امریکہ میں میڈکیڈ اور پوسٹل فراڈ کے بعد اب ہمارے بنگالی بھائیوں کا ویزا اسکینڈل سامنے آیا ہے۔ کینیڈا بارڈر سروسز ایجنسی نے ملک کے امیگریشن نظام کو دھوکہ دینے اور جعلی دستاویزات پر کینیڈین ویزے حاصل کرنے والے ایک منظم بین الاقوامی گروہ کا پردہ چاک کرتے ہوئے پانچ بنگلہ دیشی شہریوں کے خلاف مجرمانہ سازش کے تحت باضابطہ قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔
کیوبیک کی ویلی فیلڈ عدالت میں پیش کیے جانے والے اس سنگین ویزا اسکینڈل میں 209 بنگلہ دیشی شہریوں کو کینیڈا داخل کروانے کے لیے 250 رہائشی ویزا درخواستیں جمع کروائی گئی تھیں۔ کینیڈین بارڈر حکام نے مونٹریال سے راشد مرزا اور محمد امین الاسلام، جب کہ ٹورنٹو سے محمد مدثر عالم سمیت چار افراد کو حراست میں لے کر عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے، جب کہ گروہ کا پانچواں مرکزی ملزم محمد رقیب الحسن اس وقت بنگلہ دیش میں موجود ہے جس کی گرفتاری کے لیے باقاعدہ بین الاقوامی وارنٹ جاری کیے جا چکے ہیں۔
اس گروہ کی کارروائیوں کا طریقہ انتہائی شاطرانہ تھا۔ اس میں کینیڈین شہریوں کو فرضی میزبان کے طور پر پیش کیا جاتا تھا اور دعویٰ کیا جاتا تھا کہ وہ درخواست گزاروں کے قریبی شناسا، رشتہ دار یا کاروباری اسپانسرز ہیں جو انہیں نجی بنیادوں پر کینیڈا کا دورہ کروانا چاہتے ہیں۔ امیگریشن حکام کو دھوکہ دینے کے لیے نہ صرف کینیڈین شہریوں کے جعلی دعوت نامے تیار کیے جاتے تھے، بلکہ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے درخواست دہندگان کے فرضی بینک اکاؤنٹس، جعلی ملازمت کے ریکارڈ اور گمراہ کن وضاحتی حلف نامے بھی فائل کا حصہ بنائے جاتے تھے۔ اس جعل سازی کے بدلے امیدواروں سے بھاری رقم بٹوری جاتی تھی تاکہ انہیں کینیڈین ویزا اور بعد میں ملک کے اندر غائب کروانے یا سیاسی پناہ کی درخواستیں داخل کروانے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ کینیڈین بارڈر ایجنسی کے مطابق اس نیٹ ورک کا سراغ جولائی 2024 میں اس وقت لگا جب کیوبیک کے قصبے مرسیڈ میں ایک نجی رہائش گاہ کی مقامی بلدیاتی اور پولیس معائنے کے دوران امیگریشن قوانین کی مشکوک خلاف ورزیوں کی نشاندہی ہوئی۔ اس کے بعد اگست میں باقاعدہ خفیہ فوجداری انکوائری کا آغاز کیا گیا جس کے نتیجے میں جون 2025 کے دوران کیوبیک اور اونٹاریو کے مختلف علاقوں میں بیک وقت چار مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ ان کارروائیوں میں کمپیوٹر، ہارڈ ڈرائیوز، پرنٹرز اور سینکڑوں مشتبہ ویزا فائلوں سمیت ٹھوس دستاویزی شواہد قبضے میں لیے گئے۔ تفتیش کاروں نے کیس کو عدالت میں مکمل مضبوط بنانے کے لیے 88 انتہائی واضح اور مستند جعلی درخواستوں پر مشتمل شواہد عدالت کے روبرو پیش کیے۔ کینیڈا کے وزیر برائے پبلک سیفٹی گیری آئسڈ سنگاری نے اس کامیاب کارروائی پر بارڈر سروسز کو سراہتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کینیڈا کا امیگریشن نظام انصاف پسندی، دیانت اور قانون کی بالادستی پر قائم ہے، اور جو عناصر دھوکہ دہی سے اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے انہیں سخت ترین قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ گرفتار ملزمان پر امیگریشن اینڈ ریفیوجی پروٹیکشن ایکٹ کے تحت غیر قانونی داخلے کی سازش، جھوٹے شواہد پیش کرنے کی ترغیب دینے اور تارکین وطن سے ملکی قوانین کی خلاف ورزی کروانے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن پر طویل قید اور بھاری جرمانے ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب بارڈر ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ اس جعلی اسکیم کے ذریعے ویزا حاصل کرنے یا کوشش کرنے والے تمام 200 بنگلہ دیشی شہریوں کے نام کینیڈا کے سیکیورٹی نظام میں بلیک لسٹ کر دئیے گئے ہیں اور ان پر کینیڈا میں داخلے کی کم از کم 5 سال کی قانونی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔











