محترم قارئین کرام آپکی خدمات میں سید کاظم رضا نقوی کا سلام پہنچے آجکل جس نفسانفسی کا دور ہے لوگ مرد و عورت بزرگ سب ہی اس سے متاثر ہیں نوجوان شادیاں نہیں کررہے اور کرتے ہیں تو زمہ داری نہیں اٹھارہے والدین بوجھ لگتے ہیں اب تو میاں بیوی بھی بوجھ لگنے لگے ہیں اپنے ہی اولاد ایسا رویہ ہمیشہ سے رکھتی آء تھی لیکن جس طرح رشتوں کی بے توقیری کا چلن عام ہوا اب یہ لوگوں کی جانیں لے رہا ہے مندرجہ زیل کہانی ہے ایک سرپھرے شوھر کی جس سے تنگ آکر لڑکی خلع لیتی ہے والدین کے گھر جان بچا کر آتی ہے لیکن پھر ایک اندوھناک واقعہ ہوتا ہے کیا وہ آپ آگے پڑھیں یہ کہانی آپ کو یا حساس طبعیت رکھنے والوں کو متاثر کرسکتی ہے تنبیہ ہے اس وجہ سے اگر ایسی طبعیت ہے یہاں پڑھنا بند کردیں باقی لوگ مطالعہ جاری رکھیں میرا گھر نہ بسا تو میں سب کے گھر اجاڑ دونگا۔۔۔۔۔ ایک ہفتہ قبل شیخوپورہ کے نواحی گاؤں میں ایک ہی گھر کی تین خواتین کا قتل۔۔۔۔ واقعہ کی اصل کہانی سامنے آگئی۔۔۔۔ انتل عباس کی شادی ماریہ بی بی سے لگ بھگ ڈیڑھ سال قبل ہوئی ، دو ماہ تو انتل بالکل ٹھیک رہا مگر اسکے بعد اس کا اصل روپ سامنے آگیا وہ بات بات پر ماریہ کو مارتا پیٹتا ، سوئی ہوئی کو مارنا شروع کردیا ، ٹانگ مار کر بیڈ سے نیچے پھینک دیتا اور باہر کی باتوں کا غصہ گھر آکر بیوی پر نکالتا۔اس دوران ماریہ نے ایک بیٹے کو بھی جنم دے دیا جو اب 6 ماہ کا ہے ایک دو بار تو ماریہ میکے آئی اور پھر پیچھے سے شوہر کے آنے اور منت سماجت پر اسکے ساتھ واپس چلی گئی لیکن آخری بار 2 ماہ قبل انتل نے ماریہ کو اتنا مارا کہ اسکا 2 ماہ کا حمل بھی ضائع ہو گیا یہ ماں باپ کے پاس آگئی اور واپس جانے سے انکار کردیا ، والد کے پیر پکڑ کر ماریہ نے کہا کہ مجھے واپس نہ بھیجو میں خلع لے لونگی ساری زندگی آپ کی خدمت کرونگی لیکن اگر مجھے اس جانور کے ساتھ واپس بھیجو گے تو وہ مجھے مار دے گا ، اس کے بعد انتل نے ماریہ کو لے جانے کی بہت کوشش کی لیکن ماریہ کے والدین اور بہن بھائیوں نے انکار کردیا ، یہ ہر دو چار روز بعد آتا اور ڈرا د۔ھمکا کر چلا جاتا لیکن ماریہ کو والدین نے حفاظت کی خاطر لاہور میں رشتہ داروں کے گھر بھیج دیا۔ ملزم انتل عباس کی د۔ھمکیوں پر ماریہ کے والدین اور بھائیوں نے بار بار تھانے درخواست دی مگر پولیس نے روایتی سستی سے کام لیا اور کوئی قدم نہ اٹھایا نتیجتا لگ بھگ ایک ہفتہ قبل ملزم انتل عباس اپنے چھوٹے بھائی ارسلان کے ساتھ مسلح ہو کر ماریہ کے والدین کے گھر آیا اور یہاں انہیں جو نظر آیا اسے گولیاں مار دیں اس واقعہ میں ماریہ کی والدہ ، بڑی بہن اور بھابھی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں ، تینوں خواتین کو چہروں پر گو۔لیاں ماری گئیں مگر مقام افسوس ہے کہ دونوں خطرناک ملزمان جنہیں اس وقت سی سی ڈی کے حوالے ہو جانا چاہیے تھا ابھی تک آزاد اور دندناتے پھر رہے ہیں۔ ماریہ کو جان کا خطرہ بدستور موجود ہے کیونکہ اسکا پہلا ہدف ماریہ تھی اور اسے غصے تھا کہ وہ اسکے ساتھ واپس گھر کیوں نہیں آرہی جبکہ ماریہ نہ صرف عدالت کے ذریعہ شوہر سے خلع لے چکی تھی بلکہ چند ماہ کے بیٹے کی حوالگی بھی حاصل کر چکی تھی ، ملزم انتل نے اسے د۔