پاکستان میں جمہوری اقدار کا وجود اب محض ایک رسمی دعوے کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا، جس کے باعث یہ تلخ حقیقت تسلیم کرتے ہوئے جمہوری نظام یا جمہوری ملک ہونے کے تصور کی فاتحہ پڑھ لینی چاہیے۔ سیاسی انتشار اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ قومی مسائل کے حل کی کوئی سنجیدہ صورت دکھائی نہیں دیتی۔ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کی باتیں اس سوال کو مزید سنگین بنا دیتی ہیں کہ کیا پاکستان میں آئین اور قانون واقعی بالادست ہیں، یا یہ محض کتابوں میں لکھی وہ تحریریں ہیں جن پر قومی خزانے کے خرچ پر سیاہی ضائع کی گئی؟
جمہوریت محض انتخابات کرانے، اسمبلیاں قائم کرنے اور حکمرانوں کے حلف اٹھانے کا نام نہیں، بلکہ جمہوریت ایک طرزِ فکر، ایک سیاسی رویہ اور ایک ایسا اجتماعی معاہدہ ہے جس میں اختلافِ رائے کو برداشت کیا جاتا ہے، عوام کے فیصلے کو تسلیم کیا جاتا ہے اور ریاستی ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرتے ہیں۔ تاہم جب انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھیں، سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگایا جائے، پارلیمان کی حیثیت کمزور پڑ جائے اور صوبائی حکومتوں کے مستقبل کا فیصلہ عوامی مینڈیٹ کے بجائے طاقت کے مراکز میں ہونے لگے تو پھر صرف جمہوریت کا نام لینے سے جمہوریت قائم نہیں رہ سکتی۔
چونکہ ہمارا نظام اب بڑی حد تک ننگا ہو چکا ہے، اس لیے گلے میں لٹکا جمہوری اقدار کا تعویذ بھی اتار کر میثاقِ جمہوریت کے صندوق میں رکھ دینا چاہیے تاکہ کم از کم اس منافقت سے نجات ملے جس میں ہر سیاسی جماعت اقتدار میں آ کر جمہوریت کی تعریف اپنے مفادات کے مطابق کرتی ہے اور اپوزیشن میں بیٹھتے ہی آئین، قانون، انسانی حقوق اور عوامی مینڈیٹ کی محافظ بن جاتی ہے۔ اس صورتِ حال میں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جمہوریت صرف اس وقت خطرے میں ہوتی ہے جب اقتدار مخالف جماعت کے پاس ہو؟ کیا اصولوں کی کوئی مستقل حیثیت نہیں، یا ہر سیاسی جماعت کے لیے اصولوں کا پیمانہ اس کے سیاسی فائدے کے مطابق بدلتا رہتا ہے؟
نظام کی اس بربادی کے باعث یہ سب لکھنے کو دل کر رہا ہے، وگرنہ سچ پوچھیں تو پاکستان تحریکِ انصاف جیسی جماعت کے لیے ایسے اقدامات پر ذرا بھی دکھ نہیں ہوتا جس نے پاکستان میں غیر جمہوری قوتوں کی بدمعاشی کو فروغ دینے کے لیے تن من دھن سے کام کیا تھا۔ اقتدار کی راہداریوں میں طاقت ور حلقوں کی قربت کو سیاسی کامیابی سمجھنے والی جماعتیں شاید یہ بھول جاتی ہیں کہ غیر جمہوری طاقتوں کو اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کرنے کی روایت بالآخر اپنے بانیوں اور سرپرستوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو سیاسی قوت آج کسی دوسرے کی آواز دبانے پر خاموش رہتی ہے، اسے کل اپنی آواز دبائے جانے پر جمہوریت یاد آ جاتی ہے۔
غیر جمہوری مداخلت کے جس جن کو بوتل میں بند کرنے کے قریب تر لے جایا گیا تھا، ان سیاسی نوسربازوں نے اپنے عمل سے وہ بوتل ہی توڑ دی، جس کے نتیجے میں اب جن آزاد ہے اور مسلسل عوامی و سیاسی آزادی سلب کرتا رہے گا۔ یہ محض ایک سیاسی استعارہ نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ کا ایک تلخ سبق ہے کہ جب ریاستی طاقت کو آئینی حدود سے آزاد کر دیا جائے، سیاسی جماعتیں اپنے فوری مفاد کے لیے غیر جمہوری مداخلت کا راستہ ہموار کریں اور عوامی نمائندگی کو اقتدار کی جنگ میں ثانوی حیثیت دے دی جائے، تو طاقت کسی ایک جماعت کی وفادار نہیں رہتی بلکہ وہ اپنے مفاد کے مطابق دوست اور دشمن تبدیل کرتی رہتی ہے۔
پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انہوں نے تاریخ سے سبق سیکھنے کے بجائے تاریخ کو ہمیشہ اپنے مفادات کے مطابق استعمال کیا ہے۔ ایک دور میں جو جماعت اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی مداخلت کے خلاف آواز اٹھاتی ہے، اگلے ہی دور میں وہی جماعت اسی مداخلت سے فائدہ اٹھانے کی خواہش پال لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میثاقِ جمہوریت جیسے اہم معاہدے محض کاغذی دستاویز بن کر رہ جاتے ہیں، کیونکہ ان پر دستخط کرنے والوں کے نزدیک جمہوری اصولوں کی پاسداری سے زیادہ اہم اقتدار تک رسائی حاصل کرنا ہوتا ہے۔
تاہم اس تمام تر مایوس کن صورتِ حال کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ عوام بھی جمہوریت سے دست بردار ہو جائیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک ایسے نظام کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں جس میں عوام ووٹ تو دیں مگر فیصلوں پر ان کا اختیار بالکل محدود ہو؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے، تو پھر جمہوریت کی فاتحہ پڑھنے سے زیادہ ضروری اس کے نام پر ہونے والے سیاسی فریب کی فاتحہ پڑھنا ہے۔
پاکستان کو آج کسی نئے سیاسی نعرے، کسی نئے معاہدے یا کسی نئے نجات دہندہ کی نہیں، بلکہ آئین کی بالادستی، پارلیمان کے احترام، شفاف انتخابات اور سیاسی جماعتوں کے غیر مشروط جمہوری رویے کی سخت ضرورت ہے۔ ورنہ اقتدار کی اس جاری جنگ میں آج کا فاتح کل کا شکست خوردہ ہوگا، اور عوام ہر بار کی طرح اپنے ہی ملک میں اپنے بنیادی حقوق کی تلاش میں سرگرداں رہیں گے۔
جمہوریت کی اصل موت تب نہیں ہوتی جب کوئی حکومت ختم ہوتی ہے، بلکہ اس وقت ہوتی ہے جب سیاسی جماعتیں اصولوں کو مفادات پر قربان کر دیں اور عوام بھی اس منافقت کو معمول سمجھ کر قبول کر لیں۔ شاید پاکستان کا سب سے بڑا سیاسی المیہ یہی ہے کہ یہاں جمہوریت کے دشمن صرف وہ نہیں جو اسے ختم کرنا چاہتے ہیں، بلکہ وہ بھی ہیں جو اس کا نام لے کر اسے اندر سے کمزور کرتے ہیں۔














