کیا ہم انسان ہیں؟

0
9
کامل احمر

ادب، فلم، کھیل اور ثقافت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ ادب دنیا کے ہر ملک کی پہچان ہے اگر زبان کو نکال دیں تو یکسانیت ہے اور یہی بات فلم کے لیے کہی جا سکتی ہے جو فنون لطیفہ کی بہترین اور بڑی مثال ہے جس میں فلم کے پردے پر برسوں کی کہانی دکھا دی جاتی ہے۔ چونکہ ہم مسلمان ہیں تو سمجھتے ہیں کہ فلم کوئی واہیات یا بدمعاشی کی بات ہے اور مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا، یہ فیصلہ بھی ہم ہی نے کرنا ہوتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کتابیں پڑھنا برا یا منع ہونا، کیونکہ ایک چیز کاغذ پر ہے اور دوسری فلم کے پردے پر لیکن دونوں میں ایک ہی طرح کی بات ہوتی ہے۔ جو کہانی پڑھی جاتی ہے اس کو فلم کی شکل دی جاتی ہے اور اس میں جو بڑے کردار ہوتے ہیں وہ کہانی کو زندہ کرتے ہیں جبکہ کچھ کہانیاں اصل ہوتی ہیں اور پڑھنے کے لیے دلچسپ بنائی جاتی ہیں۔ انہیں مزید دلچسپ بنانے کے لیے فلمی شکل میں لایا جاتا ہے جبکہ کچھ کہانیاں معاشرے سے لی جاتی ہیں۔
مثال کے طور پر 1948 میں اٹلی کے فلم ہدایت کار نے بہت کم بجٹ سے ایک عام سی کہانی بائیسکل تھیوز پر فلم بنا ڈالی۔ ایک آدمی کی سائیکل چوری ہو جاتی ہے اور وہ اسے ڈھونڈنے کے لیے روم میں اپنے بیٹے کے ساتھ گلی گلی جاتا ہے کیونکہ وہ سائیکل کے بغیر اپنی ملازمت نہیں کر سکتا۔ کہنے کو یہ بالکل عام سی کہانی ہے لیکن کرداروں کی اداکاری نے اس میں ایسی جان ڈالی کہ دنیا بھر میں اس نے شہرت حاصل کی اور ہدایت کار وٹوریو ڈی سیکا کا شمار دنیا کے بڑے بڑے ہدایت کاروں کی فہرست میں ہونے لگا۔ لیکن ہم مسلمان فلمیں نہیں دیکھتے اور مذہب کے غلبے میں رہنا آسان سمجھتے ہیں، لہذا اپنے ہی پیغمبر رسول محمد مصطفٰے پر لیبیا کے ہدایت کار مصطفٰے عقاد جو شامی امریکی تھے، کی فلم دی میسج کو مسترد کر دیا جس میں لیبیا کے معمر قذافی نے بھی اپنا حصہ ڈالا تھا۔ پاکستان میں اس کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا جبکہ انڈیا میں جہاں فتویٰ دینے والے موجود ہیں وہاں فلم کی نمائش بند کروا دی گئی۔ تبلیغ کے ایک نامی گرامی شخص سے بات کے دوران جب اس کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے نعوذ باللہ کہا اور بولے کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے، حالانکہ اس فلم میں حضور کا چہرہ یا آواز کہیں بھی نہیں تھی۔
حقیقت یہ ہے کہ 1940 سے 1980 تک فلموں کا زور رہا اور فیملی کے لیے یہی تفریح تھی کہ سب مل کر سینما ہال جاتے تھے۔ پھر یہ فلم سازی یا فن پاکستان اور ہندوستان کے لچے اور لفنگے لوگوں کے ہاتھوں میں آ گیا اور سوشل میڈیا یا میڈیا پر جو ڈرامے دیکھے جا رہے ہیں ان پر منہ سے ہزاروں گالیاں نکلتی ہیں کہ ان لوگوں نے خاص طور پر جیو اور ہم جیسے میڈیا کو گند میں نہلا دیا ہے۔ بے تکی کہانی اور بے تکی ہدایت کاری کی وجہ سے اچھے اچھے ہدایت کار ٹی وی سے نکل بھاگے ہیں اور بس ایک آدھ ہی باقی بچا ہے۔
ایک وہ وقت بھی تھا جب سینما معاشرے کا اہم حصہ تھا اور کہانی کار و گیت لکھنے والے سرور بارہ بنکوی اور مجروح سلطان پوری جیسے لوگ تھے جبکہ فلم بنانے والے محبوب خان، گرو دت، امیہ چکرورتی اور بمل رائے تھے۔ اب صرف ایک دو ہدایت کار رہ گئے ہیں جن میں ایک مشہور ڈائریکٹر ودھو ونود چوپڑا ہیں جن کی ہر فلم شاہکار اور معاشرے سے لی گئی کہانی پر مبنی ہوتی ہے۔ ان کی ابتدائی کرائم ڈراما فلم پرندہ میں مشہور کریکٹر اداکار نانا پاٹیکر نے گاڈ فادر کا رول ادا کیا تھا۔ بمبئی کے معاشرے پر بنائی گئی یہ فلم اب تک کی بہترین فلموں میں شمار ہوتی ہے۔ نانا پاٹیکر کو اس فلم پر فلم فیئر کا بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ ملا تھا اور جیکی شروف کو بہترین اداکار کا ایوارڈ ملا جو غلط نہیں تھا۔ نانا کو اس کے بعد کی فلم کرانتی ویر میں 1994 میں فلم فیئر کا بہترین اداکار کا ایوارڈ ملا تھا۔ جب وہ یہ ایوارڈ لینے اسٹیج پر آئے تو انہوں نے دلیپ کمار کو فاصلے پر رک کر دیکھا اور دیکھتے ہی رہ گئے، پھر قریب آ کر ان کے پاؤں چھوئے اور بغیر کچھ کہے سب کچھ کہہ دیا کہ آپ کو دیکھ دیکھ کر ہی فلم اسٹار بنا ہوں۔
نانا پاٹیکر کا پچھلے ہفتے گوا میں دل کا دورہ پڑنے پر 75 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ نانا کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ ایک بڑے انسان تھے، ان کا کہنا تھا کہ میں ہندو اس لیے ہوں کیونکہ ہندو خاندان میں پیدا ہوا اور اگر مسلم گھرانے میں پیدا ہوتا تو مسلمان ہوتا، لیکن ہندو ہونے سے کہیں زیادہ اہم بات یہ ہے کہ کیا میں اچھا انسان ہوں۔ یقیناً وہ ایک بہت اچھے انسان تھے جو اپنی آمدنی کا اسی فیصد حصہ غریبوں اور ناداروں پر خرچ کرتے تھے اور ان کا ماننا تھا کہ انسان صرف زندہ لوگوں کو جگا سکتا ہے جبکہ جو مردہ ہو چکے ہیں انہیں نہیں جگایا جا سکتا۔انہیں حکومت کی طرف سے بھی کئی ایوارڈز دئیے گئے لیکن انہوں نے اس کا چرچہ کبھی نہیں کیا۔ دادا صاحب پھالکے، بھارت رتن، پدم وبھوشن، پدم بھوشن اور پدم شری جیسے اعزازت ان کے حصے میں آئے۔
نانا پاٹیکر کے نزدیک صرف اور صرف دلیپ کمار کی اہمیت تھی اور وہ ان سے بے حد متاثر تھے۔ انہوں نے مرکزی کرداروں میں صرف 60 فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے اور ہر کردار یا کریکٹر ایکٹنگ منفی روپ میں تھی، مگر کہا جا سکتا ہے کہ منفی رول کرنے والوں کو فلم بینوں نے عمومی طور پر کبھی پسند نہیں کیا چاہے اداکاری کو پسند ہی کیوں نہ کیا ہو، لیکن نانا پاٹیکر کو دونوں طرح کے کرداروں میں پسند کیا جاتا تھا۔ اب اگر ان کا موازنہ دلیپ کمار سے کریں تو یہی کہا جائے گا کہ دلیپ کمار کی اداکاری میں ٹھہراؤ تھا اور وہ ہر کردار کو اچھی طرح سمجھ کر اداکاری کرتے تھے۔ اس کی مثال فلم دیدار ہے جس میں وہ ایک ایسے اندھے کا رول کر رہے تھے جس کی آنکھیں کھلی ہوتی ہیں، جب وہ اس میں مشکل محسوس کر رہے تھے تو محبوب خان نے مشورہ دیا کہ بمبئی ریلوے اسٹیشن کی سیڑھیوں پر ایک اندھا بیٹھتا ہے اسے جا کر دیکھ لیں۔ دوسرے دن دلیپ کمار وہاں گئے، اس کا جائزہ لیا اور پھر فلم میں وہ کردار ادا کیا۔ دلیپ کمار نے بھی صرف 57 فلموں میں کام کیا اور کئی فلم فیئر ایوارڈز حاصل کیے۔ نانا پاٹیکر نے تو ایک انٹرویو میں یہاں تک کہا تھا کہ دلیپ کمار جیسا ایکٹر نہ کبھی پیدا ہوا ہے اور نہ کبھی پیدا ہوگا۔ یہ بات درست ہے کہ دلیپ کمار پہلے میتھڈ یعنی جذباتی ریہرسل کرنے والے اداکار تھے اور اس کے بعد مارلن برانڈو کا نام آتا ہے۔ فلم دیوداس دیکھی جائے جس میں انہوں نے ہر منظر کے لیے جذباتی اداکاری کی ہے اور خاموش رہ کر بھی رلایا ہے، ان کے نزدیک بھی ایوارڈز کی کبھی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ ان کا بھی یہی کہنا تھا جو انہوں نے دبئی کے مشاعرے میں کہا تھا کہ انسان بننا مشکل کام ہے اور یہ بچپن سے شروع ہوتا ہے، یعنی جب بچپن میں آپ کسی پر غصہ ہوتے ہیں، اپنی طاقت دکھاتے ہیں اور کسی کو بھوکا دیکھ کر خاموش بیٹھے رہتے ہیں۔ آج پاکستان میں سب ہی اسلام کا شور مچاتے ہیں خاص کر حکمران، لیکن کیا وہ انسانیت کے دائرے میں ہیں؟

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here