اقبال کا خواب اور حقیقت کا پاکستان!!!

0
1

کبھی کبھی تاریخ کے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھنے کو جی چاہتا ہے سوچتی ہوں، اگر آج علامہ محمد اقبال ہمارے درمیان موجود ہوتے اور پاکستان کو دیکھتے تو ان کی آنکھوں میں اطمینان اترتا یا کسی ادھورے خواب کی کسک جاگ اٹھتی؟ کیا وہ ہماری کامیابیوں پر مسکراتے یا ہم سے پوچھتے کہ جس منزل کے لیے شعور بیدار کیا تھا،اس کی طرف تم نے کتنے قدم بڑھائے؟اقبال محض شاعر نہیں، ایک مفکر اور بیداری کی آواز تھے ان کی شاعری انسان کو اپنی صلاحیت پہچاننے، کردار سنوارنے اور حالات کے سامنے ہتھیار نہ ڈالنے کا درس دیتی ہیان کے ہاں خودی، خود پسندی نہیں بلکہ اپنی قدر پہچاننے اور ذمہ داری نبھانے کا شعور ہے وہ ایسے انسان کے خواہاں تھے جو اپنی آزادی کے ساتھ دوسروں کی عزت اور حقوق کا بھی محافظ ہو 1930 کے خطب? الٰہ آباد میں اقبال نے شمال مغربی ہندوستان کے مسلم اکثریتی علاقوں کو ایک سیاسی وحدت میں یکجا کرنے کا تصور پیش کیا یہ تصور بعدازاں تحریکِ پاکستان کی فکری بنیادوں کا اہم حصہ بنا تاہم ان کے پیغام کو صرف نقشے کی تبدیلی تک محدود کرنا اس کی وسعت گھٹانا ہے اصل سوال یہ بھی ہے کہ اس سرزمین پر بسنے والوں کی زندگی کتنی باوقار ہوئی؟آج پاکستان کو دیکھتے ہوئے امید اور اضطراب ساتھ چلتے ہیں ایک طرف نوجوانوں کی صلاحیت، محنت اور آگے بڑھنے کی خواہش ہے، دوسری طرف تعلیم میں تفاوت، معاشی دباؤ، بے روزگاری اور ناانصافی جیسے مسائل ہیں جب کسی بچے کا مستقبل اس کی قابلیت کے بجائے گھر کے وسائل سے طے ہونے لگے تو مساوی مواقع کا خواب سوال بن جاتا ہے ہم اقبال کے اشعار پڑھتے ہیں، ان کی تصاویر سجاتے ہیں اور ان کے نام پر تقاریب منعقد کرتے ہیں؛ لیکن اصل خراجِ عقیدت کیا ہے؟ کیا خودداری کا درس دہرانا کافی ہے، اگر ہم روزمرہ معاملات میں دیانت اختیار نہ کریں؟ کیا نوجوان کو شاہین کہنا کافی ہے، اگر اس کے لیے معیاری تعلیم، سوال کرنے کی آزادی اور محنت کے منصفانہ مواقع فراہم نہ کیے جائیں؟اقبال کے خواب کی تعبیر کا راستہ ہماری اجتماعی اور انفرادی ذمہ داریوں سے گزرتا ہیحکومت کے لیے انصاف اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی ضروری ہے تو شہری کے لیے قانون کا احترام، دیانت اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنااستاد تحقیق کا شوق پیدا کرے، والدین برداشت سکھائیں اور اہلِ قلم نفرت کے بجائے شعور بانٹیں تبدیلی تبھی معتبر ہوگی جب ہمارے دعووں اور عمل کا فاصلہ کم ہوگا 9 نومبر ہمیں محض ایک عظیم شاعر کو یاد کرنے کا نہیں، اپنے قومی رویوں کا جائزہ لینے کا موقع بھی دیتا ہیاختلاف کو دشمنی بنائے بغیر، تعلیم، انصاف اور انسانی احترام کو ترجیح دے کر ہم اس خواب کے قریب پہنچ سکتے ہیں پاکستان کا وجود ہماری تاریخ کا روشن باب ہے، مگر ایک منصفانہ معاشرے کی تعمیر مسلسل جدوجہد چاہتی ہیاقبال کو یاد کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ہم خود سے پوچھیں: ہم نے اپنے حصے کی روشنی کہاں جلائی؟۔
٭٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here