فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ
محترم قارئین! اولاد اللہ تعالیٰ کا بڑا اقدام ہے، ان کی پیدائش پر خوش ہونا چاہئے، ایک دوسرے کو مبارک دینی چاہئے۔ خیروبرکت کی دعائیں کرنی چاہئیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے آپ کو اپنے ایک بندے کی پرورش کی توفیق بخشی۔ اور یہ موقع فراہم کیا کہ آپ اپنے پیچھے اپنے دین ودنیا کا جا نشین چھوڑ جائیں۔ اگر اولاد نہ ہو تو اللہ تعالیٰ سے نیک صالح اولاد کی دعا کرتے رہنا چاہئے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبر کرتے رہے ہیں۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السّلام نے جو دعا کی اللہ تعالیٰ نے اسے قرآن پاک کا حصہ بنا دیا۔ ترجعہ:” اے میرے رب! مجھے نیک صالح اولاد عطا فرما تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس دعا کے عوض حضرت اسماعیل علیہ السّلام کی صورت میں بیٹا عطا فرمایا پھر حضرت اسحاق علیہ السّلام کی صورت میں بیٹا عطا فرمایا اور تیسرا بیٹا مدین عطا فرمایا۔
پھر حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا کو بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کا حصہ بنا دیا: ترجعہ:”اے میرے رب تو اپنے پاس سے مجھے پاک باز اولاد عطا فرما، بے شک تو دعا کا سننے والا ہے” اولاد کی پیدائش پر کبھی دل تنگ نہیں ہونا چاہئے۔ معاشی تنگی یا صحت کی خرابی یا کسی اور وجہ سے اولاد کی پیدائش پر کڑھنے یا اس کو اپنے حق میں ایک مصیبت سمجھنے سے سختی کے ساتھ بچنا چاہئے۔ اولاد کو کبھی ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ پیدا ہونے سے پہلے یا پیدا ہونے کے بعد اولاد کو ضائع کرنا بدترین سنگ دلی، بھیانک ظلم، انتہائی بزدلی اور دونوں جہان کی تباہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ترجعہ:”وہ لوگ انتہائی گھاٹے میں ہیں جنہوں نے اپنی اولاد کو ناسمجھی میں اپنی حماقت سے موت کے گھاٹ اتار دیا”۔ اور اللہ تعالیٰ نے انسانی کوتاہ نظری کا دل نشین جواب دیتے ہوئے صاف صاف ممانعت فرمائی ہے کہ اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔ ترجعہ:”اور اپنی اولاد کو فقر وفاقے کے خوف سے قتل نہ کرو۔ ہم ان کو بھی رزق دیںگے اور ہم ہی تمہیں بھی رزق دے رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اولاد کا قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے””ایک بار ایک صحابی نے دریافت کیا یارسول اللہۖ ! سب سے بڑا گناہ کیا ہے؟ فرمایا شرک، پوچھا اس کے بعد فرمایا والدین کی نافرمانی، پھرپوچھا اس کے بعد، فرمای، تم اپنی اولاد کو اس ڈر سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گی” ولادت کے وقت ولادت والی عورت کے پاس آیت الکرسی اور سورة الاعراف کی آخری دو آیتیں، سورہ فلق اور سورہ ناس پڑھ کر دم کرنا چاہئے۔ ولادت کے بعد نہلا دھلا کر دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہنی چاہئے۔ جب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوئی تو نبی کریمۖ نے ان کے کان میں اذان واقامت فرمائی۔(طبرانی) اورنبی کریمۖ نے یہ بھی فرمایا کہ جس کے یہاں بچے کی ولادت ہو اور وہ اس بچے کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہے تو بچہ ام العبیان کی تکلیف سے محفوظ رہے گا۔ یہ مرگی کی بیماری ہے جو بچوں کو فاسد ہوا لگنے کی وجہ سے ہو جاتی ہے اور بچے سے مرض میں بیہوش ہو جاتے ہیں۔
پیدا ہوتے ہی بچے کے کان میں اللہ اور اسکے رسولۖ کا نام لینے میں بڑی حکمت ہے۔ انسان کے کان میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور کبریائی کی آواز پہنچے اور جس شہادت کو وہ شعوری طور پر ادا کرنے کے بعد داخل اسلام ہوگا اس کی تلقین پیدائش کے دن ہی کر دی جائے۔ جس طرح مرنے کے وقت اس کو کلمہ توحید کی تلقین کی جاتی ہے۔ اذان اور اقامت کا دوسرا فائدہ یہ بھی ہے کہ شیطان جو گھات میں بیٹھا ہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ پیدا ہوتے ہیں انسان کو آزمائش میں مبتلا کرے اذان سنتے ہی بھاگ جاتا ہے اور شیطان کی دعوت سے پہلے بچے کو اسلام اور عبادت الٰہی کی دعوت دے دی جاتی ہے۔ بچے کا اچھا نام تجویز کرنا چاہئے۔ اور تخیک یعنی گھٹی بھی اچھے انسان سے دلوانی چاہئے۔ نام پیغبمروں اور اولیاء کرام علیھم السّلام اور صحابہ وصحابیات رضی اللہ عنھم کے ناموں پر رکھنے چاہئیں نہ کہ فلمی ایکٹروں اور دیگر دنیاوی عہدوں والوں کے ناموں پر ساتویں دن عقیقہ کرنا چاہئے۔ لڑکے کی طرف سے دو بکرے اور لڑکی کی طرف سے ایک بکرا۔ یا پھر گائے اونٹ وغیرہ میں لڑکے کی طرف سے دو حصے اور لڑکی کی طرف سے ایک حصہ کرنا چاہئے۔ بچے کے سر کے بال منڈوا کر اس کے برابر چاندی یا سونا خیرات کرنی چاہئے۔ نبی پاکۖ کا فرمان ہے:ساتویں روز بچے کا نام تجویز کیا جائے اور اس کے بال وغیرہ اتروا کر اس کی طرف سے عقیقہ کیا جائے۔ ساتویں دن ختنہ بھی کروا دیا جائے۔ اگر کمزوری وغیرہ کی وجہ سے رہ جائے تو جلدی کیا جائے کہ یہ اسلامی شعار ہے۔ جب بچہ بولنے لگے تو سب سے پہلے کلمہ طیبہ اور تسمیہ اس کو سکھایا جائے۔ اللہ تعالیٰ اولاد والوں کی اولاد کو نیک کرے اور بے اولادوں کو نیک صالح اولاد عطا فرمائے(آمین)۔
٭٭٭٭٭