ھمکی دی تھی کہ اگر میرا گھر نہ بسا تو میں سب کے گھر اجاڑ دونگا۔ اور افسوس وہی ہوا کئی گھر اجڑ گئے۔ تین شادی شدہ خواتین ناحق ماری گئیں جن میں سے ایک صرف 22 روز کی دلہن تھی۔۔۔۔۔۔ حکام بالا پولیس سے درخواست ہے کہ اس واقعہ کے ذمہ دار ملزمان بھائیوں کو فوری گرفتار کیا جائے کیونکہ شیخوپورہ کے گاؤں ٹھٹھہ علی کے اس بدقسمت خاندان کو اب بھی ملزموں سے جان کا شدید خطرہ لاحق ہے۔۔۔۔ عدم برداشت پر جانی خطرات اور ایسے جان لیوا حملے اس پر قانون سازی کی ضرورت ہے ایسے درندے جو جان لینے میں زرا تاخیر نہ کریں ان کو کنٹرول کرنا کس کی زمہ داری ہے یہاں محکمہ قانون پولیس اور حکومت کہاں ہے شھریوں کی جان و مال کا تحفظ سرکار کی زمہ داری ہے !! ایسے سر پھروں سے نمٹنے کا اضافی کام اب سی ٹی ڈی بحسن و خوبی کررہی ہے “اللہ دا واسطہ جے مینوں بچا لو ” عدالت پیشی پر بیوی کی منت کرنے والا زیر حراست ملزم پولیس مقابلے میں پار۔۔۔۔ شاہ زیب عرف زیبی بٹ کل یکم نومبر کو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا۔ اپنے انجام سے قبل سوشل میڈیا پر ایک وائرل ویڈیو میں زیبی بٹ نے بیوی سے اسے بچا لینے کی درخواست کی تھی اور اپنے ماورائے عدالت ق۔ت۔ل کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔شاہ زیب عرف زیبی بٹ یکم نومبر کو لاہور میں ایک مبینہ پولیس مقابلے کے دوران انجام کو پہنچا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو ریکوری کے لیے لے جایا جا رہا تھا جہاں اس کے مسل۔ح ساتھیوں نے فا۔ئیرنگ کر دی۔سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو مبینہ طور پر ہلا کت سے ایک روز قبل کی ہے، جب شاہ زیب کو 30 اکتوبر کو عدالت سے حاصل کیے گئے چار روزہ ریمانڈ کے سلسلے میں پیشی کے لیے لایا گیا تھا۔ملزم کا کہنا تھا کہ ایک سیاسی جماعت سے سیاسی مخالفت کی وجہ سے ان کے مخالفین اسے مبینہ پولیس مقابلے میں مروانا چاہتے ہیں۔ زیبی بٹ نے کہا تھا کہ اس کے مخالفین انتہائی طاقتور ہیں۔پولیس کے مطابق شاہ زیب عرف زیبی بٹ کے خلاف اقدامِ ق۔ت۔ل، ق۔ت۔ل اور بھتہ خوری سمیت سنگین نوعیت کے 20 سے زائد مقدمات درج تھے اور اسے شاہدرہ ٹاؤن پولیس نے بھتہ مانگنے کے ایک مقدمے میں کوہاٹ سے گرفتار کیا تھا۔ وائرل ویڈیو کے حوالے سے سی سی ڈی نے بھی ایک پیغام جاری کیا ہے جس میں میں واضح کیا ہے کہ ان کے ادارے کا ملزم شاہ زیب عرف زیبی بٹ کے خلاف مقدمہ کی تفتیش یا اس کی ہلا۔کت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تو قارئین یہ دو واقعات اور ان سے جڑے حقائق آپ کو قانون سے جڑے سوالات معاشرے کے جنونی پن اور اس کے نتیجے میں اجڑنے والی نسل اپنے گھر والوں اور ہم سے جوان چاھتی ہے ہم ان کو کیا بتائیں کہ لکھ کر اپنا غم غلط کرلیتے ہیں اور دعا کرتے ہیں لوگ رشتوں کے تقدس کو قائم رکھیں اور خود غرضی کینہ پروری اور خود پسندی کے خول سے نکل کر انسانیت کی خدمت کریں زمہ دار بنیں خود دار بنیں بے حس نہ بنیں کہ وہ صرف مردے پر ہی سجتی ہے دعائیں اور نیک تمنائیں کے ساتھ ملتے ہیں ۔
٭٭٭٭٭٭٭













