نمودو نمائش پر لٹتی انسانی زندگیاں !!!

0
2
جاوید رانا

امریکہ میں مقیم پاکستانی اور مسلمان کمیونٹی رات دن محنت مشقت کر کے اپنے بچوں کو ایک بہتر اور محفوظ مستقبل دینے کی جدوجہد میں لگی رہتی ہے۔ ہم یہاں اپنی مساجد، اسلامی مراکز اور کمیونٹی کے دیگر اداروں کے ذریعے یہ کوشش کرتے ہیں کہ اپنی نئی نسل کو اچھے اخلاق، سچائی اور محنت کی اہمیت سکھائیں۔ لیکن جب ہم اپنے اصل وطن کی طرف نگاہ اٹھاتے ہیں تو وہاں سے ایسی عجیب اور دکھی کر دینے والی خبریں آتی ہیں جو ہماری تمام امیدوں پر پانی پھیر دیتی ہیں۔ حال ہی میں سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے ایک مشہور ٹک ٹاکر ”مسٹر پتلو”کی شادی کے موقع پر جو تماشا ہوا، جس میں مفت کی موٹر سائیکلوں، گاڑیوں اور پانچ ہزار کے نوٹ فضا میں اچھالنے کے لالچ میں ہزاروں لوگ جمع ہو گئے، وہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ہمارے پورے معاشرے کی زوال پذیری کا آئینہ ہے۔ اس واقعے میں بدقسمتی سے دو قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو گئیں اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ صرف چند موٹر سائیکلوں،گاڑیوں اور نام ونمود کے لیے انسانوں کا یوں کچلا جانا ایک ایسا المیہ ہے جس پر جتنا بھی رویا جائے کم ہے۔
ہمیں اس بات پر گہری فکر کے ساتھ سوچنا ہوگا کہ ہمارا معاشرہ کس سمت جا رہا ہے؟ ایک ایسا ملک جہاں نصف کے قریب آبادی غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے، جہاں لوگ بنیادی سہولتوں، علاج اور روٹی کو ترستے ہیں، وہاں ایسے واقعات غریبوں کا مذاق اڑانے کے برابر ہیں۔ جب چند منٹوں کی شہرت اور چند موٹر سائیکلوں کا لالچ دے کر غریب اور مجبور عوام کو اکٹھا کیا جاتا ہے تو یہ کوئی خدمت نہیں بلکہ ان کی مجبوری کا سراسر استحصال ہے۔ امریکہ میں بیٹھے پاکستانی جب یہ مناظر انٹرنیٹ کی مختلف پلیٹ فارمز پر دیکھتے ہیں تو ان کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ ہم یہاں غیر ملکیوں کو یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان ایک غیور، بااخلاق اور محنتی قوم کا نام ہے، لیکن انٹرنیٹ کی یہ بیہودہ نمائش ہمارے اس دعوے کو جھوٹا ثابت کر دیتی ہے۔ وہ لوگ جو معاشرے میں کوئی مثبت کام نہیں کر رہے، جو نہ کوئی علم پھیلا رہے ہیں اور نہ ہی کسی کی حقیقی خدمت کر رہے ہیں، انہیں سوشل میڈیا پرہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو لاکھوں روپے اور ڈالرز کس بات کے ملتے ہیں؟ کیا صرف اس لیے کہ وہ غریبوں کو لالچ دے کر اپنی ذاتی تشہیر کریں اور ان کی جانوں کو خطرے میں ڈالیں؟
یہ مسئلہ صرف ان انٹرنیٹ پر کام کرنے والوں تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ ہماری پوری انتظامیہ اور حکمرانوں کی نااہلی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان میں جب کوئی جماعت اپنے حق کے لیے یا کوئی سیاسی یا مذہبی گروہ اپنا احتجاج درج کرانے کے لیے باہر نکلتا ہے تو سڑکوں پر ہزاروں کینٹینر لگا دئیے جاتے ہیں اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی جاتی ہے۔ لیکن جب ایک نجی شادی کی تقریب میں موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کی نمائش کا کھلم کھلا اعلان کیا گیا اور ہزاروں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا تو وہاں سیکیورٹی کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ سرکاری اجازت نامہ دیتے وقت کیا کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اس قدر لالچ اور ہجوم کا انجام کیا ہو سکتا ہے؟ معاہدوں اور حلف ناموں کا وجود کاغذ پر ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا جب تک کہ ان پر عمل درآمد نہ ہو۔ حکمرانوں اور اعلیٰ حکام کو اس بات کا جواب دینا ہوگا کہ ایک فرد کی ذاتی نمائش کے لیے پورے شہر کو حادثے کے منہ میں کیوں دھکیل دیا گیا؟
پاکستانی امریکی کمیونٹی کے لیے یہ صور ت حال دوہرے اندیشے کا باعث ہے۔ یہاں امریکہ میں ہمارے بچے جن پر یہاں کی رنگین اور آزاد دنیا کا اثر پہلے سے موجود ہے، جب وہ اپنے وطن کے ایسے مناظر دیکھتے ہیں تو ان کے ذہن میں محنت اور صداقت کی قدریں کمزور پڑنے لگتی ہیں۔ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے علم، اعلیٰ تعلیم اور حلال کی روزی سے زیادہ شاید انٹرنیٹ پر بیہودگی، نمائش اور شور شرابا اہم ہے۔ ہم جن اخلاقی قدروں کی حفاظت یہاں پردیس میں کر رہے ہیں، ان قدروں کو وطن عزیز میں کھلم کھلا پامال کیا جا رہا ہے۔ ہمارے بچوں کا یہ سوال بجا ہے کہ اگر یہ کمائی اور یہ شہر ت غلط ہے تو معاشرہ اس کو اتنی عزت اور مقبولیت کیوں دے رہا ہے؟
ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہماری قوم اس وقت ایک اخلاقی اور فکری بحران سے گزر رہی ہے۔ لالچ، خود نمائی اور فوری شہرت کی طلب نے ہمیں اندھا کر دیا ہے۔ شادیوں اور دیگر تقریبات میں کروڑوں روپے کے نوٹ لٹانا، قیمتی گاڑیاں تقسیم کرنا اور اس کا ڈراما بنا کر انٹرنیٹ پر نشر کرنا ایک ایسی بیماری بن چکی ہے جو ہماری نسوں میں پھیل رہی ہے۔ غریب انسان اپنے حالات سے تنگ ہو کر اپنے حق کے لیے سڑکوں پر نہیں نکلتا، وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور تیل کی قیمتوں پر آواز نہیں اٹھاتا، لیکن پانچ ہزار کے نوٹ اور ایک موٹر سائیکل کے لالچ میں اپنی جان داؤ پر لگانے کے لیے فوراً پہنچ جاتا ہے۔ یہ سوچ ہمارے معاشرے کو کھوکھلا کر رہی ہے۔
میں یہ اپیل کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ حکومت پاکستان، قانون نافذ کرنیوالے ادارے اور بالخصوص وہ ادارے جو انٹرنیٹ اور ذرائع ابلاغ کی نگرانی کرتے ہیں، اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔ انٹرنیٹ کے ذریعے کی جانیوالی اس سستی شہرت اور نمود و نمائش پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں۔ ایسے تمام پروگراموں اور اجتماعات پر مکمل روک تھام ہونی چاہیے جو عوام کی سادگی اور غریبی کا فائدہ اٹھا کر انہیں خطرے میں ڈالتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم تارکین وطن کو بھی اپنے وطن کے رشتوں سے جڑے رہتے ہوئے وہاں کی اصلاح کے لیے اپنی آواز بلند کرنی ہوگی۔ اگر ہم نے آج اس اخلاقی زوال کیخلاف آواز نہ اٹھائی اور اس منفی کلچر کو یوں ہی پنپنے دیا، تو ہماری آنیوالی نسلیں نہ صرف اپنی اصل شناخت بھول جائیں گی بلکہ ہم بحیثیت قوم دنیا میں کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے وطن اور ہماری قوم کو ہدایت اور سلامتی عطا فرمائے۔ آمین ثمہ آمین

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here